سروے این اے 255 کراچی سینٹرل (3)

vote.-Ballotvote1خصوصی رپورٹ: سجاد علی
قومی اسمبلی کا حلقہ 255 کراچی سینٹرل (3) دو صوبائی حلقوں پی ایس۔127 کراچی سینٹرل (5) اور پی ایس۔128 کراچی سینٹرل (6) میں تقسیم ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اس حلقے این اے۔255 کراچی سینٹرل (3) میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد چار لاکھ ساٹھ ہزار ایک سو دس (460110) ہے جن میں مرد ووٹرز دو لاکھ پچپن ہزار سات سو ترپن (255753) اور خواتین ووٹرز کی تعداد دولاکھ چار ہزارتین سو ستاون (204357) ہے۔ اس حلقے کے اہم علاقوں میں موسیٰ کالونی، گلشن صحابہ، لیاقت آباد کے علاقے سپر مارکیٹ، ڈاکخانہ، بی ایریا، سی ایریا، خاموش کالونی، فردوس کالونی، گوٹھ مراد، مجاہدکالونی، ناظم آباد کے علاقے المصطفیٰ عید گراونڈ، اے او کلینک، عباسی شہید اسپتال، بڑا میدان، چھوٹا میدان، گول مارکیٹ (بلاک1 سے6)، جلال آباد، مسلم لیگ ہاوسنگ سوسائٹی، جہانگیر آباد، رضویہ سوسائٹی، عثمانیہ کالونی، گولی مار، کھجی گرائونڈ وغیرہ شامل ہیں۔
پولنگ کا دن اب تقریبا تین ہفتوں کی دوری پر ہے لیکن اس حلقے میں سوائے ایم ایم اے،پی ٹی آئی اور چند آزاد اُمیدواروں کی اِکا دوکا کانر میٹنگ کے دیگر دوسری سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیاں مائند ہیں۔ جب اس کا سبب جاننے کے لئے خاص طور پر متحدہ قومی مومینٹ پاکستان کے مقامی عہدہ داروں سے رابطہ کیا تو اُنھوں نے نام ظاہر نہ کر نے کی شرط پر بتایا کہ انھیں انتخابی مہم چلانے سے روکا جارہا ہے، متحدہ قومی مومینٹ پاکستان کے انتخابی بینرز اور پوسٹرز جگہ جگہ سے اُتارے جارہے ہیں اور پارٹی کا انتخابی نشان (پتنگ) ضبط کیے جارہے ہیں، ان کے دفاترز اب تک نہیں لوٹائے گئے،انھیں اور ان کے کارکنوں کو مسلسل برے نتائج کی دھمکیاں دیں جارہی ہیں اب انہیں اللہ کے بعد اپنے ووٹرز سے امید ہے کے وہ مایوس نہیں کریں گے (یاد رہے 2013 ء کے انتخابات میں موجودہ حلقہ بندی کے بعد بھی ان میں شامل تمام علاقوں سے متحدہ قومی مومینٹ نے کلین سوئیپ کیا تھا)۔ 2018ء کے الیکشن میں این اے۔255 سے جو اُمیدوار میدان میں اُترے ہیں اِن میں خالد مقبول صدیقی (متحدہ قو می مومینٹ پاکستان،پتنگ)، محمد مستقیم قریشی (متحدہ مجلسِ عمل،کتاب)، فیضان خان (مہاجر قومی مومینٹ پاکستان)، عطا المصتفیٰ جمیل راٹھور (پاک سرزمین پارٹی، ڈولفن)، ارسلان خان (عوامی نیشنل پارٹی، لال ٹین)، ظفر احمد صدیقی (پاکستان پیپلز پارٹی پالیمیٹرین، تیر)، ناصر الدین محمود (پاکستان مسلم لیگ (ن)، شیر)، محمود باقی مولوی (پاکستان تحریک انصاف،بلا) شامل ہیں۔ بظاہر اس حلقے میں خالد مقبول صدیقی کی پوزیشن مضبوط ہے لیکن مدمقابل محمد مستقیم قریشی، ناصر الدین محمود، ظفر احمد صدیقی بھی لوہے کے چنے ثابت ہو سکتے ہیں۔
پی ایس۔127 کراچی سینٹرل (5)
موسیٰ کالونی، گلشن صحابہ، لیاقت آباد کے علاقے سپر مارکیٹ، ڈاکخانہ، بی ایریا، سی ایریا، خاموش کالونی، فردوس کالونی، گوٹھ مراد، مجاہدکالونی اور دیگر علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد دو لاکھ تیئس ہزار اڑتالیس ((223048 ہےجن میں مرد ووٹرز ایک لاکھ چھبیس ہزارتین سواٹھاون (126358) اور خواتین ووٹرز چھیانوے ہزار چھ سونوے (96690) ہیں۔ اس حلقے سے جو امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اِن میںسید مصطفیٰ کمال پی ایس پی، محمد صدیق راٹھور ایم ایم اے، کنور نویدجمیل متحدہ قومی مومینٹ، فیضان خان مہاجر قومی موومنٹ، شاہین پی ایم ایل (ن)، صدام عبدالصمد پی پی پی پی، عبدالرزاق اے این پی، شیخ محبوب جیلانی پی ٹی آئی شامل ہیں۔ اس حلقہ انتخاب میں سید مصطفیٰ کمال، محمد صدیق راٹھور اور کنور نویدجمیل کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔
پی ایس۔128کراچی سینٹرل (6)
المصطفیٰ عید گراونڈ، اے او کلینک، عباسی شہید اسپتال، ناظم آباد کے علاقے بڑا میدان، چھوٹا میدان، گول مارکیٹ (بلاک 1 سے6)، جلال آباد، مسلم لیگ ہاوسنگ سوسائٹی، جہانگیرآباد، رضویہ سوسائٹی، عثمانیہ کالونی، گولی مار، کھجی گرائونڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد دو لاکھ سینتیس ہزار باسٹھ (237062) ہے جن میں مرد ووٹرز ایک لاکھ اُنتیس ہزار تین سو پچانوے(129395) جب کہ خواتین ووٹرز ایک لاکھ سات ہزار چھ سو سرسٹھ(107667) ہے۔ پی ایس۔28 سے انتخابات میں جو اُمیدوار آمنے سامنے ہیں اِن میں قابِل ذکر (اللہ و اکبر تحریک، کرسی) کے احسن حبیب، سید وجیہ حسن ایم ایم اے، محمد عباس جعفری متحدہ قومی موومنٹ، طلحہ احمد خان پی ایس پی، محسن جاوید ڈار پی ایم ایل (ن)، خضر علی ایم کیو ایم (مہاجر)، فضل قیوم اے این پی، محمد عارف حسین قریشی پی پی پی پی، نصرت انوار پی ٹی آئی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنیس (جی ڈی اے، ستارہ) کے محمد حفیظ خان کے درمیان مقابلہ ہے۔ اس حلقے میں متحدہ قومی موومنٹ، ایم ایم اے، پی ایم ایل(ن) اور پی پی پی پی کے درمیان سخت مقابلہ ہو سکتا ہے۔
حلقے کے مسائل
اب حلقے کے مسائل و مصائب دور کرنے کے صرف زبانی دعوئوں سے کام نہیں چلے گا ان خیالات کا اظہار اس حلقے کے علاقہ مکینوں خاص طور پر لیاقت آباد، ناظم آباد، گولیمار، رضویہ سوسائٹی، مجاہدکالونی نے کیا اِن لوگوں کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد اور، ناظم آبا د کے مختلف علاقوں میں تجاوزات، ٹھیلے اور پتھاروں کی بہتات سے ٹریفک کا جام ہونا عام ہے جو اِن علاقہ مکینوں کے لئے دردِ سر بنا ہوا ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس فی پتھارا /ٹھیلا 200 سے1000روپے یومیہ بھتہ یا رشوت وصو ل کر رہی ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی چارجڈ پارکنگ پر اور موٹر سائیکل اور کاروں کو لفٹر سے اُٹھانے کے پولیس کروڑوں روپے بنا رہی ہے۔ جب کہ دوسرا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے علاقہ مکین پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور پانی کی تلاش میں سرگرداں ہیں رہی سہی کسر ٹینکر مافیا نے پوری کردی ہے۔ پانی کے بحران کے باعث شہری ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ اُبلتے گٹر، کوڑے کے ٹیلے، لوڈشیڈنگ، صحت و علاج، لوٹ مار اور بے روزگاری بھی حلقے کے بڑے مسائل ہیں۔
سروے رپوٹ
انتخابات کے حوالے سے جس شہر پر سب کی نظریں لگی ہیں وہ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے جس کی سیاست میں گذشتہ چند برس کے دوران آنے والی تبدیلیوں نے ان انتخابات کو یہاں سے میدان میں اترنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں کراچی اپ ڈیٹس نے قومی اسمبلی کا حلقہ 255 کراچی سینٹرل(3) دو صوبائی حلقوں پی ایس۔127کراچی سینٹرل(5) اور پی ایس۔128کراچی سینٹرل(6) میں لوگوں سے اُن کا رجحان جاننے کی کوشش کی کہ وہ 2018ء کے اتخابات کو کیسے دیکھتے ہیں اور وہ کس کو ووٹ دیں گے۔ کچھ لوگوں کی رائے کے مطابق حلقہ بندیوں میں تبدیلی شازش اور الیکشن سے پہلے کی جانے والی دھاندلی ہے کیونکہ ’اسٹیبلشمنٹ کمزور حکومت چاہتی ہے اور اس کا مقصد کراچی شہر پر کسی لاڈلے کا قبضہ کرانا ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ یہ چاہتی ہے کہ انتخابات میں کوئی نہ کوئی کمی رہ جائے اور کمزورحکومت بنےجس کو وہ انتخابات کے بعد بلیک میل کر سکیں۔ خیر یہ لوگوں اپنی سوچ اور رائے ہے۔ ووٹ کس کو دیں گے سوال پر لوگوں کی رائے کچھ اس طرح بنتی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ 28 فیصد، ایم ایم اے14فیصد، پی ایم ایل(ن)12فیصد، پی ٹی آئی 6 فیصد، پی ایس پی 10فیصد،7فیصد مختلف جماعتوں کو اپنا ووٹ دیں گےجبکہ 23فیصد افراد اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے یا نہیں وہ فیصلہ نہیں کر پائے۔ یہ سروے 5 جولائی 2018 ء کا ہے ابھی الیکشن میں تین ہفتے باقی ہیں اس لئے اس سروے کو حتمی نہ سمجھا جائے۔ ہم کراچی اپ ڈیٹس کی توسط سے تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ووٹ ضرور کاسٹ کریں اور اُن لوگوں کو ووٹ دیں جو اُن کے مسائل حل کر سکیں۔

Top