تحریک انصاف کا اتار چڑھائو

Political Dairyفاروق اعظم…… سیاسی ڈائری
پاکستان کے سیاسی افق پر تحریک انصاف کے وجود کو دو عشروں سے زیادہ ہوچکے ہیں، تاہم اس کو عوامی سطح پر توجہ 2011ءمیں ملی۔ 2013ءتک تحریک انصاف نے ملک بھر میں زبردست عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران کئی بڑے نام پی ٹی آئی کا حصہ بنے، جن میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما بھی شامل تھے۔ نتیجے کے طور پر2013ءکے عام انتخابات میں پی ٹی آئی تیسری قوت بن کر ابھری۔ اگرچہ دوران انتخابات عمران خان وفاق میں اپنی حکومت کا خواب دیکھ رہے تھے، لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ ان کے حصے میں صرف خیبر پختون خوا کی حکومت آئی۔ وزارت عظمیٰ سے محرومی عمران خان کے لیے کسی اذیت سے کم نہ تھی۔ سو انہوں نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے ملک بھر میں نواز لیگ کے خلاف تحریک چلائی۔ نواز حکومت کو گھر بھیجنے کی غرض سے 2015ءمیں پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے چار ماہ تک دھرنا بھی دیا۔ بعد ازاں عمران خان نے دھاندلی سے کرپشن کی جانب توجہ مبذول کی۔ اس دوران 2016ءمیں پوری دنیا میں تہلکہ مچانے والی پاناما پیپرز لیکس کا چرچا ہوا، جس نے عمران خان کے لیے کام آسان کردیا۔ پاناما لیکس کو بنیاد بناکر عمران خان ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف بڑھے اور لاک ڈاﺅن کی دھمکی دیتے ہوئے نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ بالآخر پاناما اسکینڈل کو سپریم کورٹ میں قابل سماعت قرار دیا گیا۔ اسی کیس کی بنا پر نواز شریف نااہل ہوئے اور وزارت عظمیٰ سے فارغ کیے گئے۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے سے عمران خان کے مو ¿قف کو تقویت ملی اور ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، تاہم نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد عمران خان کے لیے میدان خالی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے زبردست عوامی مہم چلاکر اپنی مظلومیت کا رونا رویا اور یہ باور کرایا کہ انہیں کرپشن پر نہیں، بطورِ انتقام نکالا گیا ہے۔

تحریک انصاف اور نواز لیگ کی نوک جھوک سے گزشتہ پانچ سال ہنگاموں سے بھرپور رہے۔ اگر ایک طرف عمران خان کی حمایت میں اضافہ ہوتا تو دوسری جانب ان کی رنگین زندگی کا کوئی اسکینڈل منظر عام پر آتا اور ان کی مقبولیت کا گراف گرا دیتا۔ اتار چڑھاﺅ کے اس سلسلے میں نون لیگی حکومت مدت پوری کرگئی اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے منادی کرادی۔ الیکشن سے قبل کے یہ دو ماہ بھی دونوں حریفوں کے لیے مشکل ترین ثابت ہو رہے ہیں۔ ابتدا میں دونوں جماعتیں ٹکٹوں کی تقسیم پر گروہ بندی کا شکار ہوئیں۔ متعدد دیرینہ امیدواران وکارکنان نظر انداز کیے جانے پر اپنی وفاداریاں بدل گئے۔ اس دوران عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی غیر مطبوعہ کتاب نے بھی تحریک انصاف کو اپ سیٹ کیے رکھا۔ تاہم ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا سے عمران خان ایک بار پھر صورت حال اپنے حق میں موافق پارہے ہیں۔

تحریک انصاف کو اس بات کا اندازہ ہے کہ رائے عامہ سو فیصد ان کے حق میں نہیں۔ اس تناظر میں رائے دہندگان کی آراءجاننے کے لیے گیلپ اور پلس سروے کی رپورٹ قابل توجہ ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق 26 فیصد ووٹرز نے مسلم لیگ ن اور 25 فیصد نے تحریک انصاف کی طرف جھکاﺅ ظاہر کیا ہے، جب کہ 20 فیصد ووٹرز تذبذب کا شکار ہیں۔ اسی طرح پلس سروے کے مطابق 30 فیصد ووٹرز تحریک انصاف اور 27 فیصد ووٹرز مسلم لیگ ن کو بہتر آپشن سمجھتے ہیں، جب کہ تذبذب کے شکار ووٹرز 14 فیصد ہیں۔ یہ دنوں سروے ماہ مئی میں کیے گئے اور اس کے لیے تین تین ہزار مرد و خواتین سے رائے لی گئی۔ بظاہر ان دونوں سروے رپورٹس میں کوئی بڑا فرق نہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن اس وقت منظر نامے پر چھائے ہوئے ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت کا گراف ان دونوں جماعتوں سے کہیں نیچے ہے۔ تاہم اس کے باوجود بھی تحریک انصاف کے لیے حالات کھلی طور پر سازگار نہیں۔ ن لیگ اپنے قائد کو سزا ہونے کے باجود انتخابات میں مخالفین کو ٹف ٹائم دینے پر تلی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف نے بھی ن لیگ کے قلعے پنجاب میں دراڑیں ڈالنے کے لیے اپنے طور پر بھرپور تیاری کر رکھی ہے۔ ایک طرف ن لیگ سے راہیں جدا کرنے والے جنوبی پنجاب کے ن لیگی نمائندوں کو پارٹی میں ضم کرلیا گیا تو دوسری جانب الیکٹ ایبلز کے نام پر متعدد امیدواروں کے لیے بھی اپنی صفوں میں گنجائش پیدا کی گئی۔ اس کے ساتھ تحریک انصاف نے آزاد امیدواوں پر بھی نظریں گاڑ رکھی ہیں، تاہم اس تناظر میں چوہدری نثار علی خان کی مقبولیت سے عمران خان خائف نظر آتے ہیں۔ یہ باتیں زیر گردش ہیں کہ بیشتر آزاد امیدوار اور بالخصوص ن لیگی منحرفین چوہدری نثار سے رابطے میں ہیں۔

تحریک انصاف کو پنجاب کے علاوہ خیبر پختون خوا میں بھی سخت مزاہمت کا سامنا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی تمام تر توجہ کے پی کے میں حکومت بنانے پر مرکوز ہے، جہاں سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے امیدواروں سے سخت مقابلے کی توقع ہے۔ دوسری جانب سندھ میں پیپلز پارٹی مقابلے کے لیے کمر بستہ ہے۔ اگرچہ اس مرتبہ کراچی میں ایم کیو ایم کے کمزور پڑنے سے دیگر جماعتیں فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں مگن ہیں۔ عمران خان بھی کراچی کے حلقہ این اے 243 سے امیدوار ہیں، تاہم اس کے باوجود بھی سندھ کے سیاسی منظر نامے سے تحریک انصاف نے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کیں۔ البتہ یہ ضرور کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لیے پیر پگارا کی زیر قیادت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ اس تمام تر صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جس طرح تحریک انصاف مسلسل اتار چڑھاﺅ کے عمل سے گزری ہے، تذبذب کی یہی کیفیت انتخابات میں بھی درپیش رہے گی۔

Top