درختوں کی بے دریغ کٹائی سے شہر کا موسم گرم ہو گیا (محمد ہارون شاہد)

4درختوں کی بے دریغ کٹائی سے شہر کا موسم تبدیل ہو گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سایہ دار درختوں کی کمی کے باعث کراچی میں گرمی بڑھ رہی ہے، جب کہ اس بار بھی شہری انتظامیہ نے ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔ گزشتہ برس شہر میں 1260 سے زائد اموات ہوئی تھیں۔ محکمہ موسمیات کراچی میں بارشوں میں کمی اور گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سایہ دار درختوں کی تیزی سے کٹائی اور بڑھتی ہوئی عمارتوں کو قرار دے رہا ہے۔ سابقہ بلدیاتی دور میں لگائے جانے والے درخت شہری حکومت کے بجٹ پر بوجھ کے سوا کوئی کام نہ آ سکے۔ رواں برس مون سون میں بارشیں معمول کے مطابق ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، لیکن درختوں کی تیزی سے کٹائی نے اس میں مزید کمی کر دی ہے۔ ذرائع کےمطابق شہری انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے درختوں کی تیزی سے کٹائی کا عمل جاری ہے، جس کی وجہ سے بارشوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ شہر میں لگائے جانے والے درخت سایہ دار نہیں، جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ بلدیاتی دور میں ایم کیو ایم کے سابق سٹی ناظم کی جانب سے شہر میں لگائے جانے والے 25 لاکھ درخت بنا تحقیق ہی امپورٹ کر لیے گئے تھے، جس سے شہر کی آلودگی کم کرنے میں مدد نہیں ملی۔ ماہر ماحولیات اور جامعہ کراچی شعبہ انوائرمنٹل سائنسز کے پروفیسر اقبال شمس کے مطابق شہر ہیٹ آئی لینڈ کہلاتے ہیں، جو گرمی کو جذب کرتے ہیں، لیکن گرمی نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس پر قابو پانے کے لیے شہروں میں پارکس باغات اور گرین بیلٹ بنائے جاتے ہیں تاکہ گرمی کی شدت پر قابو پایا جا سکے۔ گزشتہ برسوں میں شہری حکومت کی غفلت کے باعث درختوں کی بے دریغ کٹائی سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا، جب کہ بارشیں نہ ہونا بھی، شجر کاری نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کراچی
02
یونیورسٹی شعبہ انوائرمنٹل سائنسز کے پروفیسر ظفر اقبال شمس کا کہنا ہے کہ کنکریٹ کی عمارتوں کی وجہ سے شہر کا دم گُھٹ گیا ہے۔ شہر میں بچھی کنکریٹ کی عمارتوں اور ڈامر سے بنی سڑکوں کا جال گرمی کی شدت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کراچی صحرا ہے جس کے سبب اس میں دھوپ کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس سے بچنے کا واحد ذریعہ سڑک کنارے سایہ دار درخت ہیں، جن کا وجود ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گرین بیلٹ پر لگائے گئے کونوکارپس کے درخت بھی سڑکوں پر سایہ فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیوں کہ وہ درخت نہیں  جھاڑیاں ہیں، جو ایک سمت میں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔
کراچی کو سایہ دار درختوں کی ضرورت ہے جو شہر کی سخت آب و ہوا کو جھیل سکیں۔ صحرا ہونے کی وجہ سے بارشیں ویسے ہی کراچی میں کم ہوتی ہیں جنہیں بحال رکھنے کے لیے کراچی میں کروڑوں درخت لگائے گئے تھے جو کراچی کی آب و ہوا کو برداشت کر سکیں اس کے علاوہ کراچی میں بڑے بڑے پارکس اور باغات قائم کیے گئے تھے اور سڑک کنارے گرین بیلٹس بنا کر ان پر درخت لگائے گئے تھے جن کی وجہ سے کراچی گرمی کی شدت سے مقابلے کے قابل ہوا اور نتیجتاً بارشیں بھی ہوئیں، لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں درختوں کی تیزی سے کٹائی اور عمارتوں میں اضافے نے گرمی کی شدت کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ شہر میں نیم کے اور سایہ دار درخت لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی عمارتوں اور گھروں کی بیرونی دیواروں پر ہلکے رنگ والے پینٹ کروائیں کیوں کہ گہرے رنگ گرمی کو زیادہ جذب کرتے ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر فور کاسٹ اینڈ کلائمنٹ عبدالقیوم بھٹو نے بتایا کہ رواں برس مون سون میں کراچی میں بارشیں معمول کے مطابق ہونے کا امکان ہے، لیکن درختوں کی تیزی سے کٹائی ان پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بنائی جانے والی عمارتوں کی ایک بڑی تعداد ماحولیاتی قوانین کے خلاف ہے۔
جہاں تک کراچی میں گرمی کی شدت ہے تو اس کے ذمہ دار مصطفیٰ کمال ہیں۔ سابق سٹی ناظم نے اپنے دور میں سایہ دار درختوں کے بجائے امریکہ سے درآمد کی گئی 25 لاکھ جھاڑیاں لگوائیں، جس سے قومی خزانے کے کروڑوں روپے ضائع ہوئے جبکہ کونوکارپس پودے کی وجہ سے شہری سانس کے امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ کونوکارپس پودا خوبصورتی کے سوا کسی کام نہیں آ رہا ۔ کراچی میں تیزی سے اگائے جانے والے پودے کونوکارپس میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ گزشتہ بلدیاتی دور میں شجرکاری کے دوران پاکستان سایہ دار نیم، برگد، جامن، شیشم اور ببول کے درختوں کو نظر انداز کر کے امریکہ سے تعلق رکھنے والے کونوکارپس پودے منگوا کر لگائے گئے تھے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ ایک نمکین درخت ہے اس کا پتہ جہاں بھی گرتا ہے وہاں سیم پیدا کرتا ہے، اسے آبادی والے علاقوں میں نہیں اگایا جاتا اور نہ ہی کوئی پرندہ اس میں گھونسلا بناتا ہے اس کے علاوہ یہ سانس کی بیماری کا بھی سبب بنتا ہے اور اس سے دمہ جیسی بیماری پھیلتی ہے۔ ہرا بھرا دکھنے اور جلد بڑھ جانے کی صلاحیت رکھنے کی وھہ سے شہر بھر میں کونوکارپس کو تیزی سے لگایا جا رہا ہے۔ کراچی کی آب و ہوا سے مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے خوبصورتی کے سوا اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ کراچی میں آنے والی حالیہ گرمی کی لہر کے دوران لوگ اسی درخت کے سائے تلے جا کر بیٹھتے ہیں مگر اس میں ٹھنڈے سائے کی تاثیر نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو اس سے کوئی استفادہ نہیں ہوا۔
کراچی میں گزشتہ برس 10 لاکھ پودے لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جو ایک برس گزر جانے کے باوجود تا حال سست روی کا شکار ہے۔ گزشتہ برس گرمی کی شدت سے اموات کے باعث سابق وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن نے جولائی 2015 میں کراچی میں 10 لاکھ پودے لگانے کا اعلان کیا تھا۔ سابق وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے محکمہ بلدیات اور ماتحت اداروں میں فوری طور پر شجر کاری مہم کا آغاز کرنے کی ہدایات کی تھی۔ سابق صوبائی وزیر نے اس سلسلے میں سیکرٹری بلدیات، ایڈمنسٹریٹر کراچی، ایم ڈی واٹر بورڈ اور تمام اضلاع کے ایڈمنسٹریٹرز، میونسپل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ اس شجر کاری مہم کو فوری طور پر شروع کیا جائے لیکن صوبائی وزیر سے قلمدان واپس لینے کے بعد اس حوالے سے کوئی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے شہریوں کو چائے، کافی اور ابلے انڈوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ تازہ پھلوں اور دیگر مشروبات کا استعمال ناگزیر ہے۔ لُو لگ جانے کی صورت میں فوری اسپتال کا رخ کرنا چاہیے یا پھر لُو لگنے کی ایک بھی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں فوری پانی کا استعمال کریں۔ ماہر صحت ڈاکٹر توصیف شیخ کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت سے لُو لگ جانے سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کی علامات میں بے ہوش ہونا، شدید سر درد ہونا، چکر آنا، پسینے کا کم آنا، متلی اور الٹی کا آنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرم اوقات صبح 11 سے دوپہر 3 بجے تک دھوپ میں نہ نکلا جائے۔ دھوپ میں سر ڈھانپ کر نکلیں، دن میں 2، 3 بار غسل کریں، 3 لیٹر پانی ضرور پینا چاہیے۔
1
گرمی میں گہرے رنگ اور کالے رنگ کے لباس نہ پہنیں، شدید گرمی میں چائے، کافی اور ابلے انڈے کھانے سے پرہیز کریں، تیز دھوپ سے آتے ہی پسینہ آیا ہوتا ہے تو ٹھنڈے پانی کا استعمال نہ کریں، گھر سے پانی کی بوتل ساتھ لے کر نکلیں، مریض کے جسم پر ٹھنڈا پانی ڈالا جائے۔ گردن، بغل اور پیٹھ پر برف کی ٹکور کریں، اس سے جسم کی حرارت کم ہو جائے گی۔ ٹھنڈے پانی سے بھیگے ہوئے تولیے سے جسم کی مالش کی جائے، سر پر برف کی پٹیاں رکھی جائیں تاکہ دماغ کی گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکے، اگر بیمار پانی نہ پی سکتا ہو تو نمک آمیز گلوکوز رگ میں چڑھائی جائے۔ دوران مرض خون کو موثر رکھنے کے لیے تلوؤں اور پنڈلیوں کی نیچے سے اوپر مالش کی جائے، طبیعت درست ہونے کے بعد کئی روز تک گرمی سے بچا جائے، اس بیماری سے بچنے کے لیے شربت عناب، خشک آلو بخارے کا شربت، سرکہ یا املی کا شربت مفید ہے۔ تازہ پھلوں کا رس متواتر استعمال کریں۔

Top