زینب کہاں ہے؟ (شعیب یار خان)

zainabان کی تعداد تقریباً ہزاروں میں تھی۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی تھی کچھ بڑے بھی تھے لڑکیاں بھی اور لڑکے بھی۔ سب نے بے داغ سفید لباس زیب تن کئے ہوئے تھے چہروں پر انتہائی اطمینان اور آسودگی نظر آرہی تھی۔ اتنا سکون اور اطمینان زندگی میں تو میسر آہی نہیں سکتا ۔۔ سب نے گول دائرہ بنایا ہوا تھا اور ان کے درمیان ایک اور معصوم ننھی پری سرجھکائے بیٹھی تھی اور  باقی سب چلا رہے تھے سب جھوٹ ہے، فریب ہے، دھوکا ہے، کسی کی باتوں میں مت آنا، کسی آسرے میں مت رہنا، سب دھوکے باز ہیں، مفاد پرست ہیں موقع پرست ہیں ان سے اب کوئی امید بھی نہ رکھنا۔

سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ ۔۔ زینب ۔ تم اب وہاں آچکی ہو جہاں اب کوئی ظلم نہ ہوگا، یہاں نہ کوئی زیادتی ہوتی ہے نہ ہی نا انصافی، اب یہاں کوئی پرایا نہیں، ہم سب کا دکھ سانجھا ہے کسی کو اس کے رشتے دار نے بدفعلی کے بعد قتل کیا تو کسی کو کسی غیر نے ہوس کا نشانہ بنا کر جلاڈالا مگر اب ہم سب خدا کی آغوش میں آچکے ہیں ۔۔ اس جھوٹی اور فریبی دنیا سے بہت دور ہیں ۔۔ سب سننے کے بعد معصوم زینب بولی کہ نہیں اب ایسا نہیں ہوگا، تم سب غلط ثابت ہو گے میں تو صرف سات سال کی، اپنے ماں باپ کی لاڈلی زینب ہوں، میرا خون کیسے رائیگاں جاسکتا ہے؟

مجھے تو ابھی تک اتنی سمجھ بھی نہیں تھی کہ زندگی ہوتی کیا ہے؟ میں کب اور کیسے بڑی ہوں گی؟ کیسے زندگی گزاروں گی؟ مجھے کیا معلوم کہ خواب کیا ہوتے ہیں؟ اور یہ لفظ زیادتی بھی کوئی بلا ہوتی ہے! ہاں ایک مرتبہ میری ماں نے غصے میں مجھے ڈانٹا تھا میں تو سمجھی تھی کہ شاید یہی زیادتی ہوتی ہے کیونکہ میں رو دی تھی۔ مگر اس سب کے باوجود بھی میرے ساتھ زیادتی کی گئی مجھے نوچا گیا میرا قتل کیا گیا۔ تو کیسے ہوسکتا ہے کہ میرا خون رائیگاں جائے۔

قانون نافذ کرنے والے، فوجی بھائی، سیاستدان، حکمران، صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس آف پاکستان، میرے بیس کروڑ پاکستانی بھائی، بہن، بزرگ اور میرے ہاں میرے  ماں باپ جو  میری ہلکی سی تکلیف پر بری طرح پریشان ہوجاتے تھے وہ سب کیسے خاموش رہ سکیں گے؟ سب کیسے اس ظلم کو بھول جائیں گے؟ زینب نے انتہائی غصے کی حالت میں کہا نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ آپ سب لوگ جھوٹ بول رہے ہو آپ سب کو کیا معلوم کہ میں مملکت پاکستان کی بچی ہوں جو ایٹمی طاقت ہے جہاں کی افواج دنیا کی مانی ہوئی افواج میں شمار ہوتی ہے جہاں صبح سویرے سے جو اذانوں کی آوازیں آنا شروع ہوتی ہیں تو رات گئے تک رب کی حمد و ثناء جاری رہتی ہے جہاں ہروقت ٹیلی ویژن پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے اینکرز ہر روز ایک نئی داستان کو منظر عام پر لاکر حکومتوں کے کالے کارناموں کو عیاں کررہے ہوتے ہیں۔ میں اس دھرتی کی بیٹی ہوں جہاں ہر کوئی چیخ چیخ کربتارہا ہوتا ہے کہ میرا رب ایک، میرا رسول ایک، میرا قرآن ایک ہے۔

وہ دیکھو زمین پر سب کیسے احتجاج کررہے ہیں، سیاستدان ہوں یا عام لوگ سب کے سب می لئے کیسے مذمت کررہے ہیں احتجاج کر رہے ہیں ۔۔ تو پھر کیسے،ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ سب اپنی زینب کو بھول جائیں؟  مجھےدھوکا دے دیں؟۔۔ نہیں تم سب جھوٹ بول رہے ہو، زینب کے خاموش ہوتے ہی سب ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہیں اور جو سکون اور آسودگی ان کے چہروں پر تھی وہ تشویش میں بدل جاتی ہے اتنے میں ایک بچی جس کی عمر مشکل سے ایک سال تھی وہ زینب کے پاس آئی اور کہا کہ یہ سب سچ کہہ رہے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جیسا تمہارے ساتھ ہوا میں بھی ایسے ہی تمہاری طرح پرامید تھی کہ ایسا ہی ہوگا جیسا تم سوچتی ہو۔ میرے ساتھ ظلم ہوا تو زمین کا منظر بالکل ایسا ہی تھا ہر طرف میرا ہی  تذکرہ عام تھا میری امید بھی تمہاری طرح تھی مگر پھر کیا ہوا جانتی ہو۔

پھر ہوا کچھ یوں  ایک اور سانحہ ہوا اور اس میں کئی افراد جاں سے گئے اور یہ سب جو میرے لئے آواز بلند کررہے تھے وہ اس سانحے پر احتجاج کرنا شروع ہوگئے ابھی اس کا غم کم نہیں ہوا تھا کہ ایک اور آگ لگ گئی اور پھر سب نے اسی طرح اپنے ہونے کا احساس دلایا وہ ٹی وی اینکرز، تجزیہ کار جو اپنی ماہرانہ رائے اور دکھ بھرے الفاظ میرے لئے استعمال کررہے تھے ان کا موضوع تبدیل ہوگیا سیاستدان دوسرے مشاغل میں مصروف ہو گئے پھر ایک دوسرے پر الزامات اور نئی نئی بحث ومباحثے۔۔ سب مجھے بھول گئے مجھ سے پہلے میرے بعد ہونے والے سانحے کو بھول گئے پھر تمہارے ساتھ ظلم ہوگیا ابھی سب تمھارے نام ہر احتجاج کریں گے پھر کسی نئے سانحے کے بعد تم بھی قصہ پارینہ ہو جاو گی اس زمین پر ہوتا یہی ہے۔ ہر ایک سانحے کے بعد دوسرے سانحے کا انتظار کیاجاتا ہے۔ پھر سب اس میں مشغول ہوجاتے ہیں کبھی کوئی قصور وار پکڑا جاتا ہے نہ کسی کو سزا ہوتی  ہے۔ یہاں روز ظلم ہوتے ہیں اور روز ہی سوگ بھی منائے جاتے ہیں۔ دھرنے ہوتے ہیں  طویل ہوتے ہیں مگر صرف اقتدار کے حصول کیلئے۔ احتجاج ہوتا ہے تو صرف اورصرف اپنے حقوق کیلئے کسی زینب کے لئے کسی مریم کے لئے نہیں۔ یہاں ہر سانحہ پر صرف سیاست ہی ہوا کرتی ہے یہاں عدالتوں سے قاتل وکٹری کا نشان بناتے ہوئے رہا ہوتے ہیں۔ یہاں بلدیہ فیکٹری کا سانحہ ہوتا ہے، کراچی میں ہزاروں افراد کو بے وجہ روزانہ قتل کیاجاتا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکڑوں بم دھماکوں میں ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں، یہاں آئل ٹینکر میں آگ لگ کر لوگ بھسم ہوجاتے ہیں، اور  اسی جیسے کئی سانحات کسی کو انصاف نہیں ملتا ۔۔۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں بے حس زندہ  مردوں سے بدتر ہیں۔ یہاں کا نظام مظلوموں کا قاتل ہے یہاں صرف طاقتور کو ہی اس کا حق دیا جاتا ہے ۔۔ یہاں کسی کمزور کی کبھی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔

یہاں غریب کو ہمیشہ کمتر اور کمزور ہی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں حوا کی بیٹیوں کی عصمت دری کرنا انتہائی آسان ہے کیونکہ۔۔ کیونکہ یہاں اسلامی اسلام پر عمل پیرا ہونے والوں کا کال پڑتا جارہا ہے ۔۔ یہاں آج بھی حوا کی بیٹی کے جسم کو بھنبھوڑنے کیلئے بھیڑیئے بھوکے دندناتے پھرتے ہیں کوئی روکنے والا نہیں۔۔ کل میں، آج تم، کل کوئی اور، پھر پرسوں کوئی اور حوا کی بیٹی کسی درندے کی ہوس کا نشانہ بنے گی ۔۔ کیونکہ یہاں  قانون صرف کمزور کے لئے ہے۔۔ کیونکہ یہاں ظالم درندوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایاجاتا ۔۔ ہم تو اس جہنم سے نکل اس دنیا میں پہنچ گئے  آج بھی انصاف کے متلاشی ہیں  لیکن خود سوچو کہ مردہ ضمیروں سے انصاف کی توقع کرنا خود پر ظلم کرنے جیسا نہیں تو اور کیا ہے؟۔۔ یہ سب سن کر زینب کی آنکھوں میں اک بار پھر وہی بھیانک منظر لوٹ آیا جس کے سبب اسکی روح تک کرچی کرچی ہوئی ۔۔

زینب تو چلی گئی اس فریبی دنیا سے اب میرا ایوان اقتدار  کےلوگوں سوال یہ ہے کہ کیا معصوم زینب اور اس جیسی ہزاروں معصوموں کو انصاف مل پائے گا۔۔ ایسا انصاف جس کے بعد کسی  کی بھی ہمت نہ ہوں کہ وہ ہمارے بچوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے کیا اس ارض پاک پر بسنے والوں  کا ضمیر کبھی جاگے گا یا صرف دو چار روز احتجاج کے بعد یا زیادہ سے زیادہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بننے کے بعد میری زینب کی طرح یہ سانحہ بھی منوں مٹی تلے دب جائے گا؟؟؟  ۔۔۔

shoaibk2009@gmail.com

Top