وزیراعلیٰ کی زیرصدارت سندھ کابینہ اجلاس کے اہم فیصلے

sindh cabinetکراچی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، سندھ کابینہ نے شعبہ زراعت، این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے سمیت انٹراسٹی کے لیے 10 اے سی بسوں کیلئے پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے، 12 نکاتی ایجنڈے کے تحت جن تجاویز کی منظوری دی ہے اسے جلد ترمیمی بلز کی صورت میں منظوری کے لیے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں نئی زراعت پالیسی، ایاز تنیو کو بطور نئے پراسیکیوٹر جنرل تعینات ، گورنر کے اعتراضات کے بعد این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے، انٹراسٹی منصوبہ کیلئے 10 اے سی بسوں کے پائلٹ پروجیکٹ، سندھ یوتھ پالیسی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کا نام تبدیل کرکے شیخ ایاز یونیورسٹی کرنے سمیت بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018 ترمیم کی تجاویز بھی دی گئیں۔ قبل ازیں سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا، اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری سندھ ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ سندھ کابینہ کے اجلاس میں بعض بلوں کی منظوری دیئے جانے پر بحث کی گئی جن میں (1) سندھ کابینہ کا گزشتہ اجلاس 9 اپریل 2018 کے منٹس کی منظوری (2)پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی (3) لیبر کورٹ کے پریزائیڈنگ آفیسرز کی نامزدگی (4) سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے ارکان کے لیے شرائط و ضوابط طے کرنا (5) این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے کے بل 2018 پر گورنر کے اعتراضات پر غور (6) پائلٹ پروجیکٹ بسوں کے کرایوں کا تعین (7) 2018 ء سے 2030ء تک سندھ زرعی پالیسی (8) سندھ یوتھ پالیسی (9) سندھ اسپورٹس بورڈ آرڈی ننس میں ترمیم کی منظوری (10) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی شکارپور کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دینا (11) بیگم نصرت بھٹو وومین یونیورسٹی بل 2018 کی پرزینٹیشن (12) ایڈیشنل ایجنڈا آئٹم میں سندھ انڈسٹری رجسٹریشن ایکٹ – 2018 کی تشکیل شامل ہیں۔ اجلاس میں پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی سے متعلق بحث کیا گیا جس پر وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ گزشتہ اجلاس میں فیاض شاہ کا نام منتخب ہوا تھا جوکہ کم عمر کے باعث بھرتی نہ ہوسکے جن کی جگہ ایاز تنیو کو بطور نیا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کرنے کی منظوری دی جائے جس کے بعد سندھ کابینہ نے تجویز منظورکرلی۔اسکے بعد اجلاس میں گورنر سندھ کی جانب سے اعتراضات کیے گئے این ٹی ایس ٹیسٹ پاس اساتذہ کو مستقل کرنے کے بل 2018 پر غور کیا گیا جوکہ سندھ اسمبلی نے 26 فروری 2018 کو منظوری کے بعد گورنر سندھ کو بھیجا تھا جس پرگورنر سندھ نے کچھ اعتراضات کے بعدبل دوبارہ نظرثانی کیلئے واپس کردیا جنکا خیال ہے کہ متعلقہ اساتذہ یونین کاؤنسل/تعلقہ سطح پر تعینات ہوئے تھے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ متعلقہ اساتذہ اپنی یونین کاؤنسل یا تعلقہ سے تبادلہ نہیں کرائیں گے۔ جس پر سندھ کابینہ نے مجوزہ بل کی منظوری دتے ہوئے بتایا کہ جب این ٹی ایس پاس اساتذہ بھرتی ہوئے تھے تب خواتین اساتذہ کے تبادلہ پر 3 سال جبکہ مرد اساتذہ کے تبادلہ پر 5 سال کی پابندی تھی جوکہ مدت پوری ہوچکی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر ٹیچر کا تبادلہ کردیا جائے تو اسکی جگہ دوسرے استاد کو ضرور لگائیں، چاہتا ہوں کہ صوبے کا کوئی بھی اسکول ٹیچر جیسی بنیادی سہولت سے محروم نہ رہےاورخصوصاً دیہات کے اسکول بہترین طریقے سے چلائے جائیں۔ سندھ کابینہ نے محکمہ کو پابند کیا کہ ٹرانسفر کا مقصد اسکول خالی کرنا نہیں، اساتذہ کے تبادلے کے وقت طالب علم/اساتذہ کے تناسب کو ضرور متعین کیا جائے۔ اسکے بعد اجلاس میں انٹراسٹی کے لیے 10 اے سی بسوں کیلئے پائلٹ پروجیکٹ ایجنڈے زیر بحث لایا گیا۔ جس پر وزیر ٹرانسپورٹ سید ناصر شاہ نے کابینہ کو بتایا کہ 24 سیٹر 10 اے سی بسیں کراچی کے اہم شاہراہوں پر چلائی جائیں گی جس میں قائدآباد، ملیر ہالٹ، اسٹار گیٹ، شاہراہ فیصل، فیصل کالونی، ناتھا خان، ڈرگ روڈ، پی اے ایف گیٹ، کارساز/مہران بیس، بلوچ کالونی، نرسری، ایف ٹی ایس بلڈنگ، جناح اسپتال اسٹاپ، گیٹ شاپ، میٹروپول ہوٹل، نیول فاؤنڈیشن (فوارہ چوک)، آرٹس کاؤنسل، آئی آئی چندریگر روڈ، جنگ پریس، الفلاح بنک اسٹاپ اور ٹاور شامل ہیں، بسز کے کرایہ میں 5 کلومیٹر کے فاصلہ پر 20 روپے ، 5 سے 15 کلومیٹر فاصلہ پر 30 روپے جب کہ 15 سے زائد کلومیٹر کے سفر پر 40 روپے کرایہ مقرر کیا گیا ہے اوریہی کرایہ الگ پروجیکٹس کے تحت کراچی میں چلائی جانے والی دیگر بسز پر بھی لاگو ہوگا، اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے سوال پر وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ کرایہ کمیٹی کی تجویز پر مقرر کیا گیا ہے۔ سندھ کابینہ نے پائیلٹ پروجیکٹ کی منظوری دے دی۔ اسکے بعد اجلاس میں زرعی پالیسی کے ایجنڈے پر زیر بحث ہواجوکہ زراعت، لائیو اسٹاک و فشریز کے شعبوں پر محیط تھا۔ زرعی پالیسی کے اہم مقاصد میں (۱) شعبہ زراعت کی ترقی میں 4 سے 5 فیصد کا اضافہ کرنا (۲) دیہی علائقوں میں غربت کا خاتمہ (۳) اگرو-ایکولاجکل ریسورسز بیس کو محفوظ کرنا تاکہ ماحولیات کو بہتر کیا جاسکے (۴) ماحولیات کی تبدیلی کے مسائل کو مدنظر رکھ کر ماحول کو بہتر کرنا شامل ہیں جبکہ ترجیحات (۱) شعبہ زراعت میں قرضے دینا، (۲) زرعی مقاصد کے لیے زرعی زمین کی خرید، لیز و ٹرانسفر کے طریقہ کار کو آسان کرنا (۳) شعبہ زراعت سے منصوب لیگل سسٹم کو بہتر کرنا (۴) منظورشدہ بیج، کھاد، جانوروں کا کھانہ، ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کی قانون سازی کرنا (۵) نامیاتی فصلوں کی حوصلہ افزائی کرنا (۶)شعبہ زراعت میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ داروں کے دروازے کھولنا (۷) اعلیٰ قسم کی خوراک کی برآمد کرنا (۸) شعبہ زراعت میں حکومت کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرنا (۹) شعبہ زراعت میں ریسرچ پر خصوصی توجہ دینا شامل ہیں۔ وزیر زراعت سہیل انور سیال نے مجوزہ پالیسی کو اہم قرار دیتے ہوئے سندھ کابینہ کو بتایا کہ زرعی پالیسی ورلڈ بین کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے 35 ہزار 500 ٹریکٹرز محکمہ زراعت کے ذریعےکاشتکاروں کو دیے اور تمام ٹریکٹرز کے لیے 2 ہزار لیزر اور لیولرز گزشہ برسوں میں کاشتکاروں کو دے چکے ہیں۔ سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ کی کپاس، شگرکین اور گندم دیگر صوبوں سے بہتر ہیں، سندھ میں اس وقت 18.1 ملین گائے/بھینسیں و دیگر دودھ دینے والے جانور اور 21 ملین بکریاں اور بھیڑیے (دنبے) ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زراعت قومی معیشت میں 24 فیصد کا شراکت دار ہے، سال 2000 سے زرعی شعبہ کی ترقی 3 فیصد پر ٹھری ہوئی ہے۔سندھ میں آبپاشی کا نظام بہت اہمیت کا حامل ہے، سندھ کے تین بیراجوں سے 14 کینال کو پانی مہیا ہوتا ہے جوکہ 117 برانچ کینالز کو پانی پہنچاتے ہیں اور وہ آگے 1400 تقسیم کاروں کے ذریعے 44 ہزار واٹرکورسز کو پانی پہنچاتے ہیں۔ کابینہ نے وزیر زراعت سہیل انور سیال اور سیکریٹری ساجد جمال ابڑو کی جانب سے جامع پالیسی بنانے پر مبارکباد دیتے ہوئے تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد نئی زراعت پالیسی منظور کرلی ہے۔ اسکے بعد اجلاس میں یوتھ پالیسی کے ایجنڈے پر بحث کیا گیا،سندھ یوتھ پالیسی کے اہم نکات میں (۱) نوجوانوں کے لیے یوتھ ڈیولپمنٹ کمیٹی کا قیام (۲) سندھ کے ہر ضلع میں یوتھ افیئرز کے ڈپارٹمنٹ کا قیام (۳) ملازمتوں کا ڈیٹا بیس قائم کرنے کے لیے سینٹرل انفارمیشن سسٹم کا قیام (۴) یوتھ وینچوئر کیپٹل فنڈ کا قیام (۵) یونیورسٹی سطح پر چھوٹے کاروبار کیلئے تربیتی پروگرامز (۶) یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹر کا قیام (۷) اسٹوڈنٹ یونین کو بہتر کرنا (۸) نوجوانوں کے لیے آرٹیکن سپورٹ پروگرام شروع کرنا (۹) نوجوانوں کے لیے سیکیورٹی و سیفٹی پلان مرتب کرنا (۱۰) 10 فیصد نوجوان خواتین کے لیے ملازمتی کوٹہ مقرر کرنا (۱۱) لڑکے و لڑکیوں کے اسکاؤٹس کو متحرک کرنا شامل ہیں، جسکے بعد سندھ کابینہ نے یوتھ افیئرز کے صوبائی وزیر عابد بھیو اور سیکریٹری نیاز عباسی کی جانب سے جامع پالیسی دینے پر کابینہ کی مبارکباد دیتے ہوئے یوتھ پالیسی بل کی منظوری دے دی۔

Top