واٹر ڈے، پانی کے مسائل حل ہو جائیں گے

water line breakتحریر: عبدالرحمن عاجز
ہماری زمین کا کم و بیش70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے مگر اس میں سے صرف 2 فیصد پانی ہی قابل نوش ہے۔ اسی لیے دنیا میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر شنید ہے کہ مستقبل قریب میں تنازعات اور جنگوں کی وجوہات میں سے ایک بنیادی اور بڑی وجہ پانی ہو گا۔آج بھی بہت سے ممالک کرہ ارض پر موجود ہیں جہاں پانی وافر مقدار پر موجود تو دور کی بات پینے کے لیے بھی پانی میسر نہیں ہے۔ حالانکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 22 مارچ کو عالمی یوم آب بھی منایا جاتا ہے مگر میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس ایک روز میں دنیا بھر خصوصاً پاکستان کے کتنے خاندانوں کے لیے فراہمی آب کا مستقل مسئلہ حل کیا جاتا ہے، کاش کہ اگلے روز یعنی 23 مارچ کو حکومت یا مخیر حضرات بڑھ چڑھ کے تعداد بتائیں کہ ہم نے اتنے خاندانوں کا دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ محض معلومات میں اضافہ کے لیے بتاتا چلوں کہ اللہ رب العزت نے اہل زمین والوں کواپنی لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہوا ہے۔ کرہ ارض پر سمندر یعنی کہ پانی 572,360000 مربع میل پر مشتمل ہیں جو بحرالکاہل، بحراوقیانوس، بحرہند، بحرشمال اور بحرروم کے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ 27 بڑی جھیلیں، 41 بڑے دریا اور 32 مشہور آبشاریں بھی موجود ہیں۔ صاف پانی صحت مند معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے لیکن پاکستان میں قابل نوش پانی کے حوالے سے چنداں تلخ حقائق منظر عام پر آئے ہیں۔ آلودہ پانی بیشمار امراض کی جڑ ہے اس کی وجہ سے ہیپا ٹائٹس، ٹائیفائیڈ، ڈائیریا، گیسٹرو سمیت پیٹ اور گلے کی بہت سی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلکہ اتنا ہی نہیں کراچی کے سمندر میں یومیہ پچاس کروڑ گیلن آلودہ پانی گرنے سے آبی حیات بھی تباہ ہو رہی ہیں۔

دنیا بھر میں 66 کروڑ لوگ آرسینک (arsenic) ملا پانی پینے پر مجبور ہیں جس میں سے 6 کروڑ پاکستانی بھی شامل ہیں، دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو دنیا کا جتنا بھی آرسینک ملا پانی استعمال ہو رہا ہے اس کا 11 فیصد پاکستان میں پیا جا رہا ہے۔ جس وجہ سے پاکستان میں ہر سال 30 لاکھ افراد آلودہ پانی پینے کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ہیپا water-1ٹائٹس شدت سے اپنے پر پھیلا رہا ہے۔ پاکستان میں 84 فیصد پانی مضر صحت ہے۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ملک پاکستان میں 1 سو 10 ارب روپے سالانہ گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے صرف کیے جاتے ہیں حالانکہ یہ رپورٹ بھی 2009 کی ہے اب 8 نو برسوں میں بیکراں اضافہ ہو گیا ہو گا۔ ایک خاندان اوسطاً ماہانہ 7 سو روپے کا پانی استعمال کر لیتا ہے جبکہ کراچی، کوئٹہ و دیگر کئی ایک شہروں میں ماہانہ 25 سو سے 3 ہزار روپے ماہانہ پانی پینے کے لیے خرچ ہو جاتے ہیں۔ یہاں منرل واٹر کمپنیوں کا ذکر کرنا بھی مناسب ہو گا کہ پاکستان میں ایک ارب 20 کروڑ لٹر سالانہ پانی بوتلوں والا پی لیا جاتا ہے جبکہ 90 فیصد لوکل و ملٹی نیشنل کمپنیاں تو منرل واٹر کے نام سے غدر کر رہی ہیں انہوں نے صرف R.O پلانٹ لگا رکھے ہیں منرل شامل نہیں کرتیں اسی پاداش میں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ نے 25 جنوری 2018 کو ملک بھر کی 24 منرل واٹر کمپنیوں کو مضر صحت پانی فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

پاکستان انڈسٹری ٹیکنیکل اسسٹنس سینٹر (پٹاک) ادارہ منرل واٹر کمپنیوں کو رجسٹرڈ کرتا ہے، یہ کیسے اور کن شرائط پر کر دیتا ہے، چہ معنی دارد۔ بعد ازاں پانی کے معیار کو چیک کرنے والے ادارے بھی تو اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوں گے مگر کیسے؟ کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو نوٹس لینا پڑا۔ صوبہ پنجاب میں پانی کے ذرائع کی مانیٹرنگ کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ٹیوب ویلز، فلٹریشن پلانٹس وغیرہ کو چیک کرنے کے لیے صوبہ بھر کے مئیرز، ضلع کونسلوں کے سربراہوں اور میونسپل کمیٹیوں کو مراسلہ جاری کر دیا ہے جو گاہے بگاہے حکام بالا چھاپے ماریں گے (دوسرے صوبوں کو بھی اس عمل کی پیروی کرنی چاہیے)۔ حالانکہ یہ اقدامات ناکافی ہیں کیوں کہ فیکٹریوں اور سیوریج کا گندہ پانی پرانے اور بوسیدہ پائپوں میں داخل ہو کر معدہ و جگر جیسی امراض کا سبب بن رہا ہے۔ گزشتہ روز نجی ٹی وی پر ایک پروگرام میں درج ذیل سیاستدان پانی کے اہم موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار فرما رہے تھے جو قارئین کی نظر کرنا دلچسی سے خالی نہ ہو گا: سمندری پانی کو میٹھا کرنے کے نظام کی ضرورت ہے، آصف علی زرداری۔ کے 4 اسکیم کو پورا نہیں کیا جا سکا، پانی کا بحران ہونا حکومت کی ناکامی ہے، ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف۔ کراچی میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ٹینکر مافیا کا کردار ہے۔ شہروں میں زیر زمین پمپنگ اسٹیشنز بنانے ہوں گے۔ پانی کی چوری کو روکنا ہو گا۔ پانی کی ترسیل کے لیے مانیٹرنگ کا نظام ضروری ہے، فاروق ستار۔ پاکستان میں پانی کی کوئی کمی نہیں اور وسائل موجود ہیں۔ نہروں پر ہائیڈل پاور منصوبے بنانے کی ضرورت ہے، چوہدری شجاعت حسین۔ نیت صاف ہو تو عوام کی مشکلات حل کی جا سکتی ہیں۔ حکمران چاہیں تو پانی کا بحران ختم ہو سکتا ہے جبکہ کرپشن کر کے عوام کا حق مار رہے ہیں۔ باہمی مفاد کی بنیاد پر تاجر برادری کی مدد لینا ہو گی، سردار عتیق۔ منرل واٹر بھی مضر صحت ہے۔ پانی تو چھوٹے بڑے تمام شہروں کا مسئلہ ہے۔ کوئی فلاحی تنظیم تنہا پانی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی۔ ڈیمز کی مدد سے پانی ذخیرہ کرنا ہو گا، سراج الحق۔ سندھ کے 40 فیصد لوگ سیوریج سے ملاوٹ شدہ اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ہم اور ہمارے بچے تو منرل واٹر پیتے ہیں مگر افسوس کہ عام لوگوں کے لیے کچھ نہ کیا گیا۔

water problemسالانہ لاکھوں بچے آلودہ پانی پینے سے جاں بحق ہو جاتے ہیں، عمران خان۔ حکمران پانی کے معاملے پر غیرسنجیدہ ہیں۔ حالات یہی رہے تو اگلے دس برسوں میں بھی پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ صاف پانی سے پہلے پانی کے ذرائع پیدا کرنا ضروری ہیں۔ کراچی کو روزانہ 1100 ملین گیلن پانی درکار ہے جبکہ پانی صرف 550 ملین گیلن دستیاب ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ عوام الناس کو صاف پانی مہیا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتی جس وجہ سے نیشنل و ملٹی نیشل کمپنیز مہنگے داموں پانی فروخت کر رہی ہیں۔ مارکیٹ ایوریج کے مطابق پاکستان میں ایک گلاس پانی 12 روپے میں مل رہا ہے، ڈاکٹر طاہر القادری۔ آج دنیا میں پانی کا اتنا مسئلہ نہیں ہے کیوںکہ اتنی مفید ٹیکنالوجی آ گئی ہیں کہ کسی ٹیوب ویل کے ساتھ ایک فلٹر بھی لگا لیں تو آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ روزانہ 40 کروڑ گیلن گندہ پانی سمندر میں جا رہا ہے اسے صاف کر کے استعمال کر سکتے ہیں،حاصل بزنجو۔ حکومت اس سنگین مسئلے کو شروع تو کرے کبھی نہ کبھی تو مکمل کر لے گی مگر ہم تو کام ہی نہیں کر رہے،مصطفیٰ کمال۔ کاش کہ حکمران اور مخیر حضرات اس آخری معنی خیز جملے کو اخذ کر کے عوام الناس کے لیے کچھ کر سکیں جو کہ صدقہ جاریہ بھی ہے۔
aajzemag@gmail.com

Top