اسکول کے دن کیسے گزاریں (ارم فاطمہ)

school 1اسکول کا پہلا دن ۔ گھر کے مانوس ماحول سے نکل کرایک ایسی آزاد دنیا میں قدم رکھنا ،جس کا آغاز ہی پابندیوں اور اصولوں سے ہوتا ہے۔ بچوں کو یہ بہت مشکل لگتا ہے کہ ایک مقررہ وقت پر اٹھ کر نیند کو خیرباد کہہ کر اسکول کے لیے  تیاری کرنا ۔  ان کے لیے اس غیر دلچسپ کام کو دلچسپ بنایا جا سکتا ہے اگر والدین زور زبردستی کے بجائے اسے بچوں کے لیے  آسان بنادیں۔ ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت ایسے کی جائے اور انہیں کچھ باتیں ذہن نشین کروائی جائیں جن سے وہ اپنے سکول کی تیاری بہتر انداز میں کر سکیں اور ان کی شخصیت بہترین انداز میں نکھر سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین اور اساتذہ زندگی میں رہنمائی کرتے ہیں مگر ہمیں خود بھی یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہمیں زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا چاہیے کیا نہیں۔ کچھ ایسی باتیں ہیں جن کا آپ کو خیال رکھنا ضروری ہے۔یہ ممکن ہے کہ آپ جانتے ہوں مگر نظر انداز کردیتے ہوں۔ اس لئے ان کا جاننا بہت ضروری ہے۔

1۔ وقت کی پابندی
سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ سکول ہمیشہ وقت پر پہنچیں۔لیٹ ہونا اور اس کو عادت بنالینا ٹھیک نہیں ۔ رات جلدی سونے کی عادت ڈالیں اور صبح مقررہ وقت سے کچھ پہلے اٹھیں تاکہ اسکول جانے سے پہلے آرام سے تیار ہو سکیں۔ اس سلسلے میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ بہر حال یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ وجہ تلاش کریں اور اس کا حل بھی سوچیں کہ اسکول وقت پر کیسے پہنچا جائے تاکہ اسمبلی شروع ہونے سے پہلے آپ بیگ کلاس میں رکھ آئیں۔ وقت کی پابندی ایک ایسا اصول ہے جس سے آپ کی شخصیت کا بہترین تاثر قائم ہوتا ہے۔یہ آپ کو اپ کی عملی زندگی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

2۔باقاعدگی سے اسکول جانا
یہ آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ غیر ضروری چھٹیاں کرنا آپ کی پڑھائی کو کیسے متاثر کرتا ہے اور اس سے آپ کا کیا نقصان ہوگا۔کلاس مس کرنے کا مطلب ہے اپ کو نہیں معلوم ہوگا کیا کلاس ورک دیا گیا ہے ؟ ٹیچر نے کیا لیکچر دیا اور وہ تمام بنیادی باتیں جنہیں آپ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے تھے ان سے محروم رہ جانا اس لئے کوشش کریں باقاعدگی سے اسکول جائیں۔

3۔لباس، شخصیت کا آئینہ
صاف ستھرا یونیفارم ہو پالش کیے ہوئے جوتے ہوں ۔ناخن کٹے ہوئے اور بال مناسب طریقے سے سنوارے ہوئے ہوں تاکہ ہر کسی کو نظر آئے کہ اپ کی شخصیت بہت اچھا امیج بنارہی ہے اس سے اپ کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا اوقر اپ اسے اپنی زندگی کاحصہ بنائیں گے تو یہ آپ کی عادت بن جائے گی۔ پھر عملی زندگی میں آپ کو اپنی شخصیت کے اظہار میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

4۔ بیگ تیار رکھنا
رات کو سونے سے پہلے بیگ تیار کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ہر وہ چیز بیگ میں رکھ لی گئی ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے ۔اپ کو کالج میں اور یونیورسٹی دونوں میں بہت مددگار ہوگا۔ اگر ایک بار آپ اسے اپنی عادت بنالیں تو پھر بہت کم ایسا ہوگا کہ آپ کچھ بھول جائیں ۔یہ بات ٹیچر کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے اگر آپ اپنی نوٹ بک یا کتاب گھر بھول جائیں۔یہاں تک کہ کوشش کریں ایک ایکسٹرا پین پنسل اپنے پاس رکھیں جو کسی ضرورت مند کے کام آسکے اور یہ بھی ممکن ہے ایمرجنسی میں یہ آپ کے ہی کام آجائے۔

5۔اسکول کے بنائے قاعدوں کی پابندی
آپ کا اپنے اسکول کے اصولوں کے بارے میں جاننا نہ صرف آپ کو مشکلات سے نکالتا ہے بلکہ ان سے دور رکھتا ہے۔اگر آپ انہیں معمولی اور چھوٹی باتیں سمجھ کر توڑین گے اور آپ کو سزائیں ملیں گی تو پھر آپ کو عادت ہوجائے گی اور یہ آپ کی ذات کا وہ منفی حصہ بن جائے گی جس سے اپ کی پہچان ہوگی اور پھر یہی چیز اپ عملی زندگی میں بھی کریں گے چاہے وہ ٹریفک کے اصول ہوں یا قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرنا۔۔آپ انہی اصؤلوں کو توڑیں گے۔

6۔استاد اور کلاس فیلوز کی عزت کرنا
اگر آپ اسکول میں اساتذہ اور کلاس فیلوز کی نظروں میں مقام بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے عزت کرنا سیکھیں۔ استاد آپ کے رہنما ہیں۔ آپ کی شخصیت اورمستقبل کو بہتر شکل دینے کے لئے آپ کی تربیت کرتے ہیں۔ اگر آپ ان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے ،ان کی عزت کریں گے، ان کا ہر حکم مانیں گے تو وہ آپ کا اور زیادہ خیال رکھیں گے اور بہت خوشی سے آپ کی رہنمائی کریں گے۔

یہی رویہ اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ رکھیں۔ اگر آپ دوستانہ رویہ رکھیں گے مدد میں پیش پیش رہیں گے تو دوسرے بھی آپ کے ساتھ اسی خوش اسلوبی سے پیش آئیں گے۔ ان کے ساتھ اچھا وقت گذارنے کے لئے ہنسی مذاق کریں مگر کسی کا مذاق نہ بنائیں نہ ایسا کچھ کہیں جس سے کسی کو تکلیف ہو۔آپ کے طنز اور مذاق کا نشانہ بنانے سے کسی کو جو ذہنی تکلیف ہوگی وہ جسمانی تکلیف سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔

7۔کلاس کی تیاری
ایک بار پڑھنا اور اس سبق پر نظر ڈال لینا جو اگلے دن کلاس میں پڑھاسیا جائے گا آپ کو اس قابل بنائے گا کہ آپ ٹیچر کے لیکچر کو بہت اچھی طرح سمجھ سکیں گے اور ذہن نشین کر سکیں گے اور آپ ایک بہترین پوزیشن میں ہوں گے کہ سوالات کے جواب دے سکیں اور کلاس میں بحث میں بہترین انداز سے حصہ لے سکیں۔ پھر استاد کی ستائش آپ کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گی۔

8۔اپنا کام وقت پر کرنا
وقت کو اپنے کام کے حساب سے تقسیم کرنا ہمیشہ آپ کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ یہ صلاحیت آپ کو کلاس میں اس وقت کام آتی ہے جب آپ نوٹس لکھ رہے ہوتے ہیں ۔ اس سے آپ کا ہوم ورک وقت پر مکمل ہوگا۔اپ ہر کام کو مکمل اور بہترین طریقے سے کر سکیں گے۔ ٹیسٹ اور امتحان میں اپنے پیپر کومقررہ وقت پر مکمل کر سکیں گے۔گھڑی کے وقت کو سوالات پر تقسیم کرنا آپ کو سکھائے گا کہ کس سوال کو کتنا وقت دینا ہے ۔

9۔کلاس میں بہت زیادہ بولنا
کلاس میں بہت زیادہ بولنا اور یہاں تک کہ زیادہ سوالات کرنا دوسروں کے لیے پریشانی کا سبب ہو سکتا ہے۔ اس لیے زیادہ بولنا ،دوسروں کو ہنسانے کے لیے ہنسی مذاق کرنا، دوسروں کا وقت ضائع کرنا اور انہین ڈسٹرب کرنے کے برابر ہوتا ہے۔اس سے ٹیچر کے لیکچر کا تسلسل ٹوٹتا ہے ربط نہیں رہتا اور دوسروں کو موقع نہیں ملتا کہ وہ سنجیدہ اور اہم سوال کر سکیں۔ کوئی بھی ایسے انسان کو پسند نہیں کرتا جو کلاس میں نمایاں مقام بنانے کے لیے بہت زیادہ بحث میں حصہ لے اور دوسروں کوموقع نہ دے ۔اس سے آپ کی ذہانت کا امیج خراب ہوگا اور لوگ آپ کو برداشت نہیں کریں گے۔

10۔کلاس میں سرگوشی اور ہنسی مذاق کرنا
جب اسکول میں سیریس پڑھائی ہورہی ہو تو کسی سے بات کرنا مناسب نہیں یہاں تک کہ سرگوشی میں بات کرنا بھی ٹیچر کو ناگوار گذرتا ہے۔ یہ ٹیچر کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے کہ طالب علم کان میں باتیں کریں اور پڑھائی پر توجہ نہ دیں ۔ پڑھائی کے دوران وقفہ میں جب جنرل باتیں ہورہی ہوں آپ بورڈ سے نوٹس لے رہے ہوں اور ٹیچرز اس امید پر بات روک دیں کہ اپ نے اب تک کیا سیکھا تب آپ ٹیچر کے لیکچر کو اہمیت دیتے ہوئے سوال کر سکتے ہیں یا کسی سے بات کرسکتے ہیں۔

11۔اسکول میں مہنگی اسٹیٹس سمبل چیزیں لانا
بہت سے اسکولوں میں موبائل لانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ آپ کو ان باتوں کو ماننا چاہیے۔ اس بات پر فخر کرنا ٹھیک نہیں کہ آپ کے والد آپ کے لئے مہنگی چیز لے کر آئے ہیں ۔اور اپ اس سے دوسروں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسی چیزیں کھو بھی سکتی ہیں ،چوری بھی ہو سکتی ہیں  اور سکول والے ضبط بھی کر سکتے ہیں۔ یہ سب فخریہ دکھانا اچھی بات نہیں۔اگر آپ کسی کو متاثر کرنا چاہتے ہیں تو اپنے کردار اور اوصاف سے کریں  ۔پڑھائی میں اپنی اچھی کاکردگی سے کریں ۔ پیسے بھی اتنے لے کر آئیں جو ایمرجنسی میں کام آسکیں ۔

12۔نامناسب الفاظ اور لڑائی سے بچیں
ہنسی مذاق میں کہے گئے نام اور نامناسب الفاظ استعمال نہ کریں ۔ جب بھی بات کریں دلائل سے کریں۔ لڑائی میں معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں ٹیچر کو بتائیں ۔ بعض اوقات بات ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔دوسروں کو نقصان تو پہنچاتی ہے آپ کی شخصیت کا امیج بھی خراب ہوتا ہے۔ اس لئے سنجیدہ اوربردبار بننے کی کوشش کریں یہ آپ کو مستقبل میں بھی بہت مددگار ہوگا۔

یہ چند باتیں آپ کے اسکول کے دنوں کو یادگار بنادیں گی اور کامیاب بھی ۔ اپ کے لئے آگے کی نئی راہیں کھلیں گی کہ مستقبل میں اُ آپنے آپ کو کتنا کامیاب بناتے ہیں۔اسکول کے دنوں کو اچھے دنوں کی یادگار بنا کر ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور سدا مسکراتے رہیں۔

Top