کامیاب معاشرے کی ضمانت (حبیب اللہ)

2اسلام دینِ کامل ہے۔ یہ اسلامیان کو طرقِ عبادات کے ساتھ ساتھ حیاتِ طیبہ سے بھی روشناس کراتا ہے۔ اسلام اس جانب بھی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ کون سا نسخہ کیمیا ہے جس پر عمل پیرا ہوکر اعلیٰ معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔ کیونکہ یہی تو مکمل دین کے اولین خصائص میں سے ہیں۔ اسلام میں حقوق کی تقسیم کی گئی ہے۔ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی پر بھی زور دیا گیا ہے۔ معاشروں میں بگاڑ اس وقت آتا ہے جب ادائیگی حقوق میں لا پرواہی برتی جائے۔ یہ حقیقت عیاں ہے کہ جب حقوق مکمل ادا کیے جاتے ہیں تو آپس میں محبتوں کا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ جب معاشرے کا ہر فرد دوسروں کے حقوق بعینہ پورے کرتا ہے تو آپس میں لطف و راحت کا سامان محبت کی صورت میں نموں پاتا ہے۔ پھر جب تمام افراد حقوق میں کوتاہی نہیں برتتے تو امن میں کوئی شے مانع نہیں رہ پاتی۔ اگر معاشرہ کے تمام افراد اس بات پر کمر کس لیں کہ میرے ہاتھ، زبان سے ہر مسلم محفوظ رہے۔ نتیجتاََ راحت و سکون والی زندگی میسر ہو سکتی ہے۔ ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جو محبتوں کی لازوال داستانیں اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔ اس معاشرے کے تمام افراد جسدِ واحد کی مانند ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوتے ہیں۔ گو کہ فردِ واحد پر بارِ گراں آ بھی جائے تو تمام افراد اس بارِگراں کو اپنے تئیں محسوس کرتے ہیں۔ پھر سب ہی اپنی استطاعت کے مطابق اس مصیبت زدہ شخص کے دکھ بانٹتے ہیں۔ تو ایسے مصائب کی وادیوں میں پھنسے شخص کے لیے سامان راحت میسر آتا ہے۔ اس لیے افراد کی اہمیت شاعر مشرق نے کچھ اس طرح کی ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
لیکن جن معاشروں میں یہ قانون عام ہو ”اپنا الو سیدھا کرو دوسرا جائے بھاڑ میں“ جس معاشرے میں مصائب میں پھنسے اشخاص کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہ ہو۔ جس معاشرہ میں غریب کے احساس محرومی کی دوا کرنے والا کوئی نہ ہو۔ جس معاشرے میں امراءدولت نشہ میں ڈوبے ہوں۔ جس معاشرہ میں صاحب ثروت حصولِ اقتدار کے نشہ میں بدمست ہوکر خون بہانے لگیں۔ جس معاشرہ کے افراد لوٹ مار کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جس معاشرہ کے لوگ ہر محکہ میں رشوت کا بازار گرم کردیں۔ جس معاشرے والے جرائم کی دنیا میں بازی لے جانے کو باعث فخر سمجھیں۔ جس معاشرہ میں دین داروں کو مجرم گردانا جا تا ہو۔ جس معاشرے میں مقاصد مخصوصہ کی تگ و دو میں چمن کو خارزار بنانے کی قسم کھا لی جائے۔ جس معاشرے کی رگوں سے دین داری نکل جائے۔ جس معاشرے کی ہر ہر انگ میںشیطانیت داخل ہو جائے۔ جس معاشرے کے باسی اپنے ہی وطن کے لیے مخلص نہ ہوں۔ تو بھلا ایسا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے؟ بننا تو درکنار کہلانے کے قابل بھی نہیں۔ ایسے معاشرے میں ہر فرد دوسرے کے لیے کانٹا بن جاتا ہے۔ پھر تمام افراد احساس محرومی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اس وقت دنیا کے اکثر معاشروں میں یہی لادینےت عام ہے۔ یہاں تک کہ مسلم معاشروں میں بھی، تو کیا اس میں اسلام قصور وار ہے؟ نہیں نہیں،
قارئین کرام ! اسلام ایسا عمدہ دین ہے کہ جس نے اپنے پیروکاروں کے لیے ایک بہترین معاشرہ قائم کرنے کے لیے بہت سے اصول، قوانین اور ضوابط مقرر کیے ہیں۔ جن پر اگر معاشروں کی بنیاد رکھی جائے تو وہ دنیا کے کامیاب ترین معاشرے بن جاتے ہیں۔ مدینہ جیسے معاشرے کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ اسلام کے مقرر کردہ ان اصول و قوانین میں وہ حقوق بھی شامل ہیں کہ جن پر اگر ہر مسلمان عمل پیرا ہوجائے تو امن و امان سے لبریز معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔ ان ضیاءپاشیاں بکھیرتے قوانین میں سے چند آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ حقوق یہ ہیں:
4
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں۔
۱) جب تو اس سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کر۔
۲) جب وہ تجھے دعوے دے تو تُو اس کی دعوت قبول کر۔
۳) جب وہ کسی معاملے میں تجھ سے مشورہ طلب کرے تو اسے اچھا مشورہ دے۔
۴) جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمداللہ کہے تو تُو اسے جواب میں یَر حَمُکَ اللہُ کہے۔
۵) جب بھی وہ کسی مصیبت ( بیماری ) میں مبتلا ہو جائے تو اس کی عیادت کر۔
۶) جب وہ فوت ہوجائے تو تُو اس کے جنازے میں شریک ہو۔ ( رواہ مسلم )
اس کے علاوہ باقی احایث میں کچھ اوراحادیث کا تذکرہ بھی آیا ہے۔ ان حقوق پر عمل پیرا ہوکر اچھا معاشرہ وجود میں لایا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ آپ مخلص بھی ہوں۔ صرف ریا کاری یا دکھلاوا نہ کر رہے ہوں۔ منہ پر تو مسلم بھائی سے عمدگی سے پیش آئیں لیکن پس پشت اس کی جڑیں کاٹنے میں لگ جائیں۔ ایسا کام نہ کریں۔ ہر عمل میں اخلاص شرط ہے۔
8939478@gmail.com

Top