کاتبِ وحی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ

islamمولانا محمد جہان یعقوب
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین پر مشتمل ایک جماعت مقرر کر رکھی تھی جو کتابت ِ وحی کے اہم فریضے پر مامور تھے، ان میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا چھٹا نمبر تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں :حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کا تب وحی بنایا تھا۔(ازالة الخفائ)مزید لکھتے ہیں:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کو کاتب وحی بناتے تھے جو ذی عدالت اور امانت دار ہوتا تھا۔
حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کتابت وحی کے ساتھ ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط تحر یر کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدرات اور ان کے قیام وطعام کا انتظام واہتمام بھی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کر رکھا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرباش رہا کرتے تھے۔ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں تشریف لے گئے تو سیدنا حضرت امیر معاویہ بھی پیچھے پیچھے گئے۔ راستے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کی حاجت ہوئی، پیچھے مڑ ے تو دیکھا، معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پانی لیے کھڑے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے متاثر ہوئے، چنانچہ وضو کیلئے بیٹھے تو فرمانے لگے :معاویہ! تم حکم ران بنو، تو نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور برے لوگوں کے ساتھ درگزر کرنا ۔
ذیل میں حضرت معاویہ کے حوالے سے مزید احادیث اوراس کے بعد صحابہ،ائمہ ٔ،اسلاف کے اقوال درج کیے جاتے ہیں۔سب سے پہلے احادیث!
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
١…اے اللہ! معاویہ کو ہدایت دینے والا اورہدایت یافتہ بنا دیجئے اوراس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائیے۔(جامع ترمذی)
٢…اے اللہ! معاویہ کو حساب کتاب سکھا اور اس کو عذاب جہنم سے بچا۔(کنزالعمال)
٣…معاویہ میرا رازداں ہے، جو اس سے محبت کرے گا وہ نجات پائے گا، جو بغض رکھے گا وہ ہلاک ہو گا۔(تطہیرالجنان)
٤…اللہ تعالی قیامت کے دن معاویہ کو اٹھائیں گے ، تو ان پر نور ایمان کے چادر ہوگی۔(تاریخ الاسلام ،حافظ ذہبی)
٥…میری امت میں معاویہ سب سے زیادہ بردباد ہیں۔(تاریخ مدینہ ودمشق)
خلیفہ ٔ دوم حضرت عمر فاروق بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب امت میں تفرقہ اورفتنہ برپا ہو، تو تم لوگ معاویہ کی اتباع کرنا اور ان کے پاس شام چلے جانا۔(تطہیر الجنان )
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اے لوگو! تم معاویہ کی گورنری اور امارت کو نا پسند نہ کرو، کیوں کہ اگر تم نے انھیںگم کر دیا تو دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے، جس طرح حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹو ٹ کر گر تا ہے۔(البدایہ والنہایہ، حافظ ابن کثیر )
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے سیدنا معاویہسے بڑھ کر کسی کو سردار نہیں پایا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے معاویہسے بہتر حکومت کے لیے موزوں کسی کو نہیں پایا۔(تاریخ طبری )
حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اے لوگو !معاویہ کا ذکر بھلائی کے ساتھ کرو، رسول اللہ ۖ نے ان کو ہادی اور مہدی کے لقب سے نوازا(ترمذی )
امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرما تے ہیں:سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنے میں ابتدانہیں کی۔(المنتقیٰ)
امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حضور انور ۖ کے صحابی اور برادر نسبتی ہیں، کاتبِ رسول اور وحی الٰہی کے امین ہیں۔(شفا،قاضی عیاض مالکی )
ا امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی برائی کرتے ہیں، ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں، جب تم دیکھو کہ کوئی شخص صحا بہ رضی اس عنہم کا ذکر برائی کے ساتھ کر رہا ہے،تواس کے اسلام کو مشکوک سمجھو۔(بروایت تلمیذ خاص امام میمونی)
ابراہیم بن سیرہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں:میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو کبھی نہیں دیکھا، کہ کسی کو خود مارا ہو،مگرایک شخص جس نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر سبّ وشتم کی، اس کو انھوں نے خود کوڑے لگائے۔(الصارم المسلول)
امام ربیع بن نافع رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اصحابِ رسول ۖ کے درمیان پردہ ہیں، جو یہ پردہ چاک کرے گا، وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنھم پر لعن طعن کی جراء ت کر سکے گا۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:تم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کردار و اعمال کو دیکھتے، تو بے ساختہ کہہ دیتے: یہی مہدی ہیں۔ (برحاشیہ العواصم من القواصم)
پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے راستے میں بیٹھا رہوں(کہ سامنے ان کی سواری آجائے)اور ان کے گھوڑے کے پیر کی دھول اڑ کر مجھ پر پڑ جائے ،تو میں سمجھوں گا کہ یہی میری نجات کا وسیلہ ہے ۔(خلاصہ غنیة الطالبین )
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:تم لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بدگمانی سے بچو کہ وہ ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ ہیں او زمرہ ٔ صحابیت میں بڑی فضلیت والے ہیں۔خبردار !ان کی بدگمانی میں پڑ کرگناہ کے مرتکب نہ ہونا ۔(ازالة الخفاء عن خلافة الخلفائ)
فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں:سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار ان عظیم المرتبت صحابہ میں ہوتا ہے، جنھوں نے آنحضرت ۖ کی خدمت سے منفرد حصہ پایا۔
حکیم الامت حضرت مولانامحمداشرف علی تھانوی فرماتے ہیں:بعض لوگ غلط فہمی سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جلیل القدرصحابہ سے الگ کر دیتے ہیں، ان کی یہ تقسیم سراسر نا انصافی پر مبنی ہے ۔
اہل حدیث مسلک کے مفتی ٔ اعظم شیخ سید نذیر حسین دہلوی فرماتے ہیں:سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کفر کی حالت میں بھی کبھی اسلام کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی ،قبولِ اسلام کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی بے مثال خدمت کی ۔
مسلک بریلوی کے امام مولانا احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں:جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے، وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے، ایسے شخص کے پیچھے نماز حرام ہے ۔(احکام شریعت )اسی مسلک کے مولانا احمد علی رضوی بدایونی لکھتے ہیں:سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہندہ کی شان میں گستاخی تبرا ہے۔(بہار شریعت )

Top