ایٹمی قوت اور امت اسلامیہ (عالیہ ذوالقرنین)

ferzana_islamic-parenting_articleجس طرح انسانی زندگی بعض ایام کے اچھے یا برے ہونے سے عبارت ہے اسی طرح بہت سے دن بھی روشن یا تاریک ہونے کی بنا پر اقوام اور ممالک کی تاریخ کا یادگار حصہ بن جاتے ہیں ۔ اسی طرح کا ایک دن ملک پاکستان کی تاریخ میں بھی روشن دن بن کر ایک ایسی تاریخ رقم کر گیا جیسے تا قیامت یاد رکھا جائے گا ۔کسے معلوم تھا کہ 28 مئی 1998ءکا سورج ایک ایسا دن لے کر طلوع ہو رہا ہے جسے ”یوم ِ تکبیر“ کے نام سے جانا جائے گا۔ ہزاروں پاکستانیوں نے اس ضمن میں مختلف نام تجویز کئے گئے، حکومت وقت کی جانب سے ان ناموں پر باریک بینی سے غور کیا گیا اور ”یوم تکبیر“ کا ان اس دن کیلئے فائنل کر لیا گیا۔
یوم تکبیر کا نام رکھنے کا اعزاز پاکستان کے ایک ایسے بیٹے کے حصے میں آیا جو نہ ہی کسی بڑی سیاسی شخصیت کا بیٹا تھا ور نہ ہی مالی طور پر مستحکم، ایٹمی دھماکوں کے اس تاریخی دن کا نام تجویز کرنے والے نوجوان کا نام ”مجتبیٰ رفیق“ ہے۔ مجتبیٰ رفیق نارتھ ناظم آباد ، کراچی کا رہائشی ہے۔ یوم تکبیر نام تجویز کرنے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے مجتبیٰ رفیق کو سند اعزاز سے نوازا گیا۔ جو مجتبیٰ رفیق کیلئے واقعتا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔بلاشبہ یوم تکبیر نہ صرف یہ کہ پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک قابل فخر دن تھا ۔ جب خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کی جانب سے چاغی کے مقام پر 5 ایٹمی دھماکے کئے گئے تھے۔
پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بن گیا۔ چاغی میں ہونےوالے دھماکوں کی قوت بھارت کے 43کلو ٹن کے مقابلے میں50 کلو ٹن تھی۔ بھارت نے 11 مئی 1998ءکو فشن (ایٹم بم) تھرمو نیوکلیئر (ہائیڈروجن) اور نیوکران بموں کے دھماکوں کے بعد پاکستان کی سلامتی اور آزادی کےلئے خطرات پیدا کر دیئے تھے اور علاقہ میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ جسے روکنے کےلئے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دباﺅ ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔ مجبوراََ پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط بنانے کیلئے ایٹم بم بنانا پڑا۔ایٹمی دھماکوں سے قبل پاکستان کوعالمی سطح پر شدید دبا? کا سامنا تھا۔ خصوصاََ امریکی چاہتے تھے کہ پاکستان کسی صورت میں ایٹمی دھماکے نہ کرے مگر ملک کی سالمیت اور بقا کے لئے بر وقت یہ قدم اٹھانا ضروری تھا جس کا سہرا پاکستان کے مایہ ناز سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے سر جاتا ہے ۔ جب سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایٹمی توازن قائم ہوا ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ پاکستان ایٹمی بموں کی تعداد اور کوالٹی میں بھارت پر برتری اور پاکستان کے میزائلوں کے سو فیصد ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت نے بھارت کے مقابلے میں وطن عزیز کو محفوظ بنادیا ہے اور اس حد تک محفوظ بنادیا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ نہیں کرسکے گا۔
یہ سب تو وہ باتیں ہیں جن کو ہم 28 مئی 1998 سے دہراتے ہیں ہر بار ہم نئے سرے سے خوش ہوتے ہیں ۔ جگہ جگہ اس موقع کو منانے کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اخبارات اور ٹیلی ویڑن سارا دن یوم تکبیر کی خبریں نشر کرتے ہیں مگر ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کہ ہمارے ایٹمی طاقت بننے سے کہاں کہاں امت مسلمہ کو فائدہ پہنچا، کیا فلسطین، شام، افغانستان، یمن، ایران، عراق، کشمیر، برما میں مسلمانوں پر ڈھائی جانے والی افتاد کچھ کم ہوئی؟ آقا علیہ السلام کے قول کے مطابق تو مسلمان ایک جسد ِواحد کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم بخار کی کیفیت میں اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے ۔ ہمیں ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے اس کی تکلیف کیوں نہیں ہوتی؟ کیا برائی کو ہاتھ سے روکنے میں یہ ایٹم بم کارآمد نہیں؟ میرا مطلب اس سے ہرگز اس کا استعمال نہیں مگر یہ کیسا اسلحہ ہے جس کا دشمنان اسلام کو کوئی خوف نہیں جس کا ہمارے پاس ہونا نہ ہونا برابر ہے ۔ خدارا اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور سوچیں کہ ہم نے اپنے مسلمان بھائیوں کا ساتھ دینے کے لیے کیا گیا؟ شاید جب ہم سب مل کر اس سوچ کو پروان چڑھانے میں کامیاب ہو جائیں تو دشمن کو ہمارے ایٹمی طاقت بننے سے فرق پڑ جائے ۔

Top