عوام کے لیے آخری سانس تک احتجاج کرینگے، مصطفی کمال

خصوصی انٹرویو: عارف رمضان جتوئی
نوٹ: پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفی کمال کا خصوصی انٹرویو کراچی اپڈیٹس کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ یہ انٹرویو اس وقت لیا گیا جب پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے  کراچی پریس کلب کے باہر سندھ حکومت سے 16مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی تحریک شروع کی گئی اور دھرنا جاری ہے۔
psp arif
کراچی پریس کلب پر آپ کا دھرنا یا احتجاج کا مقصد کیا اور کب تک رہے گا؟
مصطفی کمال : کراچی پریس کلب کے علاوہ شہر بھر میں شہریوں کے بنیادوں حقوق کے حق میں دھرنا دیا یا احتجاج جو بھی آپ سمجھ لیں اس کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ کراچی کے مسائل کے لیے آواز بلند کی ہے ، اب ہماری پارٹی کا مقصد عوام کے مسائل کا حل ہے اور اس کے لیے ہمارے احتجاج کے انداز اور شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں مگر یہ احتجاج ختم تب تک نہیں ہوگا جب تک عوام کو درپیش مسائل اور ہمارے مطالبات کو سندھ حکومت تسلیم نہیں کرلیتی۔ کراچی کے لیے اس احتجاجی تحریک کو آخری سانسوں تک لے کر جائیں گے اورعوام کے مسائل کے حل تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، وقت کی کوئی قید نہیں ہے ہم اپنی جان کی بھی پروا نہیں کریں گے۔ اگر آپ ڈیڈ لائن مانگیں گے تو ہماری سانسیں ہی ڈیڈ لائن ہیں۔
psp 03
کراچی اپڈیٹس: وہ کون سے مطالبات ہیں جو آپ نے سندھ حکومت کے سامنے رکھے ہیں؟
مصطفی کمال : 16بنیادی مطالبات ہم نے حکومت کے سامنے رکھے ہیں جو کچھ اسطرح ہیں۔ پانی کی لائنیں بچھانے سمیت دیگر
انفرااسٹریکچر شروع (1) ”فی الفور کے فور فیز ٹو کا اعلان کیا جائے“ (2) ”کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو میئر آفس کے حوالے کیا جائے“ (3) ”کچرا اٹھانے کے لیے پانچ گاربیچ ٹرانسفر سٹیشن بنائے جائیں‘ (4)‘ میئر کو واٹر بورڈ کا چیئرمین بناکر اختیارات دیے جائیں (5) کراچی میں بسوں کی قلت پوری کی جائے(6) کے الیکٹرک نے اس شہر سے زائد بلنگ کی مد میں سو ارب سے زائد لوٹے وہ واپس کرنے ہونگے (7)”کے ڈی اے کو بھی مئیر کے ماتحت کیا جائے“(8)”کراچی کے روڈ اور دیگر منصبوں سمیت اسپتالوں کو سٹی حکومت کے حوالے کیا جائے“(9)”کراچی کے پارک بھی سٹی حکومت کے ماتحت کیے جائیں“(10)”صوبائی فنانس کمیشن فی الفور تشکیل دیا جائے“ (11)روڑ انفرااسٹرکچر اتھارٹی کو ختم صوبائی مالیاتی کمیشن قائم کیا جائے (12) ڈسٹرکٹ کیڈر کی بنیاد ڈالی جائے (13)لینڈ گریبنگ کا خاتمے کے لیے سزا کا تعین کیا جائے (14)حیدراباد کے لیے پیکج کا اعلان کیا جائے”(15) سندھ کے تمام اضلاع کے یوسی اور ڈسٹرکٹ چیئرمین کو وسائل منتقل کیے جائیں(16) میئر اور ڈپٹی میئر کو با اختیار بنایا جائے۔

psp 02کراچی اپڈیٹس: آپ کس حدتک پر امید ہیں کہ یہ احتجاج اپنے مقاصد حاصل کرلے گا؟
مصطفی کمال : سب سے پہلے تو آپ یہ سمجھیں کہ ہمارا مقصد اقتدار نہیں عوام کی خدمت کرنا ہے۔ جینا مرنا اب اس تحریک سے وابستہ ہے اور عوام کے حقوق غصب کرنے والی حکومت کو نہیں چلنے دینگے شہر کو لوٹ مار سے بچانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ عوام کے ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں اور ہمیں امید ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے خود ان حکمرانوں سے اپنے حق چھینیں گے۔ لوگ ہمیں جانتے ہیں اور میں دن رات اس شہر کی خدمت کی ہے۔ اس شہر کی خدمت کا کام اللہ تعالیٰ نے ہم سے کروایا ہے اور آئندہ بھی ہم اللہ کے فضل سے یہ کام کرتے رہیں گے۔ ہم عوام کی آواز ہیں اور یہ عوام کی آواز اپنے مقاصد میں پوری ہوکر رہے گی۔

جماعت اسلامی کے ”کے الیکٹرک “ کیخلاف دھرنے کو کیسے دیکھتے ہیں، کیا آپ حمایتی ہیں؟
مصطفی کمال : کراچی کے مسائل کے لیے جماعت اسلامی ہو یا عالمگیر کی فکس اٹ کا پولیس کے خلاف احتجاج ہم ہر کسی کی مکمل حمایت کریں گے جب تک ان کا مقصد شہریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔ ہم مجموعی مسائل کو لے کر چلے ہیں جو بھی ان مسائل کے خلاف کھڑا ہوگا ان کا اور ہمارا مقصد ایک ہے۔ اس وقت ہم صرف پاکستانیت کے طور پر کھڑے ہوئے ہیں اور جو بھی پاکستان کے مسائل کے لیے کھڑا ہوگا ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

psp 01کراچی اپڈیٹس: پیپلز پارٹی نے شہر کو کتنا نقصان پہنچایا؟
مصطفی کمال : کراچی کو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں نے مل کر نقصان پہنچایا۔ الطاف حسین نے کراچی کو پیپلز پارٹی کے ہاتھوں گروی رکھا ہوا تھا، کمرشلائزیشن کے نام پر کراچی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اگر عمارتیں اسی طرح بنتی رہیں تو کراچی رہنے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ ماس ٹرانزٹ پروجیکٹ پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ پانی کے مسائل، ٹرانسپورٹ کا مسئلہ اتنے مسائل سب کے سب شہری حکومت او رصوبائی حکومت کے پیدا کیے ہوئے ہی۔

کراچی اپڈیٹس: نئی پارٹی بنانے کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں؟
مصطفی کمال : یہ بات ہم کئی بار کہہ چکے کہ ہماری نئی پارٹی کا مقصد پاکستانیت ہے۔ ہم محب وطن شہری ہیں مگر پوری دنیا میں ہمیں غدار سمجھا جانے لگا اب ہم نے یہ علم اٹھایا اور دنیا کو بتائیں گے کہ اردو بولنے والے ہی سب سے زیادہ محب وطن پاکستانی ہیں۔ پاکستان کے علاوہ اب کوئی دوسرا مقصد نہیں۔ کراچی کے شہری ہمیں خوب پہچانتے اور ہمارے کاموں کو جانتے ہیں۔ شہریوں کی خدمت نہ کرنے دینے پر پارٹی کو چھوڑا، ہماری جدوجہد کا مقصد مراعات حاصل کرنا نہیں ہے۔ ہم کسی کی طاقت یا اختیارات کو چھیننے نہیں آئے۔ مراعات آنی جانی چیزیں ہیں، عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں۔ پاکستانی قوم کو ٹکڑوں میں بانٹا جارہا ہے، ہم لوگوں کے دل جوڑنے آئے ہیں، ہم ڈیڑھ انچ کی مسجد نہیں بنانا چاہتے بلکہ بکھرے ہوﺅں کو یکجا اور مظبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے سب سے کہتے ہیں وہ آئیں ہمارے ساتھ چلیں۔ ہمارے کارکنوں کو سب سے پہلے مخالفین کی عزت کرنی ہوگی، کسی پاکستانی سے دشمنی نہیں چاہتے، پاکستانی معاشرے کو مزید تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

کراچی اپڈیٹس: کراچی کے نوجوانوں کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
مصطفی کمال : جیسا کہ آج ہمارے پاس ارتضیٰ فاروقی بھی آئے ہیں اور اس طرح بڑی تعداد ہمارے پاس آرہی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ابھی بھی بہت سے لوگ ہیں جو ریڈ لائن پر کھڑے ہیں انہیں دعوت دوں گا کہ وہ اپنے دل کی آواز کو سنیں، کراچی کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں۔ ہم دعوت پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں، کسی پر جبر نہیں کیا، صحیح بات لوگوں کے سامنے رکھی۔جو بات مانتا ہے وہ بھائی ہے، جو نہیں مانتا وہ بڑا بھائی ہے، ہمارا مقصد وزیراعلیٰ یا وزیراعظم بننا نہیں، ہماری جدوجہد کا مقصد عوامی مسائل کا حل ہے۔ نوجوان قلم ، کمپیوٹر اور روز گار کے اوزار پکڑ کر ایک با صلاحیت شہری بنیں۔ ادھر ادھر کی باتوں دھیان نہ دیں اور غیرضروری کاموں میں ہرگز نہ پڑیں۔

Top