لوڈشیڈنگ،شہرکی مارکیٹوں میں شٹرڈائون ہڑتال کااعلان

shutter downکراچی شہرقائد کی تاجر تنظیموں نے کراچی میں جاری بدترین بجلی کی لوڈشیڈنگ پر اپنے لائحہ عمل کا اعلان کردیا ہے۔ 72 گھنٹے پورے ہونے تک شہر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم نہ کی گئی اور اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم نہ کیا گیا تو کراچی بھر کی مارکیٹوں میں روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے کی علامتی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔ کراچی کی مارکیٹوں اور تاجر برادری کے رہنماؤں کی جانب سے کے ای انتظامیہ کے خلاف کاروباری نقصان، ذہنی اذیت ، ہیٹ اسٹروک کی صورت میں شہر کے کسی بھی علاقے میں کسی کی اموات اور بجلی کی بندش کے باعث مارکیٹوں میں چوری اور ڈکیتیوں کی واردات کی ایف آئی آر کا اندراج کرایا جائے گا۔ تمام مارکیٹوں میں کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف احتجاجی بینرز لگائے جارہے ہیں اور اگر اس کے بعد بھی کے الیکٹرک نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو کراچی کے عوام اور تاجر برادری مل کر کے الیکٹرک کا معاشرتی بائیکاٹ شروع کردیا جائے گا اور بلوں کی ادائیگی روک دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار تاجر رہنماؤں نے منگل کے روز آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ہنگامی اجلاس اور بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے صدر محمد شرجیل گوپلانی، سندھ تاجر اتحاد کے صدر جمیل احمد پراچہ، لیاقت آباد تاجر الائنس کے انصاربیگ قادری، میڈیسن مارکیٹ کے صدر زبیر میمن، نیشنل میڈیسن مارکیٹ کے طارق ممتاز، کراچی تاجر ایسوسی ایشن و پیرینٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین محمد کاشف صابرانی، کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن (کیڈا) کے سلیم میمن، بوہڑہ پیر گلاس مارکیٹ کے زبیر علی خان، میریٹ روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد احمد شمسی، جیولرز ایسوسی ایشن کے ہارون چاند، جامع الائنس کے شیخ ارشاد، صدر جیولرز ایسوسی ایشن کے محمد ارشد، لائٹ ہاؤس پرینٹنگ پریس ایسوسی ایشن کے صدر اویس خان، چیئرمین پاکستان کنفسریس ایسوسی ایشن کے جاوید عبداللہ، طارق روڈ تاجر اتحاد کے اسلم بھٹی،کنونئیر امپورٹ سب کمیٹی آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن عاطف شیخ، اشرف عیسانی کنونیئر اولڈ سٹی ایریا، زری مارکیٹ میٹھادر کے نسیم ٹھٹھائی، جنرل سیکرٹری کراچی فٹ وئیر ہول سیلرز ایسوسی ایشن فیصل جان کبیر، محمد علی سوریا ، اسٹیل مارکیٹ کے چوہدری ایوب، کراچی میٹ ویلفئیر ایسوسی ایشن کے ذیشان قریشی، گارڈن تاجر اتحاد کے زاہد امین، ٹمبر مارکیٹ کے صابر بنگش، کورنگی تاجر اتحاد کے محمد شاہد، حیدری مارکیٹ ایسوسی ایشن کے سید محمد سعید، جوبلی مارکیٹ کے عبدالغنی، رنچھوڑلائن تاجر ایسوسی ایشن کے افضل اسلام، لیاری تاجر اتحاد کے قاسم انجار والا، عثمان آباد تاجر الائنس کے دانش جعفرانی سمیت کراچی بھر کی مارکیٹوں کی انجمنوں اور الائنس کے عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں تمام مارکیٹوں کے رہنماؤں نے کے الیکٹرک کو دو روز قبل دئیے گئے 72 گھنٹے کے الٹی میٹم کے باوجود شہر بھر میں جاری بجلی کے بدترین بحران اور شہر میں 12 سے 14 گھنٹے بجلی کی تاحال بندش کے باوجود کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور حکومت سندھ کی جانب سے مکمل خاموشی پر شدید احتجاج کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل گوپلانی، جمیل احمد پراچہ، ہارون چاند، سلیم میمن، کاشف صابرانی، فہیم خان سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک سازش کے تحت اس ملک کی معیشت کی شہ رگ کراچی کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس شہر میں اب کوئی ہڑتال یا احتجاج ہو لیکن ہمیں اب اس حد تک مجبور کردیا گیا ہے کہ ہمارے پاس اب اپنا کاروبار بند کرکے احتجاج کرنے کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔ شرجیل گوپلانی نے کہا کہ ہم نے کے الیکٹرک انتظامیہ اور سندھ حکومت نے متعدد بار مطالبات کئے کہ کراچی میں موسم گرما کی آمد سے قبل بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے اقدامات کو یقینی بنایا جائے لیکن افسوس نہ کے الیکٹرک اور نہ ہی سندھ حکومت نے ہمارے کسی مطالبے پر دھیان نہیں دیا اور آج جب کراچی میں موسم گرم سے گرم ہوتا جارہا ہے تو کے الیکٹرک انتظامیہ نے مصنوعی طور پر بجلی کا بحران پیدا کرکے حکومت اور عوام کو بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ ہفتہ کو ہمارے 72 گھنٹے پورے ہورہے ہیں، جس کے بعد ہم اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز کردیں گے، جس کے پہلے مرحلے میں کراچی بھر کی مارکیٹوں میں روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے کی علامتی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی

Top