پانامہ فیصلے پرججوں کی طرح تاجر اور صنعت کار بھی تقسیم

supreme court islamabad1کراچی، پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے صنعتکاروں اور تاجروںکو بھی تقسیم کردیا۔بعض تاجر صنعت کار وں نےاختلافی نوٹ پر خوش اور کچھ تاجر فیصلے سے ناخوش جبکہ کچھ نے اس فیصلے کو پاکستانی معیشت کے لیے نیک شگون قرار دیا۔پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو پارٹس اینڈ ایسیسریز مینو فیکچرر کے چیئرمین مشہود علی خان نے پاناما فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ تاجر نامساعد حالات میں اپنا کاروبار چلا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مقامی صنعتوں کے لیے حالات سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب آنے والا اختلافی فیصلہ ملکی معیشت کے لیے اچھا نہیں ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو متفقہ فیصلہ دینا چاہیئے تھا۔تاہم ایک معروف آٹو اسمبلر کا کہنا تھا کہ فیصلے سے کاروں کی مارکیٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، ان کا کہنا تھا کہ مقامی تیار کردہ گاڑیوں کی فروخت آئندہ آنے والے دنوں میں معمول کے مطابق رہے گی۔ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبرلز کے چئیرمین صابر شیخ کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی موٹر سائیکل سیکٹر کے حالات معمول کے مطابق ہی رہیں گے۔ ایک معروف سیمنٹ ساز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سیمنٹ سیکٹر اس فیصلے کو ملک کے وسیع تر مفادات میں دیکھتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے نے پچھلے چند ماہ سے جاری بے یقینی کی صورتحال کو ختم کردیا، جس نے معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سابق سربراہ آصف سم سم نے پاناما کیس کے فیصلے کو ایک متوازن فیصلہ قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے کاروباری سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

About abdur rahman

Biographical Info

Top