نگران وزیراعلیٰ سندھ سے آباداورتاجروں کی ملاقات

cm ddddکراچی نگران وزیراعلیٰ سندھ فضل الرحمان سے طارق روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر اسلم بھٹی کے قیادت میں ایک وفد نے آج وزیراعلیٰ ہاؤس ملاقات کی، وفد کے دیگر اراکین میں جنرل سیکریٹری محمد اسد توفیق ، پریس سیکریٹری فواد خان سمیت وزیراعلیٰ سندھ کے قائم مقام پرنسپل سیکریٹری حفیظ عمرانی و دیگر نے شرکت کی۔ ملاقات میں تاجر برادری نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ طارق روڈ پر ٹریفک کا مسئلہ نہایت گھمبیر ہوتا جارہا ہے جس کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے، جس پر نگران وزیراعلیٰ سندھ نے طارق روڈ سے تجاوزات کے خاتمے اور پارکنگ ایریاز کو قبضہ مافیا سے کلیئر کروانے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کے علاوہ چارج پارکنگ کے حوالے سے ہنگامی بنیاد پر اقدامات یقینی بنانے کے لئے ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایم سی ایسٹ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے طارق روڈ کی سڑکیں بہترین بنائیں ہیں لہٰذا طارق روڈ پر ٹریفک کے مسائل کا فوری طور پر تدارک ہونا چاہیے۔ انھوں نے تاجر برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے علاقہ کو صاف ستھرا رکھنے کے حوالے سے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ ملاقات میں کلیم شہریار بھی موجود تھے جنھوں نے امن کا سفید پرچم بنایا ہے جسکی تقریب رونمائی سی ویو پر جلد منعقد ہوگی،2 کلومیٹر طویل پرچم میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ دستخط بھی کریں گے نیز نگران وزیراعلیٰ نے سندھ حکومت کی جانب سے پرچم کی تقریب رونمائی میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔دریں اثنانگران وزیراعلیٰ سندھ فضل الرحمان سے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے وفد نے چیئرمین محمد عارف یوسف جیوا کی سربراہی میں آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی۔ملاقات میں اے سی ایس انوائرنمنٹ مختیار سومرو، وزیراعلیٰ سندھ کے قائم مقام پرنسپل سیکریٹری حفیظ عمرانی، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ ملاقات کے دوران آباد کے چیئرمین نے واٹر بورڈ سے متعلق شکایات کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ واٹر بورڈ نئی عمارتوں کو پانی مہیا کرنے کیلئے اجاز نامہ (این او سی) نہیں دے رہے ہیں جس کے باعث نقشہ پاس نہیں ہوپاتا ہے جس پر ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پانی دستیاب نہیں ہے جس کے باعث نئی این او سی نہیں دے سکتے۔ نگران وزیراعلیٰ سندھ نے واٹر بورڈ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت این او سی نہیں دی جارہی اسکی تشریح کروائیں۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ نے دونوں فریقین کے مابین مسائل کے حل کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی میں 2 ممبران ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) ، 1 ایم ڈی واٹر بورڈ اور 1 ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارتی شامل ہونگے۔ کمیٹی درپیش مسائل کے تدارک کے لئے قابل عمل حل کے حوالے سے کام کرے گی تاکہ درپیش مسائل کا فوری تدارک ہوسکے۔

Top