ووٹ کس کو دیں اور کیوں؟ (محمد نعیم)

vote election1ووٹ کی ایک خاص اہمیت ہے، آپ ووٹ ضرور دیں مگر اس امیدوار کو۔۔۔جو الیکشن سیزن کے علاوہ بھی اپنے حلقے میں دکھائی دیتا ہو۔  وہ جو صرف ووٹ لینے کے لیے آخری بار آپ کے دروزے پر نہ آیا ہوبلکہ  آپ کے دکھ سکھ میں  شریک رہتا ہو۔

آپ اس کے انتخابی نشان پر ٹھپہ لگائیں جو کسی آفت یا مشکل میں متاثرین کے ساتھ آکر کھڑا ہو جائے۔
جسے آپ اپنے جیسا انسان سمجھتے ہوں۔ اسے آپ چھو سکیں، اس کے ساتھ ہاتھ ملا سکیں، اس کے ساتھ بیٹھ سکیں، اس کے ساتھ بیٹھ کر کچھ کھا پی سکیں۔

ہاں آپ نے ووٹ دینے کا وعدہ اس سے کرنا ہے جس عوام کے درمیان آنے سے کوئی خوف نہ محسوس ہوتا ہو۔ اس کوئی پروٹوکول آپ سے ممتاز نہ بنا رہا ہو بلکہ وہ ایک عام انسان ہو جو آپ میں گھل مل جائے۔  جس کے محل کے دروازے پر آپ کو ملاقات کے لیے کئی گھنٹوں کھڑا نہ رہنا پڑے۔  وہ ایک ایسا با اثر فرد ہو جس سے آپ کو اپنے بچوں کے لیے نوکری کی بھیک نہ مانگنی پڑے نہ کوئی سفارش کی درخواست لے کر آپ اس کے پیچھے گھومیں، بلکہ اس نے خود آپ کے بچوں کا احساس کرتے ہوئے، شہر علاقے میں روزگار اور ملازمتیں فراہم کرنے میں کردار ادا کیا ہو۔

وہ ایسا فرد ہو جو آپ کو انصاف اور آپ کا حق دلوا سکے ناکہ آپ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والا اور اپنے ظلم سے آپ کو دبا کر رکھنےوالا ہو۔  ایسا ایسا باکردار اور باصلاحیت انسان ،جسے دیکھ کر عوام  خوش ہو جائیں، ووٹر اسے اپنی امیدوں کو محور و مرکز جانیں۔

یاد رکھیں!  آپ کا ووٹ ایک گواہی ہے، کہ یہ شخص صادق اور امین ہے، ملک کے اعلیٰ ایوانوں میں جانے کے قابل ہے۔یہ ایسا اچھا وکیل ہے جو اسمبلیوں میں آپ کے حقوق کے لیے لڑ سکتا ہے اور عالمی سطح پر آپ کے ملک کا بہترین دفاع کر سکتا ہے۔ یہ  آئین سازی سمیت اہم ملکی معاملات چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اس شخص میں یہ خوبی موجود نہیں تو آپ ایک ووٹ کی پرچی سے ایسے بندے کو پورے ملک پر مسلط کر رہے ہیں جو اس قابل نہیں۔

اگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ صرف میرے ووٹ سے کیا ہوگا تو اپنی سوچ بدلیں، یونہی قطرہ قطرہ سمندر اور ذرہ ذرہ پہاڑ بن جاتا ہے۔ اگر ہر کوئی ووٹ دینے والا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور غلط اور کرپٹ بندے کو ووٹ دینے سے پہلے سوچے کہ صرف میرے ووٹ سے کیا فرق پڑ جائے گا، یاد رکھیں۔ ایسا کرنے والا اپنا اور اپنی قوم کا دشمن  بنے گا۔

دوسرے پہلو سے دیکھیں تو یہ صرف ایک ووٹ نہیں بلکہ ایک ایگری منٹ ہے ، جسے آپ آسان الفاظ میں معاہدہ کہ سکتے ہیں۔ معاہدہ ہے آپ کا اپنی ذات سے کہ اگلے پانچ سال کے لیے آپ سکون کا انتخاب کر رہے ہیں یا عذاب  کا؟  آپ کا ایک ووٹ ایک ایسے درخت کے بیچ کی مانند ہے جس نے اگلے پانچ سال تک آپ کو پھل دینا ہے۔ تو فیصلہ خود کر لیں. اگلے پانچ سال آپ نے کیا ثمرات پانے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران عوام نے بغیر کوئی کارکردگی دکھائے منہ اٹھائے ووٹ مانگنے کے لیے چلے آنے والوں کو کافی حد تک آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اب شعور اور ذہنی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے کروڑوں عوام نے چور، کرپٹ اور لٹیروں کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ جو آپ جیسا ہی ایک فرد تھا وہ پچھلا الیکشن جیتنے کے بعد مالی لحاظ سے ناقابل یقین حد تک مستحکم ہو گیا ہے۔ محض چند سالوں میں اس کے پاس گاڑیاں، بنگلے، فیکٹریاں، زمینیں، نوکر چاکر، بینک بیلنس، سب کچھ آ گیا ہے اور آپ گزشتہ 25 سال سے ووٹ دینے کے باجود ویسے ہی بدتر حال میں زندگی گزار رہے ہیں تو سمجھیں یہ ’’رانگ نمبر‘‘ ہے۔

یہ نظام اور اس نظام سے جڑی کڑیوں  میں کچھ ایسی خرابی ہے کہ کوئی راتوں رات امیر ہو گیا اور کوئی کئی دہائیوں سے اپنے علاقے کی کچی سڑک پکی کرانے، محلے میں ایک نلکا لگوانے، ایک اسکول یا بجلی کا ٹرانسفامر لگوانے  کے لیے کبھی کسی کے زندہ باد کے نعرے لگا رہا ہوتا ہے تو کبھی کسی کے جلسے کے لیے چارپائیاں اور کرسیاں ڈھونے کا کام کر رہا ہوتا ہے۔

بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کے ووٹ کی سیڑھی استعمال کرنے والا تو ارب پتی بن جائے اور آپ کو بدحال کا بدحال چھوڑ دے۔  اس وقت ہر کوئی یہی کہے گا کہ ووٹ میرا ہے ، میرا ہے۔ مگر یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ ووٹ کس کا ہے؟  آپ نے اس کو ووٹ نہیں دینا جو اپنے منہ میاں مٹھو بنے۔ بلکہ ووٹ اسے دینا ہے جس نے عملی طور پر آپ کے لیے کچھ کیا ہو۔  وہ آپ کا خدمت گار اور غم خوار نہیں جو خود آ کر جلسوں میں دعوے کرے کہ میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا۔ بلکہ آپ کا اصل لیڈر وہ ہے جو خود کچھ بھی نہ بولے، مگر اس کا کام بولے۔

کسی بھی سیاست دان کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کام آ کر خود گنوائے۔ بلکہ اس کے انتخابی حلقے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے ان کے علاقے میں کیا ترقیاتی اور عوام کی فلاح و بہبود کے کام کرائے ہیں۔  جس نے عوام کی خدمت کی،  نہ اسے علاقے میں اشتہار لگوانے کی ضرورت ہے، نہ ہی جگہ جگہ ووٹ مانگنے کے لیے جلسے کرنے کی۔ بلکہ اس کے ترقیاتی منصوبے ہی اس کی کارکردگی کا اشتہار اور دلیل ہیں۔  اس کا شاندار ماضی  ہی اس کے انتخابی نشان پر ٹھپے کا ضامن بن جائے گا۔ اسے کسی سے قرآن مجید پر ووٹ دینے کے لیے حلف لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

آئیے! ہم سب مل کر عزم کریں کہ اس بار کسی چور یا کرپٹ کو منتخب نہیں کریں گے۔ برادری، چوہدری یا کسی خان کو خوش کرنے کے لیے اپنا ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ نہ اس بار ٹھپہ خواص کے انتخابی نشان پر لگے گا۔ بلکہ اس بار اقتدار اور ایوان میں وہی آئے گا جو دیانت دار ہو گا اور اس کا مقصد ملک کو لوٹنا نہیں ہو گا بلکہ وہ ملک و قوم کی خوشحالی کا عزم لے کر آیا ہو گا۔  اس بار آپ نے ووٹ دینا ہے تو اپنے خاندان اور ملک کے مستقبل کو دینا ہے،  یہی ہے میرا آج کا پیغام۔۔۔۔۔

ٹویٹر پر فالو کریں
www.twitter.com/naeemtabssum

Top