ویلنٹائن ڈے اور ہمارا طرز عمل (شجاع الدین شیخ)

valentine14ماہ فروری کو غیر مسلموں کو تو چھوڑئیے مسلمانوں کے معاشرے میں سرخ گلاب، سرخ رنگ کے پھول ،سرخ رنگ کے گلدستے ،سرخ رنگ کی اشیاءاورسرخ رنگ کے تحفے یہ اب معمول کی بات بنتی چلی جارہی ہے۔ کبھی کشمیر میں اس قوم کی بیٹیوں اور بیٹوں کا خون بہایا جاتا ہے۔کبھی اس امت کے افراد کا خون عراق کی گلیوں میں بہتا ہے۔کبھی بوسنیا کی سڑکیں مسلمانوں کے خو ن سے رنگین کی جاتی ہیں۔کبھی افغانستان کے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہتا رہا ۔مگر آج اس بہتے ہوئے خون پر تو امت کو افسوس نہیں ہے مگر غیر مسلموں سے ملی ہوئی رسم کے نتیجے میں 14 فروری کومسلمان ملکوں کی گلیاں سرخ دکھائی دیتی ہیں۔سینٹ ویلنٹائن کے نام پر ہونے والی ایک رسم جو کبھی روم کے مشرکوں کے ہاںدیویوں اور دیوتاﺅ ں کے عشق و محبت کی داستانوں کے نام پرمنائی جاتی تھی ۔سینٹ ویلنٹائن کے تصورات ہمارے سامنے آتے ہیں۔وقت کے ایک بادشاہ نے ایک پادری کو سزائے موت دی اور جب اس کے محبت کے چرچے عام ہوئے اور اس کے رومانوی تعلقات سامنے آئے تواس عیسائی سلطنت میں اسے ہیرو بنایا گیا ۔اس حوالے سے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جانے لگا۔یہ مشرکوں اور عیسائیوں کی عشق و محبت کی داستانوں پر مشتمل مرد و عورت کے نکاح کے بندھن کے بغیر ان کے آزادانہ اختلاط اور ان کے ملنے ملانے کی رسم تھی جس پر آپ ریسرچ کرنا چاہیں ، میری اور اہل علم کی باتوں کو ایک طرف رکھ دیں ، کافروں کے جو انسائکلو پیڈیاز ہیں جو کیتھولک انسائکلو پیڈیا ہو یا بریٹنک انسائکلوپیڈیا ہو۔آپ انٹرنیٹ پر جاکر دیکھ لیں غیر مسلموں کی مرتب کی ہوئی کتابوں ہی سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ ویلنٹائن ڈے کا پس منظر مشرکانہ ہے۔عیسائیت اختیار کرنے سے قبل جب رومن ایمپائر مشرکوں پر مشتمل تھی وہا ں کا تصور ، اور عیسائیت قبول کرنے کے بعد اس پر عیسائیت کی چھاپ کا لگ جانا اس کا معروف پس منظر ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ کیا محبت کرنا بری بات ہے؟کیا محبت کرنا منع ہے؟کیا ایک دوسرے سے محبت نہیں کرنی چاہئے؟کیا ایک دوسرے کو تحفے نہیں دینے چاہئیں؟کیا کسی کی دلجوئی کرنا بری بات ہے؟سوال یہ ہے کہ محبت گندگی ،بے حیائی اور بے شرمی اور گناہوںکے نام پرمحبت کیسی محبت ہے؟ قرآن کہتا ہے سوسرہ البقرہ آیت 165میں کہ اہل ایمان اللہ کی محبت میں شدید ہوتے ہیں ۔لہٰذا اللہ سے محبت کی جائے۔سورہ الانعام آیت 162میں کہتا ہے کہتا ہے کہ آپﷺ فرمادیجئے کہ بیشک میری نماز، میر ی قربانی، میرا جینا ، میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔اپنے خالق سے محبت کی جائے جوکروڑوں ماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔وہ رب جس نے سورہ رحمٰن میں 31مرتبہ فرمایا کہ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کوجھٹلاﺅگے۔رسول اللہ ﷺ سے محبت کی جائے۔قرآن نے سورہ احزاب آیت 6میں فرمایا کہ نبی ﷺ اہل ایمان کے نزدیک ان کی اپنی جانوں سے زیادہ محترم ہیں۔ان سے محبت کی جائے۔ پﷺنے تو ہم سے بہت محبت کی۔ ہماری خاطر راتوں کو روئے ہیں۔تہجد کی طویل نمازوں میں رسول اللہ ﷺاللہ کے حضور اس امت کی ہدایتو مغفرت کی دعا کرتے تھے۔قیامت کے روز انبیاءو رسل لوگوں کی درخواستوں پر انکار کردیں گے ، اس دن محمد ﷺ کی واحد ذات ہوگی جو سجدے کی حالت میں رو رہے ہوں گے اور لوگوں کی مغفرت کی دعائیں کررہے ہوں گے۔جتنی دعا ہمارے والدین نے ہمارے لئے نہ کی ہوگی اتنی دعائیں رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لئے کیں اور کریں گے۔اگر محبت کرنی ہے تو اپنے والدین سے کیجئے ۔ماں کی طرف ، ایک حدیث کے مطابق شفقت کی نگاہ ڈالیں تو اللہ تعالیٰ ایک حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔ایک صحابیؓ عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہﷺ!اگر میں اپنے والدین کی طرف سو مرتبہ نگاہ ڈالوں؟فرمایا تم ڈالو ۔اللہ کے خزانوں کی کوئی حد نہیں۔ماں نے اپنا خون دیا تو ہم وجود میں آئے۔اس بات پر اپنا پسینہ بہایا تو ہماری پرورش ہوئی۔اپنے بہن بھائیوں سے محبت کریں کہ یہ رحمی رشتے ہمیں اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں۔اور اگر محبت کرنی ہے تو نکاح کی بندھن میں بندہوکر کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ نکاح کے بندھن سے بڑھ کرکوئی پاکیزہ بندھن نہیں۔محبتوں کی اگر مضبوطی دیکھنی ہو تو نکاح کے بندھن کو دیکھیں بشرطیکہ یہ نکاح شریعت کے قوانین کے مطابق ہو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات ہمارے سامنے آئیں۔نکاح کا بندھن اتنا قرب عطا کردیتا ہے کہ سورہ البقرہ آیت 187میں فرمایا گیا وہ (بیویاں) تمہارے لئے اور تم ان (بیویوں) کے لئے لباس ہو۔میاں بیوی کے قرب کو اللہ تعالیٰ نے لباس سے تشبیہ دی ہے۔افسوس کہ آج محبت زنا کی طرف لے جانے والے کاموں کے لئے بن گئی۔آج کی محبت صرف 14فروری کے دن اور وہ بھی نامحرموں کے درمیان قرار پائی،وہ بھی مصنوعی محبت کے لئے۔اس کو کمرشلائزیشن کا نام دے دینا اور اس کی بنیاد پر پروڈکٹس کی فروخت کا معاملہ ۔یہ قوم کو بیوقوف بنانے کی بات ہے۔عام دنوں میں جو پھول پانچ دس روپے کو بکتا ہے وہ 14فروری یا اس سے قبل کی رات کو سو روپے تک بکتا ہے۔اسی طرح ایک گلدستہ جو چالیس پچاس روپے کا عام دنوں میں ملتا ہے وہ اس روز پانچ پانچ سو روپے کا فروخت کیا جاتا ہے۔وہ چیزیں جو لوگ عام دنوں میں خریدنا پسند نہ کریں وہ سرخ پیکنگ کے ساتھ ، بیوقوف بناکر سینکڑو ں اور ہزاروں کی تعداد میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔لوگوں کے جذبات سے کھیل کر اسے کمرشلائزیشن کا نام دے دیا گیا ہے۔اور کہا جاتا ہے کہ کیا محبت نہ کی جائے۔بے حیائی اور گندگی کو محبت کا نام دے دیا گیا ہے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔یہ چیزیں تو ہمیں نصرانیوں، یہودیوں اور مشرکوں سے ملتی ہیں۔ آئیے قرآن سے پوچھ لیتے ہیں۔قرآن سورہ مائدہ آیت 50-51میں کہتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناﺅ۔آج ہم نے ان کو اپنا آئیڈیل بنایا ہوا ہے اور کہتے ہیں مستند ہے ان کا فرمایا ہوا ۔وہاں سے جو کچھ بھی آئے گا وہ برحق ہوگا۔
آئیے دین کی بنیادی تعلیمات کو سیکھیں۔آج حیا کا دامن تار تار ہے۔بے حیائی کو گلیمرائز کردیا گیا ہے۔بے شرمی کی باتوں کو محبت کا نام دے دیا گیا ہے اور اس کو ریلیشن بلڈنگ کا نام دے دیا گیا ہے۔اور لوگ کہتے ہیں کہ کیا ہم تھوڑی سی تفریح بھی نہ کریں۔رب کی نافرمانی کو تفریح اور ترقی کا نام دے دیا گیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حیا اور ایمان دونوں ساتھی ہیں۔اگر ایک چلا جائے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے۔آپﷺ نے مزید فرمایا کہ ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں ۔اس میں اعلیٰ ترین لاالٰہ الا اللہ کہنا ہے۔اس کا کمترین درجہ راستے سے کسی تکلیف دہ شے کو ہٹا دینا ہے اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔(متفق علیہ)۔حیا ہے تو ایمان ہے اور حیا نہیں تو ایمان نہیں۔بخاری شریف کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہجب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔یعنی جو کروگے وہ کم ہوگا۔آج جوانیاں لٹ رہی ہیں۔نکاحوں کی تعداد کم اور طلاق کی زیادہ ہورہی ہے۔خلع کے کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے۔کیونکہ بے راہ روی عام ہورہی ہے۔معاشرے میں بے حیائی کو پروموٹ کیا جارہا ہے۔کنزیومرپروڈکٹس کی فروخت کے لئے ہمارے صنعتکار ویلنٹائن ڈے کا سہارا لیتے ہیں ، وہ خدا کا خوف کریں۔وہ چند ٹکوں کے حصول کے لئے بے حیائی کو معاشرے میں پروموٹ کررہے ہیں۔یہ تو شیطان کے ایجنڈے پر عمل ہورہا ہے۔قرآن نے سورہ البقرہ آیت 169 میں کہا ہے کہ شیطان تمہیں بے حیائی اور بری باتوں کا حکم دیتا ہے ۔اللہ کا حکم ہے جسے ہم جمعة المبارک کے دن خطبے میں سنتے ہیں سورہ نحل آیت 90میں کہ اللہ تمہیں بے حیائی اور برائی کی باتوں سے اور زیادتی کے کاموں سے روکتا ہے۔اب ہم غور کریں کہ ہم کس کے ایجنڈے پر عمل کررہے ہیں شیطان کے یا رحمان کے حکم پر۔گفٹس کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے اور پروڈکٹس کی فروخت ہوتی ہے ، میڈیا کے مختلف چینلوں پر اشتہارات دئیے جاتے ہیں۔ویلنٹائن ڈے کے بارے میں بڑے بڑے پروگرام چند ٹکوں کے حصول کے لئے نشر کئے جاتے ہیں، اس بارے میں قرآن سورہ نور آیت 19میںکہتا ہے کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پروموٹ ہو ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔قرآن سورہ احزاب آیت 21 میں کہتا ہے کہ یقینا تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے ۔کیا آج امت رسول اللہ ﷺ کے اسو سے حیا کو لینا چاہتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آیا ،صحابہ کرام ؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک کنواری پردہ نشین لڑکی سے بھی زیادہ حیا کرنے والے تھے۔آج امت کبھی بسنت کبھی ویلنٹائن ڈے،کبھی تفریح اورکبھی ہلا گلا کے نام پر بے حیائی کے کام اختیار کرتی ہے  شرم تم کو مگر نہیں آتی اور  کہ غیرت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے۔کیا آج امت کی بیٹیوں کو بی بی عائشہ صدیقہ ؓ کا اور بی بی زینبؓ اور بی بی فاطمہ ؓلباس پسند نہیں؟اس نوجوان سے پوچھنا چاہتا ہوں جو ویلنٹائن ڈے کسی کی بہن اور بیٹی کے ساتھ مناتا ہے کہ تمہاری بھی کوئی بہن ہے یا نہیں؟اگر مسلمان ہو تو اپنے اندر جھانک کر غیرت تلاش کرے۔اور آج اگر کوئی نوجوان لڑکی یہ حرکت کررہی ہے تو وہ سوچے کہ کیا وہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت خدیجة الکبریٰ کو پسند نہیں کرتی؟کیا ان کی حیا اسے پسندنہیں؟خاتون جنت بی بی فاطمہ ؓ کی حیا اسے پسند نہیں۔اور ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کومانتے ہیں۔آپﷺ بھی پردے کو پسند فرماتے تھے۔قرآن کی سورہ نور میں ہمیں نگاہوں کو نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔سورہ نو ر کی آیت 31میں عورتوں کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے۔قرآن ہمیں حجاب کا حکم دیتا ہے۔سورہ احزاب آیت 53میں صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا گیا کہ اگر تمہیں ازواج مطہرات ؓ سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔سورہ احزاب کی آیت 59میں حضور ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ اپنی ازواج مطہرات، اپنی بیٹیوں اور امت کی عورتوں سے کہہ دیں کہ جب باہر نکلیں تو اپنے اوپر گھونگھٹ نکال لیا کریں۔اپنے آپ کو او ر اپنے چہرے کو چھپاکر کسی کے سامنے ہو تو آئیں۔کہاں دین کے ستر و حجاب اور حیا کے احکامات اور کہاں آج ویلنٹائن ڈے منانا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں ہوگا۔مزید فرمایا کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے وہ اسی کے ساتھ ہوگا۔ آج کے مسلمان کو غیرمسلموں کی ادائیں پسند ہیں اور ان کے اختیار کرنے پر فخر ہے۔ویلنٹائن ڈے جیسے ایام منانے کے لئے ان کے پاس وقت، پیسہ اور صلاحیت بھی ہے ۔سوچیں کہ رسول اللہ ﷺ کے حیا کا عالم کیا تھا اور ہماری بے حیائی کا عالم کیا ہے۔بے حیائی کے نتیجے میں گھر برباد ہوتے ہیں۔ابن ماجہ کی روایت کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی معاشرے میں بے حیائی عام ہوتی ہے اور طاعون اور ایسی دیگر بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جن کا ذکر لوگوں نے پہلے نہیں سنا ہوتا۔ایک روایت میں یہ بھی ذکر آیا کہ جب بے حیائی عام ہوتی ہے تو قتل و غارتگری بھی عام ہوجاتی ہے۔بے حیائی کے یہ نتائج آج ہمارے سامنے آرہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو ایمان کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے ۔حیا کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ہم اپنی، اپنے گھر والوں اور معاشرے کے لوگوں کی فکر کریں اور شیطان کے ایجنڈے کی بجائے رحمان کے احکامات پر عمل کریں۔رسول اللہ ﷺ کے حقیقی امتی بن کر حیا کا پیکر بنیں ۔بے حیائی اور بے شرمی کی باتوں سے بچنے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین

Top