صاف پانی اور عوام (مہوش کنول)

drink waterپانی ایک نعمت ہے اور اس کے بغیر کسی جاندار کا گزارا ہی نہیں ۔جانور کو تو پیاس مٹانے کے لیے پانی کے صاف یا گندے ہونے سے کوئی غرض نہیں ہوتی البتہ انسان پینے کے لیے صاف پانی چاہتا ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں غریب گھرانے کو دووقت کی روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے اگر وہاں پانی بھی خرید کر پینا پڑے تو غریب کی جھکی ہوئی کمر مزید جھک جاتی ہے۔
صاف پانی کو اشتہارات میں تو عام کر دیا گیا ہے اور منرل واٹر کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے فلٹرز کا عوام سے تعارف تو کرایا گیا ہے لیکن غریب آدمی کی پہنچ سے صاف پانی کوسوں دور ہو گیا ہے ۔ حکومت کو یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ جب وہ صاف پانی کی روایت ڈال ہی رہے ہیں تو کیوں نہ اسے غریب تک بلا معاوضہ پہنچا بھی دیں ۔جن علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی قلت ہے اور پانی لائنوں میں ایک عرصے سے بند ہے وہاں ٹینکر مافیا نے قبضہ جما لیا ہے اور وہ غریب آدمی کی جیبب پر راج کر رہا ہے ۔ جس کی جو مرضی آتی ہے وہ منہ مانگی قیمت وصول کرتا ہے تب کہیں جا کر غریب کو پینے کا صاف پانی نصیب ہوتا ہے ۔
گزشتہ کچھ سالوں میں ٹینکر مافیا نے ٹینکر کی قیمت میں اتنا اضافہ کر دیا ہے کہ گویا پانی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں ۔ خصوصاََ جتنے بھی مل ایریا میں رہائشی علاقے ہیں وہاں زمین کا پانی جسے بورنگ کا پانی بھی کہا جاتا ہے وہ ملوں کے زہریلے مواد کے باعث اتنا خراب ہو چکا ہے جسے عام استعمال میں لانے سے قبل بھی دس بار سوچنا پڑتا ہے ۔کیونکہ ملوں سے نکلنے والے زہریلے مواد جو زمین میں جذب ہو جاتے ہیں وہ زمین یا بورنگ کے پانی میں مل جاتے ہیں ۔ان علاقوں میں پینے کے لیے تو کیا روز مرہ کے مختلف چھوٹے بڑے کاموں کے لیے بھی ٹینکر مالکان سے رجوع کرنا پڑتا ہے ۔جو اپنی مرضی کے داموں میں پانی فروخت کرتے ہیں ۔
اور جب ان کو پانی کے ٹینکر کی قیمت میں اضافہ کرنا ہو توعوام کی پہنچ سے کچھ دن کے لیے دور ہو جاتے ہیں ۔ اور جب بار بار فون کال کرکے ان حضرات کو پانی کا ٹینکر ڈلوانے کی درخواست کی جاتی ہے تو اکثر کا کہنا ہوتا ہے کہ واٹر اسٹیشن سے پانی نہیں مل رہا۔ یاٹینکر لائن میں لگا ہوا ہے ، پانی پہنچانے میں ایک لمبا وقت درکار ہوگا ۔ اور جب یہ لوگ پانی لے کر مطلوبہ افراد تک پہنچتے ہیں تو ایک احسانِ عظیم کی طرح انھیں ایک لمبی سی داستان سناتے ہیں کہ کس طرح دور دراز کے علاقوں سے لمبی لمبی لائنوں میں لگ کر پانی کا ٹینکر بھرا گیا ہے اور کس مشقت کے بعدآ پ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ہیں ۔تو اب پانی کی قیمت گزشتہ قیمت کے مقابلے میں اتنے فیصد زیادہ ہوگی۔ اگر ڈلوانا ہے تو ڈلوائیں نہیں تو اور بھی خریدار مل جائیں گے جو نئی طے کردہ قیمت پر بلا چوں چرا کئے پانی ڈلوا لیں گے ۔
انھیں بہتر طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے چار پانچ دن سے پانی کو تبرک کے طور پر استعمال کرنے والی ترسی ہوئی عوام میں انکے پانی کے ٹینکر کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گااور یہ مجبور لوگ پانی کے حصول کے لیے کتنی بھی قیمت دینے کو تیار ہو جائیں گے ۔ جو لوگ پانی کی قیمت میں ہونے والے اس اضافے کی گنجائش رکھتے ہیں وہ خود پر اللہ کی رحمت سمجھ کر ان باتوں میں آ کر پانی ڈلوا لیتے ہیں اور جن بے چارے لوگوں کی اتنی بھی استطاعت نہیں ہوتی وہ کسی ٹنکی والے کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور یہ ٹنکی والے حضرات بھی ایسے وقت میںجو ایک ٹنکی انھیں 50یا 60روپے کی پڑتی ہے اس ٹنکی کے 100روپے وصول کرتے ہیں ۔اور اس طرح بڑے ٹینکر مالکان سے لے کر چھوٹی سی ٹنکی والے حضرات اپنا کاروبار چمکاتے ہیں اور غریب کا مزید بیڑہ غرق کر دیتے ہیں ۔
الیکشن میں اربوں روپے خرچ کرکے اور غریب عوام سے ووٹ حاصل کر کے حکومتیں تو بن جاتی ہیں لیکن شہریوں کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آتا ۔انھیں کسی حکوت کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ جو بھی نئی حکومت آتی ہے وہ اپنے علاقوں کی چاندی کر دیتی ہے اور باقی علاقوں کی حالت بد سے بد تر ہوتی چلی جاتی ہے جن کا کوئی پرسا ن حال بھی نہیں ہوتا۔
غربت کی چکی میں پسے ہوئے ہر فرد کی ایک ہی التجاءہے کہ غریب علاقوں میں پانی کی نئی لائنیں ڈلوائی جائیں یا پھر جو پرانی لائنیں عرصہ دراز سے پانی کی قلت کے باعث سوکھی پڑی ہیں ان ہی کو بحال کر دیا جائے اور خداراٹینکر مافیا سے شہریوں کی جان چھڑوا ئی جائے۔

Top