کائنات، سائنس اور قرآن کی نظر میں ( عاصمہ عزیز)

space-world-04بیسویں صدی کے وسط میںسائنس کی دنیامیں یہ نقطہ نظر رائج تھا کہ کائنات ہمیشہ سے ہے اور یہ ہمیشہ ہی قائم رہے گی۔۔ اس نقطہ نظر کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ کائنات مقررہ ،جامد اور غیر متغیر مادے کا مجموعہ ہے۔یہ نظریہ” مٹیریلسٹ فلاسفی “ پر مشتمل ہے اور یہ پوری کائنات کو وجود میں لانے والے خالق کے وجود کی نفی کرتا ہے۔ تاہم بیسویں صدی کے دوران جیسے ہی سائنس نے مزید ترقی کی اس نظریے کو مکمل طور پر رد کر دیا گیا۔اکیسویں صدی کے آتے ہی بہت سے تجربات اور مشاہدات کے بعد جدید طبیعات دان اور مفکر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کائنات کی یقینا کوئی نہ کوئی ابتدا ءتھی اور یہ جامد اور غیر متغیر نہیں بلکہ کائنات مسلسل تحریک کے عمل سے گزر رہی ہے۔کائنات کی ابتدا ءکو قرآن کریم کی اس آیت سے واضح کیا جا سکتا ہے:” وہ ( اللہ) آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ۔“ (سورة الانعام:101)
موجودہ ماہرین فلکیات بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پوری کائنات کافی عرصہ پہلے ہونے والے ایک عظیم دھماکہ کے نتیجے میں معرض ِ وجود میں آئی۔اس عظیم دھماکے یا کائنات کے وجود میں آنے والے واقع کو” بگ بینگ “ کہا جاتا ہے۔۔پورا سائنسی طبقہ اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ یہ دھماکہ پندرہ ارب سال پہلے واحد پوائنٹ یا نقطے سے نکلا تھا۔اس بگ بینگ سے پہلے مادہ، توانائی اور حتی کہ وقت جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی تھی۔ یہ حقیقت جو کہ حال ہی میں جدید طبیعات دانوں نے دریافت کی ہے چودہ سو سال پہلے قرآن میںاس کا اعلان کر دیا گیا تھا۔۔چودہ سو سال پہلے جب فلکیات کا علم نہ ہونے کے برابر یا اپنے ابتدائی دور میں تھا تب قرآن مجید میں کائنات کے توسیع ہونے کے عمل کو بیان کردیا گیا تھا۔” آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایاہے اور یقیناہم کشادگی کرنے والے ہیں۔“( سورة الذٰریٰت:47)
اس آیت میں وسیع ہونے یا کشادگی کے بارے میں بات کی گئی ہے۔یعنی آسمان پہلے ہی بہت وسیع ہے لیکن ہم اس کو اس سے بھی زیادہ وسیع کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔اس آیت میں عربی کے لفظ موسع کو وُ سع سے قرار دیا جائے تو مطلب ہوگا کہ ہمارے اندر اس جیسے اور آسمان بنانے کی بھی طاقت و قدرت موجود ہے۔اور سائنس بھی موجودہ دور میں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ کائنات مسلسل تحریک اور توسیع کے عمل سے گزر رہی ہے۔بیسویں صدی کے شروع میں روسی طبیعات دان الیگزینڈرفرائیڈ من اور بیلجیم کے عالم تکوینیات جارجزلیمیٹری((Georges Lemaitreنے تھیوری کے ذریعے یہ بات ثابت کی ہے۔۔اس تصور کی تصدیق 1929مشاہدات کے ذریعے لیے گئے اعدادوشمار کے ذریعے کی گئی۔
امریکا کے ماہر فلکیات ہبل نے ٹیلی سکوپ کی مدد سے آسمان کا مشاہدہ کرتے ہوئے دریافت کیا ستارے اور گلیکسیز ایک دوسرے سے دور حرکت کر رہے ہیں۔طبیعات کے قانون کے مطابق مشاہدے کے مقام کی طرف بڑھنے والی روشنی بنفشی رنگ کی ہوتی ہے جبکہ مشاہدے کے مقام سے دور بڑھنے والی روشنی گہری سرخی مائل رنگت میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ ٹیلی سکوپ کی مدد سے آسمان کا مشاہدہ کرتے ہوئے ہبل نے دریافت کیا کہ اپنے فاصلے کے لحاظ سے ستارے جو روشنی خارج کرتے ہیں وہ سرخی مائل رنگت کی ہوتی ہے۔جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ستارے اور گلیکسیز ہر وقت نہ صرف ہم سے بلکہ ایک دوسرے سے بھی دور بڑھ رہے ہیں۔۔ کائنات میں ہر شے کا ایک دوسرے سے دور حرکت کرنا دلالت کرتا ہے کہ کائنات توسیع کے عمل سے گزر رہی ہے۔یہ حقیقت قرآن مجید میں اس وقت بیان کر دی گئی تھی جب ٹیلی سکوپ یا اس جیسے دیگر ٹیکنالوجی کے آلات ایجاد ہونے کے قریب بھی نہیں تھے۔ یہ اس لیے کہ قرآن اس رب کا کلام ہے جو کائنات کا خالق و حکمران ہے۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ کائنات کی ابتدا ءعظیم دھماکے سے ہوئی اور اس کے بعد سے یہ مسلسل توسیع کے عمل سے گزر رہی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کائنات کا ماس کافی سطح تک پہنچنے گا اور کشش ثقل کی بدولت اس کی توسیع رک جائےگی اور واپس سکڑنے کے بعد کائنات خود ختم ہوجائے گی۔اور آخر ایسے نقطے پر پہنچ جائے گی جہاں سے اس کی شروعات ہوئی تھی ۔ کائنات کے اس خاتمے کو ”بگ کرنچ “ کا نام دیا گیا۔سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے طبیعات کے پروفیسرز کا اس بارے میں کہنا ہے کہ آج جو ہم دیکھ سکتے ہیں یا نہیں بھی دیکھ سکتے سب کچھ پروٹون سے بھی چھوٹے سائز میں تباہ ہوجائے گا۔یہ بالکل اس طرح ہے کہ جیسے آپ ایک سیاہ سوراخ (black hole)کے اندر تھے۔ اس کا ذکر قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں:
”جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دئیے جاتے ہیں۔جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے۔یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کر کے(ہی) رہیں گے۔“ (سورة الانبیاء:104)
مندرجہ بالا آیت مبارکہ میں اوراق کی مانند لپیٹ دینے کی بات کی گئی ہے جو کہ غور طلب ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کاغذ کو تہہ لگا کر لپیٹا جاتا ہے اور تہہ ایسی چیز کی لگائی جاتی ہے جو متوازی ہو ۔اسی طرح پہلے کے سائنسدان اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ کائنات بیضوی یا گول شکل کی ہے لیکن بیسویں صدی کے سائنس دان آئن سٹائن نے یہ نظریے پیش کیا کہ ہمارے کائنات متوازی ہے اور ململ کے کپڑے کی مانند ہے جس پر کوئی بھی چیز رکھ دی جائے تو اس چیز کے وزن کی بدولت جتنا زیادہ دباﺅ ہوگا اس کے متاثرہ حصوں تک اس کی کشش ثقل کی قوت موجود ہوگی ۔جیسا کہ ہماری زمین کا اس کے وزن یا ماس کی وجہ سے خلا میں جتنا زیادہ دباﺅ ہے اس کے اثرات چاند تک موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ چاند زمین کی کشش ثقل کی قوت کی وجہ سے اس کے گرد گھومنے پر مجبور ہے۔اسی طرح سورج کے زیادہ ماس کی وجہ سے اس کی کشش ثقل کے اثرات پلوٹو سیارے تک موجود ہیںجو بہت زیادہ فاصلہ ہونے کے باوجود سورج کی کشش ثقل کی وجہ سے اس کے گرد گھوم رہا ہے۔لیکن حال ہی میں ایک تحقیق ہوئی ہے جس کے مطابق پلوٹو سیارہ سورج کی کشش ثقل سے نکل کر کائنات میں اب آزادگھوم رہا ہے۔
کائنات کی ابتداءاور خاتمے کے بارے میں موجودہ سائنس کی تحقیقات چودہ سو سال پہلے قرآن کریم میں دئیے گئے بیانات سے مکمل اتفاق کرتی ہیں۔اس کے باوجود سائنس جتنی بھی ترقی کر لے کائنات اور اس کے اندر چھپے رازوں کو اس کو تخلیق کرنے والے خالق و مالک سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔لیکن پھربھی آج کے دور میں ہم انسان سائنس کی تحقیقات پر تو بہت یقین رکھتے ہیں لیکن قرآن میں بیان کیے گئے معجزات پر غور و فکر نہیں کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میںہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔“ (سورة الزمر :39)

Top