معاشرے کی فلاح کیلئے استارکو کرداراداکرناہوگا،پروفیسرڈاکٹرمختار

Karachi-Universityچیئر مین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ اساتذہ بہت خوش نصیب ہیں کہ ان کو انسانیت کی خدمت اور معاشرے کی فلاح کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ہمیں معاشرے کی فلاح وبہبود میں اپنا کردار اداکرناہوگا،مسلم اُمہ کے زوال کی موجودہ صورتحال ہم سب کے لئے قابل تشویش ہے ۔ہم مسلمانوں کا رتبہ اور شان ایسی نہیں تھی جیسی آج ہے بلکہ مسلمان وہ لوگ تھے جو اس وقت کے عالم فاضل اور مفکر تھے آج بھی سائنس کی ہر کتاب یا تھیوری دیکھ لیں تو اس میں آپ کو مسلمانوں کا کام نظرآئے گا ۔آج جوترقی مغرب نے حاصل کی ہے وہ مسلمان مفکرین اور سائنسدانوں کی مرہون منت ہے جن کی تعلیمات کو مغرب نے اپنایااور آج ہم سے آگے نکل چکے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صحیح راستے پر آگئے اور ہم اس سے ہٹ گئے ۔جو معاشرے میں آج کاٹاجارہاہے وہ میرااور آپ کا بویاہواہے،کسی بھی معاشرے کے بننے میں یا بگڑ نے میں استاد کا بہت اہم کردار ہوتاہے۔ہم نے گریجویٹ تو پیداکرلئے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں اچھی تربیت بھی فراہم کی جائے تاکہ وہ اچھے انسان بھی بن سکیں۔اچھی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت اور تفرقہ ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان: ’’اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں ہائرایجوکیشن کمیشن پاکستان کا کردار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان،بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ،تمام روئسائے کلیہ جات اور اساتذہ کی بڑی تعدا دموجودتھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میںیہاں جامعہ کراچی کے اساتذہ اور ایچ ای سی کے مابین کمیونیکیشن گیپ کو کم کرنے ،ان کے مسائل کو سننے اور ان کے حل کے لئے آیاہوں۔2001 ء میں حکومت نے ایک ادارہ قائم کیا جس میں تمام صوبوں کے نمائندوں کو دعوت دی گئی کہ وہ تعلیم کے معاملے پر اپنی آراء دیں جس کے نتیجے میں ایچ ای سی قائم ہوئی۔جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم پیداکریں اور اس کو نوجوان نسل تک منتقل کریں۔ایچ ای سی آج پورے پاکستان میں 184 جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوٹس کے ساتھ کام کررہاہے جبکہ گذشتہ چندبرسوں میں پاکستان کی ریسرچ پبلیکشن میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔پاکستانی ریسرچ اسکالرز کی ریسرچ پبلیکشن کی تعداد12 ہزار تک پہنچ چکی ہے جو ہمارے ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ کی قابلیت کا منہ بولتاثبوت ہے۔

Top