رجسٹریشن درخواست مسترد، ملی مسلم لیگ فیصلہ چیلنج کرے گی

mmlکراچی ملی مسلم لیگ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن کی درخواست مسترد کیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کرنے کے اعلان کیا اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے فیصلہ قانون کے مطابق کرنے کی بجائے حکومتی ہدایات پر عمل کیا ہے۔ الیکشن کمیشن ملی مسلم لیگ کے خلاف ایک فریق بن چکا ہے۔ ملکی آئین اور قانون کے مطابق ہمارے جائز حق کو تسلیم نہیں کیا جارہا او ر محب وطن قوتوں کو سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد اور راجہ عبدالرحمن ایڈووکیٹ نے الیکشن کمیشن آفس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حافظ خالد ولید، حق نواز گھمن و دیگر رہنمابھی موجود تھے۔ سیف اللہ خالداور راجہ عبدالرحمن ایڈووکیٹ نے کہاکہ الیکشن کمیشن میں ساڑھے تین سو سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں لیکن آج تک کسی ایک جماعت کی رجسٹریشن کیلئے بھی الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ سے رپورٹ نہیں مانگی جبکہ ملی مسلم لیگ کے حوالہ سے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ہم وزارت داخلہ سے کلیئرنس حاصل کریں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس قانون کے تحت ہمیں ایسا کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں؟ وزارت داخلہ حکومت کے ماتحت ادارہ ہے اور اس نے وہی رپورٹ بھجوانی ہے جس کیلئے اسے ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ہم نے این اے 120میں حکومتی جماعت کے خلاف اپنا حمایت یافتہ امیدوار میدان میں اتارا ‘ اس لیے وہ ملی مسلم لیگ کو سیاست میں آنے سے روکنے کیلئے تمام حربے استعمال کر رہی ہے۔ ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد اور راجہ عبدالرحمن ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہم الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے بھجوائے گئے خط اور این اے 4پشاور کے ریٹرننگ آفیسر جنہوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلہ سے قبل ہی ملی مسلم لیگ کو اپنے خط میں کالعدم لکھا تھا‘ انہیں بھی فریق بنائیں گے۔ الیکشن کمیشن کا کام رجسٹریشن کیلئے سیاسی جماعت کا منشور دیکھنا اور اس کے عہدیداران سے متعلق چھان بین کرنی ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے کسی عہدیدار کیخلاف ملک کے کسی حصہ میں ایک ایف آئی آرتک درج نہیں ہے لہٰذا صاف اور شفاف کردار کے حامل لوگوں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حق سے محروم رکھناکہاں کا انصاف ہے؟ انہوںنے کہاکہ اس وقت ملک میں گاڈ فادراور سسلین مافیا کی حکومت چل رہی ہے۔ملی مسلم لیگ حکومتی اہلکاروں کے انتقامی حربوں سے کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں ہو گی اور چاروں صوبوں و آزاد کشمیر میں پرامن سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھے گی۔ ملکی آئین اور قانون کی بالادستی ہمارا نصب العین ہے۔ اپنا جائز سیاسی حق حاصل کرنے کیلئے بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے۔

Top