ہمارا منشور لسانیت نہیں قومیت ہے (انٹرویو، رضا ہارون)

ازقلم: سیدہ حمیرا فاطمہ، سیدہ عنبر فاطمہ
پاک سرزمین پارٹی کہ جس نے سندھ میں نفرتوں کی خلیج کے خاتمے کا نعرہ لگایا۔ سندھی، مہاجر، بلوچ، پشتون اور پنجابی کو لڑانے کے بجائے اتحاد و اتفاق کی بات کی۔ مہاجر نہیں بلکہ قوم کو لے کر چلنے کا عزم کیا۔ جس کے منشور میں تعلیم و شعور کو اجاگر کرنا ہے۔ کراچی کے مسائل کا حل ہر اول ترجیح میں رکھا اور پھر اسی منشور پر الیکشن 2018ءمیں اپنے امیدواروں کو میدان میں اتار دیا۔۔۔

Raza Haroon 01

مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی قیادت میں اپنے سیاسی سفر کو طے کرنے والی پارٹی ، پاک سرزمین پارٹی کے اہم رہنما رضا ہارون الیکشن 2018ءمیں پرعزم کیسے، انہیں کیوں لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کا مستقبل ختم ہوچکا۔۔۔ کراچی اپ ڈیٹس کی ٹیم کی جانب سے کیے گئے خصوصی انٹرویو میں جانتے ہیں۔۔۔
سوال: آپ کی جماعت کا کیا منشور ہے؟
رضا ہارون: ہماری جماعت کا منشور ہے کہ شہریوں کو عزت، انصاف اور مکمل اختیار ملیں، عوامی ترقیاتی کام بھی ہمارے منشور کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم عام آدمی کے مسائل کا حل نہیں کریں گے ملک ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ مسائل کے حل کے بعد معاشی ترقی، امن وامان، مردم شماری، تعلیم اور صحت یہ سب ہمارے منشور کا حصہ ہیں۔ مگر ان سب سے پہلے ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر میرے گھر میں پینے کا صاف پانی نہیں آرہا، کچرا نہیں اٹھ رہا، سیوریج کا نظام خراب ہے، بارش کاپانی جا نہیں رہا، اسکولوں میں تعلیم نہیں، علاج کا بہتر انتظام نہیں ، عوام کو روزگار میسر نہیں ہے تو پھر شاید ہماری کوئی بھی پالیسی کیسی بھی ہو ایک عام آدمی کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ اگر عوام کے لیے کچھ کرنا ہے تو وہ یہ سب مسائل حل کرنے ہوں گے اور ہمارا بنیادی مقصد عوامی فلاح کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔ یہ سب ہم کر چکے ہیں۔ میرا لیڈر اپنے دور نظامت میں ان تمام مسائل سے نمٹ چکا ہے اور عوام کو بہتر ین معیار زندگی فراہم کرچکا ہے۔
Raza Haroon 02
سوال: آپ کی الیکشن مہم کیسی چل رہی ہے؟
رضاہارون: زبردست چل رہی ہے۔ ہم نے حصہ ہی الیکشن جیتنے کے لیے لیا ہے۔ ہم نے اپنے ایسے امیدوار میدان میں اتارے ہیں جو ان شاءاللہ الیکشن جیت کر دیکھائیں گے۔ آپ بس یوں سمجھیں کہ الیکشن کا مقابلہ کراچی اور حیدرآباد میں ہوہی نہیں رہا۔ مقابلہ کراچی اور حیدرآباد سے باہر ہے۔ ان دونوں شہروں میں پاک سرزمین پارٹی کلین سوئپ کرے گی۔
سوال: آ پ کی جماعت کے جو مدمقابل پارٹیاں ہے ان میں سے کون سی پارٹی آپ کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے؟
رضاہارون: کوئی بھی نہیں کیونکہ ہمیں اپنے نظریے ، مشن اور منشور پر مکمل بھروسہ ہے۔ ہمیں کہیں ایسا نہیں لگ رہا کہ پاک سرزمین پارٹی کے مقابلے میں کوئی ہوسکتا ہے۔
Raza Haroon 04
سوال: کیا یہ بات درست ہے کہ اردو بولنے والوں کو وہ مقام حاصل نہ ہوا جس کے وہ حقدار ہیں؟ ایسا کیوں؟
رضاہارون: یہ بات درست نہیں ہے کہ مہاجروں کو مقام نہیں ملا، اگر آپ دیکھیں تو جب پاکستان بنا تھا اس وقت سے لے کر 1960ءتک اس ملک میںاردو اسپینگ اچھے عہدوں پر بھی فائز تھے۔ حکومت میں رہے اور سربراہان مملکت بھی ہوا کرتے تھے۔ مشرف صاحب سندھی تو نہیں تھے، اردو اسپینگ تھے۔ انہوں نے ملک میں 9سال حکومت کی۔ سندھ کی گورنری 14 سال تک ایک مہاجر کے پاس رہی اور یہ ریکارڈ بھی بنا ۔ اگرچے وہ ریکارڈ صرف گھر میں بیٹھنے کا تھا۔ کرا ورا کچھ بھی نہیں۔۔۔ پھر آج ملک کا صدر بھی تو ایک مہاجر اور کراچی والا ہے۔ بات یہ ہے کہ یہاں آپ کی زبان بولنے والا صدر، گورنر، وزیراعظم بن جائے اس سے آپ کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔۔ مسائل حل تب ہوتے ہیں جب کوئی اہل، قابل، رحم دل، باکردار، باصلاحیت، ایماندار فرد آکر بیٹھے گا۔
جہاں تک مقام کھونے کی بات ہے تو اس کے ذمے دار خود مہاجر ہیں۔ مہاجروں نے لیڈران کو چن کر اوپر پہنچایا مگر انہوں نے انہیں مہاجروں اور اردو اسپیکنگ شہریوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اس میں ہم کسی اور کو ذمے دار نہیں ٹھہرا سکتے۔
سوال: اردو اسپیکنگ کی پہچان تعلیم و تہذیب تھی۔۔۔ کیا وہ مقام برقرار ہے یا کھو چکے؟
رضا ہارون: بالکل ایسا ہے کہ 70-73ءتک یہ پہچان رہی ہے۔ 73 میں کوٹا سسٹم آیا۔ 73 کے بعد بتدریج آپ وفاق پرست لوگ ہوا کرتے تھے۔۔ ہم وفاق کے ساتھ اٹیج تھے۔ کراچی وفاق کا کیپٹل ہوا کرتا تھا اور اس حساب سے ہماری ساری کی ساری اٹیجمنٹ اس جماعت کے ساتھ ہوا کرتی تھی جو وفاق کی بات کرتی تھی جب تک آپ کی سوچ، آپ کا نظریہ وفاق پر رہا، پاکستان پر رہا آپ کو عروج رہا کیونکہ آپ پاکستان کو فرسٹ سوچتے تھے۔ مگر جیسے ہی وفاق سے ہم علاقے اور لسانیت پر آئے ہماری پہچان ختم ہونا شروع ہوگئی۔ اس دوران کا 30 سالہ عرصہ بدترین عرصہ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان ہی نہیں پوری دنیا سے پوچھ لیں تو لوگ ان 30 سالوں میں اگر کسی کو جانتے ہیں تو صرف سابق ناظم سٹی مصطفی کمال بھائی کو۔ یا چند وزرا کے نام لیتے ہیں، جو اچھا کام کرتے رہے ہیں۔
سوال:۔ الیکشن جیتنے کے بعد آپ کی آئندہ کی حکمت عملی کیا ہو گی؟
رضا ہارون:۔ سب سے پہلے تو بے تکے نعروں سے جان چھوڑائیں گے، کہ منزل نہیں رہنما چاہے، اب نعرہ ہے رہنما نہیں منزل چاہے۔ یاد رکھیں سیاست میں آنے کی وجہ معلوم ہونی چاہیے۔ آئندہ کی حکمت عملی میں اپنا اختیار لیں گے، ، عوام کے بنیادی مسائل حل کریں گے۔ اس کے لیے ہم وسائل کی تقسیم کریں گے۔ کراچی میں موجود عوام کے لحاظ سے وسائل کی تقسیم کروائیں گے۔ اس مرتبہ کی مردم شماری میں کراچی کی250 کروڑ آبادی کو 1 کروڑ 60 لاکھ شمار کیا گیا۔ آپ خود سوچیں جب 250 کروڑ افراد کے لیے 1 کروڑ60 لاکھ افراد کے وسائل ملیں گے تو باقی لوگوں کے لیے کہاں سے یہ سب پورا ہوگا۔ کراچی میں مسائل بڑھتے ہی چلے جائیں گے ہم سب سے پہلے اس کو حل کریں گے۔
سوال:۔ مردم شماری میں آبادی کو کم شمار کیا گیا ہے اس سے الیکشن پر کیا اثر پڑے گا؟
رضا ہارون:۔ الیکشن پر صرف یہ اثر پڑے گا کہ آپ کی سیٹیں کم ہیں لیکن اس سے مسائل میں بھی اضافہ ہوگا کیونکہ 70، 80 لاکھ لوگ آپ کے ریکارڈ میں نہیں ہیں، مردم شماری صرف سیٹوں کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ کس علاقے میں کتنی آبادی ہے، اس میں کتنے بچے، خواتین، مرد ہیں اور وہاں کس کس چیز کی کمی ہے۔ ملک میں ترقی اس لئے نہیں ہو رہی کہ جب ہم لوگوں کو گن نہیں سکتے تو ملک کو ترقی کیسے ہوگی، ہمارے ہاں مردم شماری کو غیر ضروری تصور کیا جاتا ہے۔
سوال:۔ کوٹا سسٹم اب تک ختم کیوں نہیں ہوا؟
رضا ہارون:۔ کوٹا سسٹم اس لئے ختم نہیں ہوا کہ 73ءکے آئین میں ایک شک ہے کہ جب تک اکثریت وہاں سے اسے ختم نہیں کروائے گی تب تک ختم نہیں ہوگا۔ جب 18ویں ترمیم ہورہی تھی، لوگوں نے اپنے صوبوں کے نام تبدیل کروالیے یہ پتا نہیں کیا کہ وہ کر کیا رہے ہیں۔ اس شہر کے نام نہاد فاروق ستار، حیدر عباس رضوی کی نا اہلی ہے کہ اب تک اس کو ختم نہ کرواسکیں۔ ایک زمانے میں فاروق ستار کہا کرتے تھے کہ ”مجھے کوٹا سسٹم بہت پسند ہے اب یہ ہمارے فائدے کے لیے ہے“۔
سوال:۔ متحدہ کے جو لوگ پی ایس پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، اس سے پارٹی پر اثر نہیں پڑے گا؟
رضا ہارون:۔ ایم کیو ایم ایک بری جماعت تھی، بری جماعت ہے لیکن اصلاح کا پہلو تو اللہ تعالیٰ نے بھی کبھی اپنے بندوں پر بند نہیں کیاتو ہم کون ہوتے ہیں کہ ہم کسی برے آدمی کو اچھا ہونے سے روکیں۔ کیایہ اچھا ہے نہیں کہ ایک برا آدمی اچھا ہو جائے اور معاشرے کے لیے کار آمد بن جائے۔ قائد اعظم کانگریس کے ہامی تھے جب مسلم لیگ میں آئے تو کیا ان کو منع کیا کہ آپ تو ہندووں کے ساتھ تھے۔
سوال:۔ چائنا کٹنگ اور بحریہ ٹاﺅن دونوں میں فرق ہے یا ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں؟
رضا ہارون:۔ میرا کام ہی نہیں ہے جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا تو ہم کون ہوتے ہیں، چائناکٹنگ نا جائز ہے اور غلط ہے۔
سوال:۔ کے الیکٹرک نے ایلومینم وائر لگائے اس سے لوڈ شیڈنگ بڑھ گئی، اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
رضا ہارون:۔ کراچی میں بجلی کے لئے دوسری کمپنیائیاں بنا دی جائیں، جو کے الیکٹرک کے مد مقابل کھڑا کردیا جائے تو وہ خود با خود صحیح ہوجا ئیں گے۔ مصطفی کمال کا بیان ہے کہ ہم اقتدار میں آنے کے بعد 4,5 کمپنیوں کو بجلی کا ٹھیکہ دیں گے۔
سوال:۔ مصطفی کمال نے کراچی میں درخت لگائے آج وہ گرمی کا باعث بن رہے ہیں؟کیا یہ بڑی غلطی نہیں؟
رضا ہارون:۔ مصطفی کمال بھائی نے کراچی کو سرسبز کرنا چاہا۔ یہ ایک ا چھا اقدام تھا، اس وقت معلوم نہیںتھا کہ یہ درخت ایسے ہوں گے۔ مصطفی کمال کو گئے ہوئے 8سال بیت گئے اگر وہ ان سے غلطی سے لگ گئے تو ان سالوں میں کچھ تو کیا جاسکتا تھا وہ کیوں نہیں کیا گیا۔
سوال:۔ 2 سال کی جدوجہد سے لگتا ہے کہ آپ کامیاب ہوسکیں گے؟
رضا ہارون:۔ پارٹی کا نام نیا ہے لیکن جدوجہد تو 30 سال کی ہے۔
سوال:۔ ایم کیو ایم اتنے حصوں میں بٹ گئی ہے آپ اس کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں؟
رضا ہارون:۔ الحمداللہ! 3 مارچ 2016ءکو ایم کیو ایم ختم ہوگئی اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
سوال:۔ آپ کا انتخابی نشان ڈولفین کیوں ہے؟
رضا ہارون:۔ الیکشن کمیشن کے پاس نشان ہوتے ہیں اور ان میں سے منتخب کرنا ہوتے ہیں ےا اگر آپ کوئی اور نشان لانا چاہتے ہیں تو اس کے لے بڑے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہیں، الیکشن میں کھڑا ہونا تھا تو ہم نے پہلے سے موجود نشانات میں سے ہی منتخب کرنے کا ارادہ کیا ہم نے پہیہ لےنا تھا لیکن وہ ہم سے پہلے کسی اور کو مل گیا۔ موجودہ نشانات میں ایسے نشانات تھے کہ اللہ معافی ۔۔۔۔ اس میں مرچی نشان بھی تھا، اگر وہ لے لیتا تو تم لوگ اور مذاق بناتے۔۔۔ ان نشان میں ہمیں ڈولفین اچھا لگا، ڈولفین کی خصوصیات ہیں کہ وہ عوام دوست ہے، شریف اور محبت کرنے والی ہے۔
سوال:۔ اس دفعہ الیکشن صاف شفاف ہوں گے؟
رضا ہارون:۔ ان شاءاللہ اس دفعہ صاف شفاف ہوں گے ، امید اچھی رکھنی چاہے۔
سوال:۔ کشمیر کا مسئلہ آپ کے منشور میں نہیں ہے، کیوں؟
جواب:۔ کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح کا ہے، الیکشن مہم میں کراچی والوں سے کشمیر کا ذکر کیوں کریں گے۔ کشمیر کا مسئلہ باتوں، نعروں سے حل نہیں ہونے والا، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ کچھ کرنا ہوگا۔
سوال:۔ کراچی اپ ڈیٹس کے قارئین کے لیے کیا پیغام دینا چاہئیں گے؟
رضا ہارون:۔ بس اتنا کہوں گا کہ جب آپ کو کچھ خریدنے جاتے ہیں تو پہلے انہیںکئی بار چیک کرتے ہیں، اچھے سے دیکھ بھال کر پھر خرید کر لاتے ہیں، ایسے ہی اپنے حکمران چنتے ہوئے اتنا سوچیں ، دیکھ بھال کریں کیونکہ آپ کا ووٹ بہت اہم ہے اور 25 جولائی کو ڈولفین پر مہر لگائیں۔

Top