بارش ہو ئی تو کیا ہو گا؟ (محمد نعیم تبسم)

rain aمیڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک دو دن سے لاہور میں بارش کے بڑے چرچے ہیں۔ بارش سے لطف اندوز ہونے کا ذکر بہت کم ہے۔ موسلا دھار بارش کے بعد گرمی کا زور ٹوٹنے پر کلمہ شکر کہنے والے بھی کم ہی نظر آئے۔ ہاں پیرس پیرس کہ کر خادم اعلیٰ پنجاب کے تعمیری منصوبوں کو تنقید کا خوب نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر تنقید برائے اصلاح ہو تو اچھی بات ہے۔ امید ہے پنجاب کی حکومت نے جس طرح شہر کو خوبصورت بنانے کی کوشش کی ہے، اسی طرح اگر پانی کی نکاسی میں کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہے تو اس جانب بھی جلد توجہ دی جائے گی۔ کامیاب منصوبہ وہی ہوتا ہے جو ہر موسم کی سختی کو برداشت کرے اور اس کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ ابھی لاہور میں بہت سارے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ متعدد جگہہوں پر کھدائی کے باعث شہر میں پانی بہت زیادہ جمع ہوا۔

خیر اس تحریر کا مقصد لاہور کی موجودہ صورتحال کی تعریف یا تنقید کرنا نہیں بلکہ لاہور کی بارش کو سامنے رکھتے ہوئے کسی اور کو جھنجھوڑنے کی کوشش کروں گا۔ اور وہ ہے کروڑوں کی آبادی والا شہر کراچی۔ ویسے تو کراچی میں بارش شاذ و نادر ہی ہوتی ہے، مگر جب برسات کے موسم میں ایک دو بار بادل برستے ہیں تو پھر خوب برستے ہیں۔ کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ اگر کراچی میں بارش ہو گئی تو کیا ہو گا۔ میرے مطابق سمجھ دار لوگوں کے خدشات اور خوف زدہ ہونا بالکل درست ہے۔

شہر قائد کے انتظامی حالات بہت مخدوش ہیں اور برسات کا موسم بالکل قریب آنے کے باوجود کوئی خاص اقدامات ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ جب شہر کے تمام نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہوں، سیوریج کا نظام درہم برہم ہو، عمارتیں بوسیدہ اور سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہوں تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ بارش اہل کراچی پر کیا قیامت ڈھائے گی۔

بارشوں کے دوران زیادہ تر اموات کچی آبادیوں میں چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سے ہوتی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہر سال بارش کے بعد ہم ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں، مگر مجال ہے کہ کوئی ماضی کے کسی سانحے سے سبق حاصل کر کے مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرے۔ شہر کے عوامی نمائندوں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی والوں کو اس وقت سب انتظامات کی ہنگامی یاد آتی ہے جب پانی سر سے گزرنے کی سطح تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔

بجلی کے تار مکڑی کے جالے جیسا ہر جگہ منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ عوام ایسی بوسیدہ عمارتوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں یہ خطرہ ہوتا کہ کسی تیز قدم چلنے یا اونچا بولنے کے صدمے سے کوئی حصہ گر نہ جائے۔ ایسی صورتحال میں بارش حادثات نہیں لائے گی تو پھر اور کیا ثمرات دے گی؟

انتخابات کا وقت بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنی انتخابی مہم میں مگن ہے۔ ایسے میں بارش سے قبل حفاظتی اقدامات کرنے کی نہ کسی کو فکر ہےنہ اتنی فرصت ملے گی۔ مگر تمام سیاسی جماعتیں جو کراچی کے نمائندہ بننے کی دعوے دار ہیں انھیں چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر کچھ اقدامات ضرور کرا لیں۔ اگر شہری حکومت اس حوالے سے غافل ہے تو عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت کچھ پیشگی کام ضرور کر لیں۔

ان میں سے اہم کام یہ ہیں۔ چھوٹے بڑے ندی نالوں کی صفائی کرنا، تاکہ بارش کا پانی آسانی سے نکل جائے اور سڑکوں پر کھڑا نہ ہو۔ انڈرپاسز کے ساتھ بنی نکاسی آب کی نالیوں کو خالی کر لیا جائے۔ ٹوٹے ہوئے تار، عمارتوں کے قریب سے گزرتے ہوئے زیادہ وولٹیج کے تار، سڑکوں کے قریب بوسیدہ درخت، ان سب کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے سے قبل ہمیں نمٹنا ہو گا۔ اسی طرح جن سڑکوں کی کھدائی کی گئی ہے یا وہ منصوبے جو زیر تعمیر ہیں انھیں جلد مکمل کرنا ہو گا، تاکہ بارش کی صورت میں لوگوں کو اذیت سے بچایا جا سکے۔

کے الیکٹرک نے اپنے گاڑیوں پر آگاہی مہم شروع کی ہے اور واضح طور پر یہ پیغام عوام کو دیا ہے کہ ٹوٹے ہوئے بجلی کے تاروں کے پاس ہرگز نہ جائیں۔ لیکن مساجد، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں جا کر بارش کی احتیاطی تدابیر سے متعلق عوام کو آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح میڈیا کے دستیاب تمام ذرائع کو بھی استعمال میں لانا چاہے، اس میں ٹی وی، ریڈیو، اخبارات کے علاوہ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی لوگوں کو خبر دار کیا جا سکتا ہے۔

شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع نہ ہونے کے لیے حکمت عملی طے کرنی ہو گی۔ ایمرجنسی میں کام کرنے والے بڑے پمپوں اور واٹر بورڈ کے عملے کو اسی جگہوں میں تعینات کرنا ضروری ہے جہاں سے وہ جمع ہونے والا پانی فوری طور پر نکال سکیں۔ سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہونے کے بعد ٹریفک جام ہونے لگ جاتا ہے اور گاڑیوں میں پانی بھر جانے کے بعد گاڑیاں بند ہو جاتی ہیں۔ شہریوں کو بارش میں غیر ضروری طور پر سفر سے اجتناب کا مشورہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ اور ساتھ ہی اس کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔

امید ہے معاشرے کا ہر فرد اپنی بساط کے مطابق اپنی ذمہ داری ضرور ادا کرے گا۔ اگر حکومت اور عوام تمام ایک دوسرے کو سہولت پہنچانے کی خلوص کے ساتھ کوشش کریں تو کچھ بعید نہیں کہ نقصانات کم از کم ہوں۔ اور باران رحمت ہماری غفلت سے زحمت نہ بن جائے۔

Top