ٹیچرز ڈے اور مثالی استاد (محمد جہان یعقوب)

pakistan-teachers_400تعلیمی مقام کی فضا بہت سے عناصر سے مل کر وجود میں آتی ہے، تاہم اس فصا کا سب سے اہم عنصر استاد کی شخصیت ہے۔معلم انبیا علیہم السلام کا نائب و وارث ہے۔اساتذہ کرام پہلے اس امر کا احساس کریں اور پختہ عقیدہ رکھیں کہ: تعلیم ایک ربانی عمل ہے۔ حق تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اسما کی تعلیم دی اور قلم کے ذریعہ سے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ درس و تدریس بڑا مقدس مشغلہ ہے، کیوں کہ یہ تمام انبیا علیہم السلام کا مشغلہ رہا ہے۔ رسول اﷲ ﷺ کو معلم بنا کر بھیجا گیا۔ مدرس و معلم معمولی انسان نہیں ، ان کو چاہیے کہ کبھی بھی اپنے آپ کو حقیراور چند ہزار روپے کا ملازم و نوکر نہ سمجھیں۔یہ تو ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں نئی نسل کی تربیت کی نازک ترین ذمے داری ادا کرنے والوں کو معمولی سا مشاہرہ دیتے ہیں ،طبقاتی نظام تعلیم ،ٹیوشن کلچر اور پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار نے تو استاد کے مقام کو مزید گرادیاہے،پرائیویٹ اسکول کے مالکان نے تعلیم کو ایک بزنس بنا رکھا ہے اور قوم کی جیبوں سے فیسوں اور مختلف چارجز کے نام پر بھاری بھررقم اینٹھنے کے باوجوداستاد کو معمولی تنخواہوں پر ٹرخادیا جاتا ہے۔دوسری جانب دینی مدارس کی صورت حال بھی اس حوالے سے خوش کن نہیں۔وہاں بھی استاد کی تنخواہ ’’اونٹ کے منہ میں زیرہ‘‘کے مصداق ہوتی ہے،حالاں کہ ایک معلم کو اس قدر مصروف کردیاجاتا ہے کہ وہ اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی اور کام بھی نہیں کرسکتا۔
کسی نے خوب کہاکہ:جس قوم کی نظر میں معلم کی قدر ایک معمولی مزدورجتنی بھی نہیں ،اس قوم کو ذلت وادبار سے کوئی نہیں بچا سکتا۔کاش!دینی وعصری تعلیمی اداروں کے ارباب حل وعقد کو اس حقیقت کا ادارک ہو،کہ معلم ہی تعلیمی ڈھانچے کا اہم ترین عنصر اوروہ عظیم ہستی ہے جس کے کاندھوں پر نئی نسل،جو مستقبل کی معمار اور صور ت گر ہے،کی تعلیم وتربیت کی نازک ذمے داریاں ڈالی گئی ہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ اساتذہ ہی آنے والی نسلوں کے امین ا و ررکھوالے ہیں۔

طلبہ استاد کی سیرت و شخصیت کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں،اس لیے ایک استادکوانتہائی محتاط ہونا چا ہیے۔ اسے بچوں کی تعلیم اور تربیت کے دوران اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے،جن اچھے خصائل اور اقدار کو وہ بچوں میں منتقل کرنا چاہتا ہے پہلے ان کو اپنے وجود میں پیدا کرے، بچوں میں اسی چیز کا انعکاس ہو گا جو استاد میں موجود ہو گی، استاد کی شخصیت جن اوصاف کی آئینہ دار ہوگی وہ اوصاف ازخود طلبہ کے دلوں کو متاثر کریں گے۔شاگرد اپنے استاد کو بہت باریک بینی سے دیکھتا ہے، یوں استاد کی چال ڈھال، عادات واطوار اور اخلاق وکردار لاشعوری طور پر بھی اس میں اترنے لگتے ہیں ۔کسی شاگرد کی کام یابی میں اس کے استاد کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ہم جتنی بھی مشہور اور بڑی شخصیات کے حالات اٹھاکر دیکھیں،یہ بات سب میں مشترک نظر آئے گی ،کہ ان کو بڑا آدمی بنانے میں ان کے استادوں کا کردار سب سے اہم اور کلیدی تھا۔اس کا اعتراف بھی ہمیں ان کے اقوال وافعال میں نظر آئے گا۔آخر کوئی تو بات تھی،کہ جب علامہ محمد اقبال کو حکومت کی جانب سے ’’سر‘‘کاخطاب دیاجانے لگا،تو انھوں نے یہ خطاب قبول کرنے کی یہ شرط لگائی ،کہ یہی خطاب ان کے اولین استادسید میر حسن کو بھی دیاجائے!

ایک کامیاب اور مثالی استاد و معلّم کے لیے جن صفات کا حامل ہونا ضروری ہے،ذیل میں ان پر روشنی ڈالی جاتی ہے:
اخلاص:اچھا استاد اپنے پیشے کے ساتھ مخلص ہوتا ہے۔ وہ اپنے پیشے کے ساتھ جس قدر بے لوث ہوگا ، اس کی دلچسپی اسی قدر بڑھتی جائے گی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں اتنی ہی کم ہوتی چلی جائیں گی۔ اخلاص وہ جوہر ہے جس سے عمل میں لذت پیدا ہوجاتی ہے۔

تقویٰ:علم اور تقوی کا باہم گہرا تعلق ہے، اسی وجہ سے قرآن پاک میں خشیت الہی کا مدار علم کو قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ بات ہم پر مخفی نہیں کہ استاد کے دل میں جتنی خدا خوفی ہوتی ہے اس کی زبان میں اسی قدر تاثیر ہوتی ہے۔

نرم روی : اچھے اور کامیاب استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ حلم و بردباری، عفو و درگزر، ستر پوشی اور خوش خلقی جیسے اعلی اخلاق سے مزین ہو۔نرم روی کا ایک اہم پہلو لوگوں کے دکھ درد کا احساس اور ان کے غم میں شریک ہونا ہے۔ کوئی شخص جو سخت دل اور درشت خو ہے وہ کبھی کسی تکلیف دہ چیز یا غم انگیز صورتحال سے متاثر نہیں ہوتا۔ ہمارے آقا ﷺ اپنے طلبا کے ساتھ بہت ہی کریم شفیق اور مہربان تھے۔ انکی ہر وقت دل جوئی کرنے والے تھے۔

اچھی صحبت:اچھا استاد وہ ہوتا ہے جس کا مزاج اچھا ہو، اس کی بیٹھک اچھے لوگوں کے ساتھ ہو،اس کی پہچان اچھی سوسائٹی ہو۔ حدیث کے مطابق اسے عطار کے مانند ہونا چاہیے ،جس کے پاس سے گزرنے والا کم ازکم معطر ضرورہوسکے،نہ کہ لوہار کی طرح جس کی صحبت اختیار کرنے والے کو بھٹی کی تپش بھی گوارا کرنا پڑتی ہے۔ تحمل اور برداشت:تعلیم اور تزکیہ کے میدان میں صبر وتحمل کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ استاد میں جس قدر یہ خوبی ہوگی وہ اتنا ہی کامیاب مدرس ثابت ہوگا۔

زہد اور بے رغبتی:ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جس میں کمال درجے کا زہد ہو،یعنی اس کی نظر اپنے شاگردوں کے مال پر نہ ہو،وہ مادی مفادات سے بالاتر ہوکر تعلیم وتربیت کے فریضے میں منہمک رہے، شاگرد کے مال پر اگر استاد کی رال ٹپک رہی ہو تو شاگرد کی نظر میں ایسے استاد کی حیثیت صفر ہوجاتی ہے۔

عفو درگزر اور وسعتِ قلبی:ہر معمولی بات پر پکڑ کرنے والا کبھی کامیاب مدرس نہیں بن سکتا، استاد کو اپنے اندر وسعتِ قلبی پیدا کرنی چاہیے۔’’مار نہیں پیار‘‘ایک اچھے استادکا ماٹو ہونا چاہیے۔وہ اپنے شاگردوں کے درمیان ایک جلاد کے طور پر نہیں ایک حلیم وشفیق ہستی کے طور پر اپنا تعارف پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

مایوس نہ ہو:اچھا استاد کبھی مایوس نہیں ہوتا، اس کی مثال اس پھل بیچنے والے کی سی ہے، جو اپنے گاہک کے سامنے پھل کی ایسی تعریف کرے کہ وہ تھوڑے کے بجائے زیادہ لینے پر مجبور ہوجائے اور اگر خدانخواستہ وہ اس طرح کے جملے دہرانے لگے :جناب! بس کیلے کا تو موسم ہی نہیں رہا، اس کا گاہک بھی آج کل ڈھونڈے نہیں ملتا، یہ دیکھیے پڑے پڑے کیلے کالے ہونے لگے ہیں، شکر ہے کوئی تو آیا ……یہ سن کر کوئی بے وقوف ہی اس سے سودا خریدے گا۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم جس علم کو بیچ رہے ہیں اس کی قدر خود ہمارے دل میں بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استادکے ذریعے شاگروں میں مایوسی منتقل ہورہی ہے۔

ٹیچرز ڈے کے موقع پر وہ تمام خواتین وحضرات جو استاد کی نازک ذمے داریوں پر فائز ہیں،اس بات کا عہد کریں کہ مندرجہ بالا صفات اور خوبیوں کو اپنے اندر بھی پیدا کریں گے اور اپنے شاگردوں میں بھی منتقل کریں گے۔اس مادیت کے دور میں اساتذہ پر عاید ہونے والی ذمے داریاں ماضی کے مقابلے میں دوچند اور سہ چند ہوچکی ہیں،لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا استاد بھی،تعمیرکردار وسیرت کے بجائے محض حرف خوانی کو اپنی ذمے داری سمجھتا ہے،جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ لوگ توہر طرف نظر آتے ہیں،لیکن ان کے اندر وہ صفات ڈھونڈے سے نہیں ملتیں،جو ماضی میں تعلیم وتربیت کا لازمہ سمجھی جاتی تھیں۔

Top