یہ کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ (غازی صلاح الدین)

maxresdefault
اس کالم کا عنوان آپ سے کیا کہہ رہا ہے؟ اگر آپ عوام میڈیا کا نشہ کرتے ہیں تو آپ کا اندازہ یہ ہو گا کہ میں کراچی کے سیاسی دنگل کی بات کروں گا۔ اس شہر کی ملکیت پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کسی جائیداد کے بٹوارے کا معاملہ ہے۔ کس کو کیا ملے گا اس کا فیصلہ شاید ان قوتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ جنہیں ہم اسٹیبلشمنٹ کا نام دیتے ہیں۔ لیکن میں آپ کو بتائوں کہ میں سیاست کی بات نہیں کر رہا۔ میری توجہ خزاں کے اس موسم کے ابتدائی دنوں میں کراچی میں آنے والی اس بہار کی جانب ہے جس میں کئی رنگ کے پھول کھلے ہیں اور فضا میں ایک نئی تازگی کا احساس ہے۔ دراصل یہ جملہ کہ ارے یہ کراچی میں کیا ہو رہا ہے مجھ سے ایک واقف نے کسی قدر حیرت کے ساتھ کہا اور ان کا یہ تبصرہ جس منظر پر تھا وہ میرے ذہن میں اب بھی جاگ رہا ہے۔ یہ گزشتہ اتوار کی شام تھی اور ہم آرٹس کونسل کے اوپن ایئر تھیٹرمیں لوک میلے کے دوسرے دن کی تقریب میں شریک تھے۔ اسٹیج پر جاری بلوچ رقص کی دھمک ہمارے خون کو گرما رہی تھی۔ اتنے بڑے مجمع میں کتنے ہی لوگ کھڑے ہو کر اور اپنے ہاتھ فضا میں بلند کر کے گویا اس رقص میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک عجیب سرشاری کا عالم تھا۔ تب میں نے یہ جملہ سنا۔ واقعی، کراچی کے لئے یہ ایک حیرت کا سماں تھا۔ اس طرح ایک ہجوم کے ساتھ، دل کھول کے خوش ہونے کے مواقع کتنے کم ملتے ہیں۔ اس دو روزہ لوک میلے کا اہتمام، لوک ورثہ اور کراچی آرٹس کونسل کے تعاون سے آئی ایم کراچی، نام کی تنظیم نے کیا تھا کہ جس سے میرا پنا ذاتی تعلق ہے۔ آئی۔ ایم کراچی یعنی، میں کراچی، کا بنیادی مقصد اس زخم خوردہ شہر میں امن اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔ لوک میلہ ایک میوزک فیسٹیول کی پہلی پیش کش تھی اور کیونکہ اس میں پورے ملک کے لوک فنکاروں نے حصہ لیا تو ہم اسے اس کراچی کی سچی پہچان کہہ سکتے ہیں کہ جس کی مکمل نمائندگی نہ فاروق ستار کر سکتے ہیں اور نہ یہ بظاہر مصطفیٰ کمال کے بس کی بات ہے۔ یہ پہلی بار ہوا کہ لوک ورثہ نے اسلام آباد سے نکل کر ایک دوسرے شہر میں گلگت بلتستان سے لے کر لیاری تک کے عوامی رقص اور موسیقی کا گلدستہ سجایا۔ کراچی کے حوالے سے اس کا ایک اہم پہلو ایک زندہ معاشرے کی ست رنگی کا اقرار تھا۔
میں نے لوک میلے کے ذکر سے اپنی بات کا محض آغاز کیا ہے، جس موسم بہار کی میں خبر دے رہا ہوں اس کا دائرہ وسیع ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں کراچی کی ثقافتی زندگی میں ایک ہلچل سی مچی رہی اور میں ایک صحافی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ اس کا ذکر کروں اور اگر اس میں اس شہر کے لئے کوئی پیغام ہے تو اسے سمجھنے کی کوشش کروں ایک بہت بڑی بلکہ تاریخی تقریب جدید آرٹ کے اسٹیج پر سجائی گئی۔ یہ 22 /اکتوبر سے پانچ نومبر تک جاری رہی۔ اس کی تیاری میں ہی تقریباً دو سال لگے اور اس میں پاکستان اور کئی بیرونی ملکوں کے 140 آرٹسٹوں کی تخلیقات کی، شہر کے 12 مقامات پر نمائش کی گئی جن میں اسکول، پارک، سینما اور تاریخی عمارات شامل تھیں۔ اس نمائش کو ہم کراچی کا پہلا ’بیانالے‘ کہہ سکتے ہیں۔ اس اطالوی زبان کے لفظ کا تلفظ ذرا مشکل ہے۔ اس کا مطلب ہے ہر دوسرے سال۔ یعنی دو سال بعد اس کا دوسرا ایڈیشن پیش کیا جائے گا۔ ’بیانالے‘ کی بنیاد 1895ء میں وینس میں ڈالی گئی اور اب یہ دنیا کے تمام بڑے شہروں کی روایت بن گیا ہے۔ یہ ایک طرح کا جدید آرٹ کا عوامی میلہ ہوتا ہے۔ کراچی کی نمائش کا عنوان تھا ’شہادت‘ یعنی گواہی، اور اس کی تشریح کچھ یوں ہے کہ ’’کسی چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا کبھی کبھی غیر اختیاری بھی ہوتا ہے لیکن اپنی مرضی سے شہادت دے کر ہم ان واقعات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آرٹ اور ادب نے اپنے دور کی شہادت دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر ان واقعات اورر حالات کی شہادت جو ذہن اور حافظے میں ایک ہلچل پیدا کر دیتے ہیں۔‘‘ دوسرے لفظوں میں آرٹ اور ادب زندگی کو سمجھنے اور اسے گزارنے میں ہمارا سہارا بنتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی ’’بیانالے‘‘ نمائش میں پاکستانی اور غیر ملکی فنکاروں نے جو کمالات دکھائے ان کی تفصیل میں جانا ممکن نہیں ہے۔ البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ وہ آرٹ نہیں کہ جسے کسی میوزیم یا گیلری میں چھپا کر رکھا جائے۔ اس نمائش میں فلمیں، اداکاری، مکالمے اور تعلیمی سرگرمیاں شامل تھیں۔ تخلیقی فن کاروں نے ہمیشہ اپنے جذبات اور خیال کی قوت سے نئی دنیائوں کے خواب دیکھے ہیں۔ کراچی کے فن کاروں کو عدم برداشت اور انتہا پسندی کی قوتوں سے لڑنا ہے اور تشدد کی سیاست نے ہم سے جو کچھ چھین لیا ہے اسے بازیاب کرانا ہے۔ میں صرف یہ بتارہا ہوں کہ یہ کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں کئی دوسری تقریبات کا حوالہ بھی دے سکتا ہوں۔ مثال کے طور پر ایک دو روزہ کراچی کانفرنس میں شہر کے حالات کے بارے میں کافی فکر انگیز گفتگو کی گئی۔ کراچی کے تعمیراتی ورثے کے بارے میں ایک دن سیمینار ہو ا جس میں مجھے لندن کے ایک ماہر تعمیرات کی پیش کش بہت اچھی لگی۔ اس نے تصویروں کے ذریعے یہ سمجھایا کہ قدیم یا پرانی عمارتیں موجودہ زندگی کا حصہ کیسے بنتی ہیں۔ ماضی کے حال سے رشتے کیسے استوار ہوتے ہیں اور عمارتوں کی تعمیر معاشرتی زندگی کے کن تقاضوں کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔ کئی اور ثقافتی نوعیت کی سرگرمیاں بھی توجہ کے قابل ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ کراچی میں یہ کچھ بھی ہو رہا ہے۔
یہ سچ ہے کہ کراچی ایک ٹوٹا ہوا شہر ہے۔ اسے سب سے پہلے اچھی حکمرانی اور مادی وسائل کی حاجت ہے۔ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسائل دیکھ کر دل ڈوبنے لگتا ہے۔ تمام شہری مسلسل کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ اس تاریک پس منظر میں ثقافتی سرگرمیوں سے کیا فرق پڑے گا۔ میرے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ امن قائم کرنے کی جنگ میں اور سماجی رشتوں کی سودمند افزائش کی جستجو میں ادب اور آرٹ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ زندہ اور ترقی یافتہ معاشرے اپنے تنوع اور نسلی، لسانی اور تہذیبی رنگا رنگی سے قوت حاصل کرتے ہیں۔ کراچی نے ابھی یہ سبق نہیں سیکھا ہے۔ شناخت کی سیاست نے اسے تشدد کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ اب کیا ہونا چاہئے یہ سوچنے کی بات ہے اور یہ دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور تخلیقی فنکاروں کا کام ہے کہ وہ اس عمل میں سیاست دانوں اور حکومتی اداروں کی رہنمائی کریں۔ کراچی کو اگر صاف پانی یا پبلک ٹرانسپورٹ کی بہت ضرورت ہے تو اسے امن اور ذہنی سکون کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔ ٹرانسپورٹ جیسے مسائل تو دکھائی دے رہے ہیں لیکن کتنے لوگوں کو اس المیے کا احساس ہے کہ دنیا کے اس اتنے بڑے شہر میں کوئی باقاعدہ پبلک لائبریری نہیں ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کراچی میں فکری، تہذیبی اور تفریحی سرمایہ کاری کی بڑی گنجائش ہے۔ بڑے شہر صرف اس لئے زندہ نہیں رہتے کہ ان کی زیر زمین ریلوے کتنی تیز ہے اور ان کا سیوریج سسٹم کتنا جدید ہے۔ بڑے شہروں کا دل ان کی ثقافتی اور علمی سرگرمیوں میں دھڑکتا ہے۔ کراچی کو اگر زندہ اور معاشی معنوں میں صحت مند شہر بنانا ہے تو پھر ان تمام چیزوں کی کمی کو دور کرنا پڑے گا۔ سفر بڑا کھٹن ہے لیکن اگر ہم ہنستے گاتے قدم آگے بڑھا سکیں تو یہ کچھ آسان ضرور ہو جائے گا۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)

Top