آج کا کام آج کریں، کل نہیں (منیرہ عادل)

جو لوگ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں وہ آج اور ابھی کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ آج کا کام کل پر ٹالنا یا ماضی میں غلطاں رہنے والے اور مستقبل کے خیالی منصوبے بنانے والے لوگ کبھی زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتے۔ گزرا وقت لوٹ کر نہیں آتا، ماضی بنتا چلا جاتا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگ پھر کف افسوس ملتے رہ جاتے ہیں۔
tiredatworkہم میں سے ہر شخص روزانہ اپنے بہتر مستقبل، اپنی شخصیت کے نکھار، اپنے شوق کی تکمیل اور اپنے خوابوں کو سچ کرنے کیلئے منصوبہ بندی کرتا ہے۔ آخرت کی فلاح اور اپنی ابدی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سوچتا ہے۔ لیکن یہ سارے منصوبے صرف سوچ کی حد تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ اور یہ سوچ کر کہ ہم ’’کل سے کریں گے‘‘ خود کو گویا تسلی دیتے ہیں۔ ورنہ بزرگوں سے سنتے آئے ہیں ’’آج کا کام کل پر مت ٹالو‘‘۔ ’’کل کر لیں گئے‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’کام کو ٹالنا‘‘ اور پھر وہ کام کبھی انجام نہیں پاتا۔ کیونکہ جس کام کیلئے ہم آج وقت نہیں نکال پارہے، کل کیسے نکلے گا۔ کل کے دن کے اور بے شمار نئے کام، نئے منصوبے اور نئی ذمہ داریاں ہوں گی۔ اس طرح ہمارے کام مؤخر ہوتے چلے جاتے ہیں اور ہم کبھی مصروفیت اور کبھی وقت کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں۔

بے شمار طالب علم تعلیمی میدان میں کامیابی کے خواہاں رہتے ہیں اور اس کیلئے اپنی لکھائی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ کم وقت میں زیادہ سوالات کے جوابات لکھنے کی مشق کرنا چاہتے ہیں، لیکن وقت ہی نہیں ملتا۔ ’’کل کرلیں گے، ویک اینڈ پر کریں گے، آنے والی چھٹیوں میں کرلیں گے‘‘۔ ہم خود اپنے آپ کو یہ بہانے بناکر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور امتحان سر پر آپہنچتے ہیں، اس طرح ہمارے بہتر نتیجہ لانے کیلئے کی جانے والی کوششیں صرف ہماری سوچ تک ہی محدود رہ جاتی ہیں۔ اسی طرح تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی اساتذہ لیکچر کے بعد اس کے نوٹس بنانے، اس کو دہرانے اور ذہن نشین کرنے پر زور دیتے ہیں۔ مگر طلبہ و طالبات ’’کل سے پڑھیں گے، ابھی تو بہت وقت پڑا ہے‘‘ کہہ کر عموماً ٹال دیتے ہیں۔ یوں وقت پر لگا کر اڑ جاتا ہے اور امتحانوں کے دن آتے ہی ایسے طلباء و طالبات بوکھلائے پھرتے ہیں اور نتیجہ آتے ہی نہ پوچھیں کیا حالت ہوتی ہے۔ چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی ہوتی ہیں۔

اس کی بہ نسبت اپنے وقت کے بہترین استعمال کرنے اور صحیح منصوبہ بندی کے تحت پڑھنے والے طلباء و طالبات کبھی پریشانی کا شکار نہیں ہوتے۔ امتحان کے اختتام پر عموماً نوجوان بڑے پرجوش ہوتے ہیں۔ خاصے منصوبے بھی بن رہے ہوتے ہیں کہ نتیجہ آنے تک یہ کورسز کریں گے۔ کوئی پارٹ ٹائم جاب کرلیں گے۔ کوئی زبان سیکھ لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن عموماً ایک ہی بات ذ ہن میں گردش کرتی ہے کہ ’’ابھی امتحان ختم ہوئے ہیں۔ کچھ دن آرام کرلیں۔ پھر سب کرلیں گے‘‘۔ اور پھر یہ آرام طویل ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی روٹھے یا ناراض دوست کو منانا ہے یا کسی کا دل دکھایا ہے اور معافی مانگنی ہے تو بھی ہم محض سوچتے رہتے ہیں اور پھر بعض اوقات زندگی انہیں اتنی دور لے جاتی ہے کہ پچھتاوے مقدر بن جاتے ہیں۔ اپنی شخصیت کو بہتر بنانے اور اس میں نکھار لانے کیلئے وزن کم کرنے کا فی زمانہ جنون پیدا ہو چلا ہے۔

ہر نوجوان اپنا وزن کم کرنا چاہتا ہے لیکن جم جانے، ورزش کرنے، چہل قدمی، تیراکی، دوڑنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ روزانہ ہم اپنے منصوبوں کو کل تک کیلئے ملتوی کردیتے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے مشاغل، اپنے شوق محض آج کا کام کل پر چھوڑنے کی وجہ سے نہیں کرپاتے۔ مثلاً کوئی کتاب لکھنا چاہتا ہے، کسی کو ڈیزائننگ کا شوق ہے، وغیرہ وغیرہ۔ غرض آج کا کام کل پر ٹالنا محض ہماری چند لمحوں کی سستی و کاہلی ہوتی ہے۔ لیکن ذرا غور کریں وہ ہمیں کامیابی سے ہماری منزل سے کتنا دور کردیتی ہے اور ہم زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں آج اور ابھی کی اہمیت کو نہ صرف سمجھنا ہوگا بلکہ عمل پیرا بھی ہونا ہوگا۔

سب سے پہلے اپنے روزمرہ معمولات کو بروقت کرنے کے ساتھ ساتھ، اپنے پورے دن کا شیڈول بنائیں۔ اب آپ اپنے تمام کاموں کو وقت کے مطابق تقسیم کرتے جائیں۔ شیڈول کے مطابق روزمرہ کے کام سرانجام دے کرآپ حیران رہ جائیں گے کہ بہت سارا وقت بچ جائے گا، جس میں آپ وہ تمام کام کرسکتے ہیں جو آپ آج کے بجائے کل پر ٹال دیتے تھے۔ یہ بچا ہوا وقت وہ ہوگا جو آپ ٹی وی دیکھنے، کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے، موبائل پر فارورڈ میسج کرنے، فون پر باتیں کرنے یا دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگانے میں صرف کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ترک دنیا کرلیں۔

مقصد یہ ہے کہ وقت کی اہمیت کو پہچانیں۔ دوستوں کو بھی وقت دیں، گیمز بھی کھیلیں، خصوصاً عبادت کریں۔ عبادت آپ کو منظم کرتی ہے۔ غرض آپ اگر وقت مقرر کرکے اپنی دلچسپیوں کو انجام دیں تو آپ کے پاس وقت بھی ہوگا اور آپ ہر کام انجام دے سکیں گے۔ اور آج کا کام آج کرنے، اپنے تعمیری منصوبوں اپنے مثبت ارادوں کو آج ہی عملی جامہ پہنانے سے آپ کی شخصیت میں سکون، اطمینان اور خوشی سے وہ نکھار پیدا ہوگا، جو آپ کی ذات کو اعتماد بخش کر آپ کو معاشرے میں ممتاز مقام عطا کرنے میں معاون کردار ادا کر سکے گا۔

Top