ماہ ربیع الاول کے مشہور واقعات (محمد عبداللہ بلوچ)

maxresdefaultفضا ئل: اس مہینے کی عظمت کے بارے میں قرآن و حدیث سے کوئی صراحت نہیں ملتی۔ اس حوالے سے جو رو ایات بیان کی جاتی ہیں، وہ غیر مستند ہیں۔
مسنون اعمال: اس مہینے میں کسی کام کے فضیلت والے ہونے کے بارے میں قرآن وحدیث میں کوئی نص پائی جاتی ہے نہ صحابہ ہی سے کوئی ایسی بات منقول ہے، لہذا جومسنون اعمال عام دنوں میں کیے جاتے ہیں، وہ اس مہینے میں بھی کیے جائیں۔
رسوم و رواج: ربیع الاول کا چاند د یکھ کر لوگوں کو©© عید مبارک کہنا یا آمد عید کا اعلان کرنا۔ مہینہ بھر محافل میلاد کا انعتفاد کرتے رہنا اور ان میں آمد مصطفیﷺ کا انتظار کرتے ہوئے تعظیماً کھڑے ہو جانا۔ 12 ربیع الاول کو تیسری عید قرار دینا اور اس کو اللہ اور رسولﷺ کی مقرر کردہ دونوں عیدوں سے زیادہ اہم سمجھنا۔ نیز جشن میلاد منانا اور بسوں، کاروں، ٹرالیوں اور بیل گاڑیوں کی صورت میں جلوس نکالنا یا اس میں شرکت کرنا۔ مختلف مقامات پر جھنڈ یاں آویز اں کرنا اور خود ساختہ مبالغہ آمیز نعتیں پڑھنا۔ خانہ کعبہ روضہ مبارکہ مسجد نبوی اور دیگر مقامات مقدسہ کے ماڈل بنا کر ان کا طواف کرنا اور آتش بازی ہلڑ بازی اور رقص و سرودکی مخلوط اور غیر مخلوط محفلیں جمانا۔ یہ سب اعمال قرآن و سنت کی رو سے ممنوع ہیں۔
اہم واقعات: 9 ربیع الاول (راجح قول کے مطابق) عام الفیل 20 یا 22 اپریل 571ءکو پیر کے دن نبی کریم حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ 8 ربیع الاول یکم ہجری© 20/ ستمبر 622ءکو نبی ﷺ نے قبا میں نزول فرمایا، قبا کی بنتادر کھی اور پہلا جمعہ پڑ ھایا۔ 19 ربیع الاول یکم ہجری / یکم اکتوبر 622ءکو نبی ﷺ نے محلہ نبی سالم میں مسجد نبوی کی بنیاد ر کھی۔ ربیع الاول 2ھ/ ستمبر 623ءمیں نبی ﷺ 200 صحابہ کے ہمر اہ قریش کے ایک قافلے کے تعاقب میں مقام نواط تک تشریف لے گئے۔ ربیع الاول 4 ھ/ اگست 625ءمیں یہودی قبیلے بنو نضیر کو مد ینے سے جلا وطن کر دیا گیا۔ ربیع الاول 7ھ / جولائی 628ءمیں (راجح قول کے مطابق) غزوات الر قاع پیش آیا۔ 12ربیع الاول 11 ھ 9/ جون 632ءکو پیر کے دن نبی ﷺ رفیق اعلی سے جا ملے۔ ربیع الاول 11ھ جون 632 میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ نامزد کیے گئے۔ ربیع الاول 12ھ/جون 633ءمیں حضرت خالد بن ولید ؓ نے عراق کے شرہ حیرہ پر حملہ کیا اور جنگ کے اسے فتح کر لیا۔ 25 ربیع الاول 13ھ/ کیا۔ 25 ربیع الاول 15ھ 7/مئی 636ءکو حضرت ابوعبیدہؓ کی زیرکمان حضرت خالد بن ولیدؓ نے شام کا اہم شہر حمص فتح کیا۔ ربیع الاول 41 ھ/ جولائی 661ءمیں حضرت حسن اور حضرت معاویہؓ کے درمیان صلح ہوئی اور حضرت معاویہؓ متفقہ طور پر خلیفة المسلمین بن گئے۔ 14 ربیع الاول 170 ھ31/ اگست 786ءکو عباسی خلیفہ ہادی بن مہدی فوت ہوا اور اس کا بھائی ہارون الر شید تخت نشین ہوا۔ اسی روز ہارون الرشید کا بیٹا مامون الر شید پیدا ہوا۔ عجیب اتفاق کہ ایک ہی دن ایک خلیفہ فوت ہوا، دوسر اتخت نشین ہوا اور تیسر اپیدا ہوا۔ 20 ربیع الاول 227ھ 19/ دسمبر 841ءکو عباسی خلیفہ معتصم باللہ نے وفات پائی اور زمام اقتدار اس کے بیٹے ہارون واثق باللہ نے وفات پائی اور اس کا پوتا عبد الرحمن ثالث تخت نشین ہوا۔ عبد الر حمن نے پچاس برس حکومت کی اور ہر سال جہاد کیا۔ اس کا عہد تاریخ اندلس کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ 10ربیع الاول 465 ھم 15/ نومبر 1072ءکو سلطان الپ ارسلان سلجوقی نے وفات پائی اور اس کا بیٹا ملک شاہ تخت نشین ہوا۔ 22 ربیع الاول 886 ھ 23/ مئی 1481ءکو سلطنت عثمانیہ کی زمام حکومت بایزید ثانی کے ہاتھ آ گئی۔ اس کے عہد میں مالڈ یویو، کروشیا اور سلاو ینیا فتح ہوئے۔ 12 ربیع الاول 897 ھ 2/ جنوری 1492ءکو سقوط غرناطہ ہوا اور اندلس کے مسلمانوں کی حکمر انی کا خاتمہ ہو گیا۔ 21 ربیع الاول923ھ 13/اپریل 1517ءکو مصر عثمانی حکومت کے زیرنگیں آ گیا۔ 17ربیع الاول 977ھ 31/اگست 1569ءکو خاند ان مغلیہ کا چوتھا بادشاہ نور الد ین جہانگیر پیدا ہوا۔ ربیع الاول 1349ھ/ جولائی 1930ءمیں قاضی سید سلیمان منصو ر پوریؓ حج سے واپسی پر حجری جہاز میں فوت ہوئے ربیع الاول 1373ھ/نومر 1953ءمیں سید سیلمان ندویؓ نے کراچی میں وفات پائی۔
(بشکریہ دارالاندلس کیلنڈر)

Top