توہم پرستی کی حقیقت اور بچائو (عائشہ صدیقہ)

tuham parstiتوہم پرستی اور بد شگونی جیسے عقائد کے حامل افراد کچھ چیزوں، واقعات یا علامات کو اپنے لیے مبارک گردانتے ہیں اور کچھ کو نقصان دہ یا منحوس۔ توہم پرست لوگ منفی خیالات کا شکار ہو کر اپنی خوشیاں اور سکون خراب کرلیتے ہیں اور بہت جلد مایوس ہوجاتے ہیں۔کہنے کو تو ہم سائنسی دور میں رہتے ہیں جہاں ہر واقعہ اور نظریے کے دلائل اور حقائق تلاش کیے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں بھی توہم پرستی عام ہے۔
اسپین میں منگل کے دن مہینے کی 13 تاریخ ہو تو اسے قومی طور پر بدقسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چائنہ میں 8 کا ہندسہ مبارک اور 4 کا ہندسہ منحوس خیال کیا جاتا ہے حتیٰ کہ کچھ لوگ عمارت کی چوتھی منزل تعمیر نہیں کرتے ۔انہیں لگتا ہے کہ ہر سال خوش قسمتی گھر کے اگلے دروازے سے داخل ہوتی ہے اس لیے وہ صفائی کرکے گھر کی نحوستوں کو کچرے کے ساتھ پچھلے دروازے سے باہر پھینک آتے ہیں۔ آئرلینڈ میں دلہنیں اپنے لباس یا زیورات میں چھوٹی گھنٹی ضرور استعمال کرتی ہیں جسے خوش قِسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ روس میں خالی بالٹی کہیں لے جانے کو برا شگون سمجھا جاتا ہے۔
فن لینڈ کے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ اگر مکڑی کو مارا جائے تو اگلے دن بارش ہوگی۔ پرتگال کے لوگ سمجھتے ہیں کہ الٹا چلنے سے برائی ہمارا رستہ سیکھ لیتی ہے۔ مصر میں خالی قینچی چلانے کو برا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے ہوا میں موجود بد روحیں کٹ جاتی ہیں جس کے باعث ان کو غصہ آجاتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ اور نیدر لینڈ کے لوگ شادی کے بعد گھر کے باہر پائن یعنی صنوبر کا درخت لگاتے ہیں کہ یہ ان کے ازدواجی تعلقات میں مضبوطی ڈالے گا۔ برطانیہ میں چیونٹیوں کی آمد برے موسم اور ان کا قطار میں چلنا بارش ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر گائے یا بیل کسی کھیت میں گھس جائیں تو اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ کوئی مرنے والا ہے۔ مغرب میں سفید مرغی نظر آنا رحمت کی علامت جبکہ سیاہ مرغی کو شیطان کی روح گمان کیا جاتا ہے۔ ترکوں کا خیال ہے کہ اگر آپ دو ہم نام لوگوں کے درمیان کھڑے ہیں تو جو مراد چاہیں وہ پوری ہوگی۔
مسلمانوں میں توہم پرستی کی وجوہات
اگرچہ اسلام ہمیشہ تحقیق اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اس میں توہم پرستی یا بدشگونی کی قطعا گنجائش نہیں مگر اس کے باوجود مسلمانوں کی کثیر تعداد اس مرض کا شکار ہے۔ مسلمانوں میں توہم پرستی کی وجہ ایک تو کم علمی اور دینی احکام سے ناواقفیت ہے اور دوسری بڑی وجہ برصغیر میں ہندوو ¿ں کے ساتھ رہنا ہے جن میں توہم پرستی حد درجہ عام ہے جیسا کہ نومولود کو نظر بد سے بچانے کے لیے پیشانی پر کاجل کا ٹیکا یا نشان لگانا، شام کے وقت صفائی سے گریز کرنا کہ اس سے دولت کم ہوگی، مرد کی دائیں اور عورت کی بائیں آنکھ پھڑکنے کو اچھی خبر کی آمد سے مشروط کرنا، ٹانگیں ہلانے سے دولت کا جانا، پیاز یا چھری سرہانے رکھنے سے برے خوابوں سے نجات ملنا، اس کے علاوہ کالی بلّی کا راستہ کاٹنا، شیشہ ٹوٹنا، دودھ کا ابل کر برتن سے باہر گر جانا وغیرہ کو برے واقعے کی علامت سمجھنا ہندو معاشرے کے عام عقائد ہیں۔
غیر شرعی کام جو توہم پرستی میں شامل ہیں
ہمارے بزرگوں نے بہت سی غیر منطقی باتیں ہمارے ذہنوں میں انڈیل دی ہیں جس طرح ان کے بڑے ٹوک کر انہیں ذہن نشین کرواتے رہے جو توہم پرستی کے سوا کچھ بھی نہیں۔توہم پرستی پر مبنی بے شمار باتیں آپ نے اپنے گرد و نواح میں سنی ہوں گی مثلا،”منڈیر پر کوا بیٹھا تو مہمان آنے والے ہیں، چھینک آئی تو کوئی یاد کررہا ہے، فلاں پتھر اور ہندسہ مبارک ہے اور فلاں منحوس، بدھ کا دن اور ماہ صفر مصیبتیں لاتے ہیں، دائیں ہاتھ میں خارش ہے تو دولت آئے گی بائیں میں ہے تو جائے گی، جھاڑو کھڑا کرنا یا بعد از عصر جھاڑو دینا نحوست ہے، ٹوٹے تارے کو دیکھ کر یا پلک کا بال گرنے پر جو دعا مانگو وہ قبول ہوگی، رخصتی پر لڑکی کو قرآن کے نیچے سے گزارنا اور سفر سے پہلے امام ضامن پہننا“ آپ کی حفاظت کرتے ہیں۔ ”مغرب کے بعد گھر کی ساری بتیاں جلا دو ورنہ بد روحیں آجائیں گی، جائے نماز کا کونا الٹادو ورنہ شیطان نماز پڑھنے لگ جائے گا، خالی قینچی چلانے سے قطع تعلقی ہوجائے گی، نمک غلطی سے بھی زمین پر گر گیا تو روز قیامت پلکوں سے اٹھانا پڑے گا، کسی پر پے درپے آزمائشیںآنے کو “منحوس قرار دے دیا جاتا ہے۔
اسی طرح کانچ کا ٹوٹنا، بلی یا کتے کا رونا نحوست اور بے برکتی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ اور تو اور کچھ لوگ تو انگلی پر تل کو کام چوری اور ہتھیلی میں تل کو تونگری سے تعبیر کرتے ہیں اور گھر میں منی پلانٹ جتنا بڑھے وہاں اتنی دولت آئے گی۔ کچھ لوگ قرآن سے فال نکالتے ہیں جس کی شریعت میں کوئی اساس نہیں، اس کے علاوہ طوطے سے فال نکلوانا ، کاہن یا نجومی کے پاس جانا، ستاروں کے زندگی پر اثرات کا یقین رکھنا، ہاتھوں کی لکیریں دکھا کر قسمت کا حال جاننا، تعویز لٹکانا، تعویز جلا کر اسے جوتے مارنا اور یقین رکھنا کہ ہر جمعرات کو روحیں گھر والوں سے ملنے آتی ہیں۔ یہ سب توہمات اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔
میڈیا کا توہمات کی ترویج میں کردار
میڈیا کے نشر کردہ بہت سے پروگرامز اور سیریل توہمات کو سچ ہوتا دکھا کر لوگوں کے اذہان میں ایسے بے معنی خیالات کو پختہ کرتے ہیں۔ ڈرامہ سیریل ”منکر“ میں مٹھائی کا گرنا اور شادی کے دن زیور(ٹیکا) کا گم ہونا بد شگونی اخذ کیا جاتا ہے جو بعد میں درست ثابت ہوجاتی ہے، ایک اور ڈرامہ سیریل ”آدھی گواہی“میں دلہن کے لباس کا استری سے جل جانا بدشگونی کہلاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی چیز کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے، گم ہوسکتی ہے، گر سکتی ہے، خراب ہوسکتی ہے کیونکہ یہ سب ہونا عام عمل ہے بلکہ ایسا جیسے کسی بھی انسان کا کسی بھی وقت مرجانا۔
اس کے علاوہ اخبارات ، میگزین اور دیگر رسائل میں ”آپ کے ستارے کیا کہتے ہیں“یا ”آج کا دن کیسا گزرے گا“جیسی خرافات دیکھنے کو ملتی ہیں جسے تعلیم یافتہ طبقہ بھی بڑے تیقن اور دِلچسپی سے پڑھتا ہے۔ جب کہ اسلام آپ کو ایسا کچھ پوچھنے کے لیے نجومی کے پاس جانے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔آپ کبھی کچھ وقت نکال کر سرچ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان آسٹرولوجیکل سائنز کا اصل یونانی عقائد ہیں جو سینکڑوں خیالی فلسفوں پر مبنی ہے (جسے متھالوجی بھی کہا جاتا ہے) جس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔
توہمات اور بدشگونی سے متعلق شرعی احکام
قبل از اسلام بھی لوگ توہم پرستی کا شکار تھے۔ عرب کے لوگ بیٹی کی پیدائش کو منحوس سمجھتے، گھروں میں دروازے کے بجائے پچھلی دیوار توڑ کر گھر میں داخل ہونے کو باعثِ برکت سمجھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی علیہ وسلم کی وفات کے دن سورج گرہن تھا۔ کچھ لوگوں نے آپ رضی اللہ کی وفات کی وجہ سورج گرہن کو سمجھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا خیال کرنے سے منع فرما دیا۔
دیکھا جائے تو توہمات پر یقین رکھنا ہی تقدیر پر یقین کا رد ہے۔ کوئی دن، پتھر، بشر، چرند پرند یا ستارے وغیرہ انسان کے نفع و نقصان کے خَالِق نہیں ہوسکتے سوائے اللہ کے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے”اگر تجھے کوئی فائدہ پہنچے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی بدولت ہے“۔(سورة النساء آیت 79)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کسی چیز سے بد فعالی پکڑ کر اپنے کام سے پیچھے ہٹ گیا تو اس نے شرک کیا“۔ (مسند احمد : 7047۔ حدیث حسن) حضرت ابو ہریرہ رض سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی بیماری متعدی نہیں اور نہ بد شگونی کی کچھ اصل ہے، اور نہ الو میں نحوست ہے اور نہ صفر کی نحوست کی کوئی بنیاد ہے۔(صحیح بخاری،5757)عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بد شگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے ۔( آپ نے تین مرتبہ فرمایا) اور ہم میں سے ہر ایک کو (کوئی نا کوئی وہم) ہو جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی برکت سے اسے دور کر دیتا ہے“۔ (سنن ابو داو ¿د 3910)
اسی طرح تعویز کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے تعویز لٹکایا بلاشبہ اس نے شرک کیا“ (مسند احمد)
جہاں تک دم یا جھاڑ پھونک کی بات ہے تو مسنون دعاو ¿ں سے دم کرنا جائز ہے بشرطیکہ شرکیہ کلام نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دم (جھاڑ پھونک ) میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس میں شرکیہ کلمات نہ ہوں“۔(صحیح مسلم2200)
کچھ لوگ توہمات پر دلیل کرتے ہیں کہ اگر یہ جہالت ہے تو پھر فلاں کام بد شگونی سے خراب کیوں ہوگیا تو جواب یہ ہے کہ انسان جیسا گمان رکھتا ہے اس کے ساتھ پھر ویسا ہی ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی ہے کہ ”میں اپنے بندے کے گمان پر پورا اترتا ہوں“ ( صحیح مسلم)
جو شخص توہم پستی اور بدگمانی جیسے برے خیالات سے احتراز کرے اس کے لیے نیک اجر ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ”میری امت کے 70ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بد شگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں“۔(صحیح بخاری: 6472)
ایسے میں کسی بھی طرح سے توہم پرستی سے بچنا چاہیے۔ یہ ایک طرح سے شرک اور اللہ پر بھروسہ نہ کرنے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان برائیوں سے محفوظ رکھے اور بے اثرات سے بھی بچا کر رکھے۔ آمین

Top