روہنگیا مظالم، امت مسلمہ کہاں ہے؟ (حافظ عاکف سعید)

rohingya crisisبرما کی حکومت کی روہنگیا کے مسلمانوں پر بربریت اور درندگی آج کا اہم ایشو ہے۔اس ددرندگی کے مناظر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہےں ۔پرنٹ میڈیامیں بھی اس کاذکر ہے اور الیکٹرونک میڈیا پر تو سب ہی دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح کے مظالم ان پر ڈھائے جارہے ہیں۔یہ کہا جارہا ہے کہ کچھ جعلی خبریں اور تصاویر عام کی جارہی ہیں۔ہوسکتا ہے کہ مبالغے کے لئے ایسی کچھ حرکتیں ہوئی ہوں لیکن سوال یہ ہے کہ آخر تین لاکھ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر کیوں مجبور ہوئے ہیں؟یقینا ان کی اس مجبوری کی پشت پر کچھ تو معاملات ہیں ۔ اس ضمن میں اس کی ماضی کی تاریخ بھی شاہد ہے کہ ان پر بڑے پیمانے پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اور یہ مظالم پچھلے کئی سال سے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔عقل دنگ ہے کہ یہ مظالم ان بدھوں کی جانب سے کئے جارہے ہیںجو ایک مچھر جیسے کیڑے کو مارنا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ لیکن شاید ان کے نزدیک مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔اسلام دشمن قوتیں ان کی پشت پناہی کررہی ہیں۔لہٰذا سلامتی کونسل کا کوئی اجلا س میں اس ایشوپر نہیں بلایا گیا ۔حالانکہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان مظالم کی تصدیق کی ہے۔

اسلامی دنیا کے سربراہان حکومت کا طرز عمل مجموعی طور پر انتہائی شرمناک ہے۔یہ ان کی بے حسی کی انتہا کا مظہر ہے۔ سعودی عرب مسلمانوں کا امام ہے لیکن ان کی جانب سے بھی ہماری معلومات کی حد تک اس ضمن میں کوئی کاروائی تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔ایٹمی صلاحیت سے مالامال پاکستان نے میانمار کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے محض رسمی احتجاج ہی کا مظاہرہ کیا ہے۔حالانکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی یہ سفارش کی ہے کہ برما کے ساتھ تجارتی تعلق منقطع کیا جائے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے۔34ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد کا سنتے آرہے ہیں ، پتہ نہیںچل رہا ہے کہ وہ کس مرض کی دوا ہے۔اس کے سربراہ راحیل شریف صاحب کہا ں ہیں اور کیا کررہے ہیں ، اس حوالے سے ان کا بھی کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔او آئی سی کی جانب سے کم از کم سفارتی تعلقات کے خاتمے اور تجارتی تعلقات کے انقطاع کا اعلان کیا جانا چاہئے تھا ۔ لیکن اس کی جانب سے آستانہ میں سائنس اور ٹکنالوجی کے حوالے سے دو روزہ کانفرنس میں صرف یہ بات کہی گئی ہے کہ میانمار کی حکومت مسلمانوں پر ظلم کے مرتکب مجرمین کے خلاف سخت کاروائی کرے جبکہ وہاں کی حکومت اور فوج خود اس جرم میں ملوث ہے۔البتہ ترکی کا ایک جراءت مندانہ اقدام سامنے آیا ہے۔انہوں نے رہنگیا کے مہاجروں پر بنگلہ دیش کی حکومت سے اپنی سرحد کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔شام کے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو ترکی نے اپنے ہاں پناہ دی ہے کیونکہ شام کی سرحد تو ترکی سے ملتی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے مذکورہ بالا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ رہنگیا کے مسلمانوں پر ظلم کے خلا ف مسلم امہ کا ساتھ دیں بلکہ مسلم امہ میں اتحاد اور سالمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا میں مسلم ممالک کو میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کو روکنے کے لئے کام کرنے کی اپیل کی ہے۔کم از کم ایک اسلامی مملکت کی جانت سے یہ قابل تقلید مثال سامنے آئی ہے۔یقینا ترکی کے صدر اس مسئلہ میں دلچسپی لے کر مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔

برما کی وزیر اعظم عالمی امن کے حوالے سے نوبل پرائز یافتہ ہیں۔ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران بدترین دہشتگردی، ظلم و بربریت کا وہاں ہورہا ہے۔گویا کہ ان کی کارکردگی نوبل انعام یافتہ ہونے کے تناظر میں بالکل اس کے برعکس ہے جس کی توقع اس حوالے سے ان کی جاسکتی ہیے۔عالم کفر آج مسلمانوں کے خلاف امت واحدہ بناہوا ہے۔ان واقعات کے شروع ہونے سے قبل میانمار کے صدر نے بھارت کا دورہ بھی کیا تھا۔دوسری جانب نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورئہ برما کے دوران انہیں تھپکی بھی دی ہے۔یہ حقائق بہت تلخ سہی لیکن ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ ان قوتوں کے آگے کیا نعوذباللہ، اللہ بھی بے بس ہے؟معاذ اللہ ثمَّ معاذاللہ۔ علامہ نے نظم شکوہ میں اللہ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا۔

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر

آج دنیا کی ساری نعمتوں سے غیر مسلم اقوام مالا مال ہیں۔اگر یہ سب کچھ تیری رحمت ہے تو یہ رحمت ان پر ہے، ہم پر تو نہیں۔قدرتی آفات سمیت دنیا بھر کے مظالم برق بن کر مسلمانوں پر گررہے ہیں۔یہ کیاماجرہ ہے؟یہ علامہ اقبال کا بڑا جینو ئن سوال تھا۔علماءنے ان پر بڑی سخت تنقیدیں بھی کی تھیں۔کیونکہ ان کے خیال میں علامہ اقبال اللہ سے شکورہ کرتے کرتے حد سے آگے نکل گئے تھے۔علامہ تو یہاں تک کہہ گئے تھے۔

کبھی ہم سے کبھی غیروں سئے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے

لیکن انہوں نے مسلمانوں کی سو فیصد ترجمانی کی تھی۔آج بھی یہی صورتحال ہے۔جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے قرآن و سنت کی تعلیمات کا نچوڑ پیش کرکے مسلمانوں کو بتایا کہ اس صورتحال کے ذمہ دار تم خود ہو۔ اب تو علامہ کی یہ دونوں نظمیں عرصہ ہوا نصاب سے خارج کردی گئی ہیں۔اب تو کوشش یہ ہورہی ہے کہ علامہ کے جملہ کلام ہی کو نصاب سے خارج کردیا جائے۔جب شاعر پر کیفیت وارد ہوتی ہے تب اشعار کا نزول ہوتا ہے۔لہٰذا انہوں نے کافی عرصے بعد اپنی نظم جواب شکوہ کہی۔ حضور ﷺ کا ایک فرمان ہے کہ جس میں مسلمانوں کی آج کی اِس صورت حال کا پورا جواب مل جاتا ہے۔اس وقت کی کیفیت کے حوالے سے حضرت ثعبان ؓ سے مروی ایک حدیث کے مطابق رسول ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ اقوام عالم ایک دوسرے کو تم پر ٹوٹ پڑنے کی دعوت دیں گی جیسا کہ کھانا چننے کے بعد سترخوان کی طرف بلایا جاتا ہے کہ کھانا چن دیا گیا ہے ۔آئیں اِس سے اپنا اپنا حصہ حاصل کیجئے ۔اس زمانے میں عربوں میں ضیافت کا جو اہتمام ہوتا تھا تو پورا پورا دنبہ اور آج کل تو سالم اونٹ روسٹ کرکے رکھ دیا جاتا ہے۔چھڑیاں پکڑا دی جاتی ہیں تاکہ مہمان طعام تناول فرمائیں۔آج کل بالکل یہی نقشہ امت مسلمہ کا ہے جس پر اقوام عالم ایک دوسرے کو ٹوٹ پڑنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ایک سوال کرنے والے نے سوال کیا اے رسول اللہﷺ کیاہم تعداد میں اتنے کم ہوجائیں گے کہ اقوام عالم ہم سے جو چاہیں سلوک کریں؟فرمایا کہ نہیں بلکہ تمہاری تعداد بہت کثیر ہوگی ۔ لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے خس و خاشاک کی سی ہوگی۔اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوںمیں جو تمہاری ہیبت ہے وہ نکال دے گا۔ پھر پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہوگا؟جواب میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں وہن کی بیماری پیدا فرمادے گا۔پوچھا گیا کہ یہ وہن کیا ہے؟فرمایا کہ دنیا کی محبت اور موت سے کراہیت ۔دنیا کی محبت جب تمہارے دلوں میں گھر کر جائے گی جس کا لازمی نتیجہ موت کا سب سے زیادہ ناپسندیدہ شے بن جانا ۔جیسے کہ جب یہودیوں کے دلوں میں دنیا کی محبت پیدا ہوگئی تھی تو قرآن نے انہیں چیلنج کیا تھا کہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر ہزار برس کی ہوجائے ۔یہ مرنے کے لئے تیار نہیں لہٰذا آگے بڑھ کر لڑ نہیں سکتے ۔آج پورے عالم اسلام کی یہی کیفیت ہے۔دنیا جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کرتی ہے لیکن ہم پر مکمل بے بسی طاری ہے۔یہ دین سے غداری کی سزا ہے جو امت کو مل رہی ہے۔یہ اللہ کی سنت ہے۔سابقہ امتوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا رہا ہے۔ اپنے اپنے وقت میں وہ زمین پر اللہ کی نمائندہ ہواکرتی تھیں لیکن جب انہوں نے اللہ کے دین سے بیوفائی کی تو اللہ نے انہیں مشرکوں اوربت پرستوں سے پٹوایا ہے۔ ذلت اور مسکنت کا عذاب مسلمان امتوں پر اللہ کی طرف سے مسلط ہوجاتا ہے جب وہ دین سے بیوفائی کرتی ہیں۔ اس بیوفائی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ تقریباً 58مسلمان ممالک میں ایک جگہ بھی اللہ کا دین قائم نہیں ہے۔حالانکہ ان پر ہم مسلمانوں کا اختیار ہے۔یہ تو اللہ کے خلاف بغاوت ہے۔ہم مانتے ہیں کہ تیرا حضور ﷺ کی طرف سے دیا ہوا نظام بہترین اورکامل ترین ہے۔لیکن سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہم اسے اپنے ہاں نافذ کریں۔جو نافذ کرنے کی کوشش کرے گا ہم اِسے بھی نشان عبرت بنادیں گے۔عملاً تو ہم یہی کررہے ہیں۔لہٰذا علامہ نے جو جواب شکوہ میں آخری شعر کہا تھا اسی میں ہماری نجات ہے ۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اس راستے پر آﺅ تو سہی پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ اختیار ، اقتدار ، غلبہ ،عزت شہرت اورسارے وسائل سب تمہیں عطا کردے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

Top