انتخابی عمل کے بعد عوامی رائے(حفیظ خٹک)

e1ملک میںگذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کے منفرد انتخابات ہیں۔ نتائج آجانے کے بعد سیاستدانوں کی اکثریت انہیںتاحال تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں کسی حد تک نتائج کو تسلیم کرچکی ہیں اور اب وہ آئندہ کیلئے لائحہ عمل مرتب کررہی ہیں۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے بعض رہنمائوں نے اب تک میں نہ مانوں کی اپنی خودساختہ رٹ قائم کی ہوئیں ہیں۔ متعدد اب تلک اپنی شکست کو تسلیم نہ کرنے کے ساتھ کامیاب ہونے والوں کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیںاور منتخب نمائندوں کو وہ راہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جن سے ان کی اپنی جماعتوں سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما و کارکنان تک متفق نہیں۔ ماضی میں کبھی نہ ہارنے کواب کی بار جس طرح عوام نے رد کیا ہے اسے وہ تاحال تسلیم نہیں کررہے۔ اس کے ساتھ دوسری جانب ملک کی عوام میں انتخابات کے بعد رونما ہونے والی صورتحال پراطمینان پایاجاتا ہے اور اس کے ساتھ سبھی کی رائے اک ہی ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صحیح ہوا اور ملک میںاس قدر تبدیلی کی بقدر ضرورت بھی تھی۔
شکست خوردہ دونوں بڑی جماعتوں نے ماضی میںکھبی ایک دوسرے کو انتخابات میں کامیابی کے بعد تسلیم نہیںکیاجس کی وجہ سے پیپلز پارٹی و مسلم لیگ ن کو اپنی صدارتی میعاد پوری کرنے کا موقع نہیں مل پایا۔ تاریخ میں یہ بھی سنہری الفاظ میں ہی لکھا جائے گا کہ دونوں جماعتوں کو ایک ایک بار اپنی پانچ سالہ صدارتی میعاد کی مدت پوری کرنے کا موقع ملاتاہم اس کے باوجود دونوں جماعتوں کو شکست ہوئی۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کی عوام قابل تعریف ہے کہ جنہوں دیگر صوبوں کی عوام کی بنسبت بڑھ کر سیاسی انتقام لینے کا مظاہرہ ووٹ دینے کے معاملے میں کیا ہے۔ انہوںنے ماضی میں سبھی کو آزمایا، اسلام پسند مولیوںکو، قوم پرست نیشنلسٹوں، روٹی کپڑاو مکان والوں، قرض اتاروملک سنواروالوںکو انہوں نے اکثریت میں ووٹ دیکر مسائل کے حل کی جانب بڑھنے کے پورے مواقع دیئے تاہم جب انہیںکامیابی نہیں ملی تو اس صوبے کی عوام نے انہیںنئے ہونے والے انتخابات میں ووٹ نہ دے کر رد کیا۔ اس سے قبل ہونے والے انتخابات میں انصاف کاعلم بلند کرنے والوں کو بھی وہاں کی عوام نے موقع دیا، انہوںنے صوبے کے مسائل کو حل کرنے کی اپنے انداز میںکاوشیں کیں۔ صحت، تعلیم و ماحول سے متعلق ان کے کاموں کو عوام نے پسند کیا اور اس کا اظہار ووٹ دے کر کیا۔
شہر قائد کے درجنوںشہریوںسے انتخابات کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کیلئے اک سروئے کیا گیا جس میں متخلف شعبہ زندگیوں کے افراد نے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے نئے حالات و نئی سیاسی تبدیلیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سروے میں انتخابی عمل میں شریک جماعتوں کے کارکنوں سے گفتگو ہوئیں جن میں ان کی رائے وہی تھی جو کہ ان کے جماعتی رہنمائوںکی تھی۔ بعض شہریوں نے تو بعض جماعتوں کی کسی بھی نشست پر عدم کامیابی پر اپنی طویل حیرت تک کا اظہار کیا۔ تاہم مجموعی طور پر عوامی رائے نے اس خیال کا اظہار کیا کہ جب بین الاقوامی مبصرین نے انتخابات کو شفاف قرار دیا، پاک فوج سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پرامن انداز میں سارے عمل کو انجام تک پہنچایا اور اس کے ساتھ ہی فافن و دیگر ملک کی اندرونی این جی اووز نے بھی کسی بھی ردعمل و غیر شفافیت کا اظہار نہیںکیا تو ہارے والی تمام جاعتوں کو چاہئے کہ ملک کی سالیت کیلئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ پاکستان پہلے ہی ملک کے دشمنوں سے نبردآزما ہے اور اس صورتحال میں بھی کہ جب دہشت گرد ملک کو نقصان پہنچانے کیلئے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں تو یہ قطعی نہ مناسب ہے کہ انتخابی عمل میں جیتنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں جائیں۔ جو بھی جیتے ہیںاب انہیںاپنی مدت پورے کرنے کا موقع دیں اور ہارنے والے حزب اختلاف میں بیٹھ کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ملک کی خدمت اگر اقتدار میں رہہ کر ہوسکتی ہے تو اقتدار کے بغیر بھی ملک کی خدمت سرانجام دی جاسکتی ہیں۔ بعض شہریوں نے متعدد این جی اووز کا نام لے کر کہا کہ ان سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ ان این جی اووز سے ہی کچھ سبق حاصل کریں۔ وہ جو بے لوث انداز میں صرف کی خدمت کررہی ہیں۔ ملک کو مسائل کو حل کرنے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ وہ حکومتی عدم تعاون پر بھی کبھی درختوں پیوندکاری کرتے ہیںتو کچھ ازخود سڑکوں کی تعمیر میں لگ جاتے ہیں۔ کچھ اسکول کے بچوں کو لے کر ساحل سمندر کا رخ کرتے ہیںاور وہاں موجود گند کو صاف کرتے ہیں تو کچھ سڑکوں پر ہی یہی کام کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ ان این جی اووز سے سبق حاصل کریں اور ان کے ساتھ مل کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
بعض شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں منظم منصوبہ بندی کے ذریعے دھاندلی کی گئی جس کے تخت ان کا مقصد جیتنے والی جماعت کو آگے لانا تھا، وہ تاحال اس پورے انتخابی عمل کو مانے سے انکاری تھے اور ان کا ایک ہی موقف تھا کہ ازسرنوانتخابات کرائے جائیں۔ انہی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے رہنما کبھی اس طرح سے تاریخ میں نہیں ہارے جس انداز میں اس بار ان کو ہرایا گیا اس لئے وہ بھی انتخابی عمل کو نہیں مانتے۔ بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ بیرون ملک سے مخص ووٹ دینے کیلئے شہر قائد میں آئے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ماضی کی آزمودہ جماعتوں سے ہٹ کرکسی نئی جماعت کو ووٹ دیئے جائیں اور انہیں بھی ملک کیلئے کام کرنے کا موقع دیاجائے۔ اندرون سندھ و پاکستان سے آئے شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم بھی صرف ووٹ ڈالنے کیلئے یہاںآئے اور اس سے قبل انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ معذور شہریوں سے بھی رائے لی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پولنگ بوتھ پر فوجیوں نے آرام پہنچانے کیلئے مکمل تعاون کیا۔ اسی طرح بزرگ شہریوں کا بھی کہنا تھا کہ ہمیں قطاروں میں کھڑا رہنے کے بجائے براہ راست آگے کے عمل کیلئے متعلقہ عملے کے حوالے کیا گیا جنہوں نے بروقت ہمیں رائے دہی کا موقع دیا۔
طالب علموں کا کہنا تھا کہ ہم نے تو بھرپور و پرجوش انداز میں نہ صرف اپنا ووٹ دیا بلکہ بزرگوںکی مدد کی ان کے ساتھ دیگر شہریوں کو بھی ووٹ کی اہمیت بتائی اور انہیں ووٹ استعمال کرنے کی تاکید یں کیں۔ جس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ اس بار ہم نے جس جماعت کو ووٹ دیا وہ تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور انہوں نے تعلیمی میدان میں ملک کے ایک صوبے میں بہترین کام کیا جس سے ہم مرعوب ہوئے ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس شعبہ پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ملک میں تعلیمی رجحان میں کا اضافہ اور اس کے ساتھ ملک کی تعلیمی شرخ بڑھے۔ خواتین کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ نئی حکومت اس پر قابو پائے۔ ووٹ ہم نے ضرور دیا اور یہ ووٹ اس امید کے ساتج دیا کہ اب ملک میں تبدیلی آئے گی اور یہ جو مہنگائی کا مسئلہ ہے یہ حل ہوجائے گا۔ بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل اب مکمل ہوچکاہے اور جو بھی جیتا ہے ہم اس سے اور اس سمیت دیگر تمام جماعتوںسے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ امریکہ میںبرسوں سے قید قوم کی بیٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو باعزت رہائی دلوائیں۔ ماضی کی حکومت کی طرح وعدہ کرکے بھول نہ جائیں۔ صرف وہ ہی نہیں دیگر ممالک میں جو اپنے ملک کی شہری قید ہیںانکی بھی باعزت رہائی کیلئے عملی اقدامات کریں۔
نتائج کے بعد اب تک کی صورتحال پر شہریوں کا کہنا تھا کہ ہارنے والوں کے انداز غلط ہی نہیں قابل مذمت ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ اک سیاسی رہنما جن کے بھائیوںکو دہشت گردوں نے شہید کردیا تھا، ان کے اقوال و طرز کو اپنائیں جنہوں نے انتخابی دن ہی کھلے انداز و الفاظ میں اپنی شکست کو تسلیم کیا تھا۔ بعض شہریوں نے اک دینی اتحاد کے سربراہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج تلک کشمیریوں کیلئے کوئی اقدام تو کیا آواز تک نہیں اٹھائی اور وہ ہر حکومت میں بھی شامل ہوجاتے ہیں ان کو عوام نے جس طرح رد کیا ہے انہیں اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہے۔ ان کے ساتھیوں کو چاہئے کہ وہ اس رہنماکو ملکی مفاد میں ہی انارکی پھیلانے سے منع کریںاور میں نہ مانوںکی پالیسی کو ختم کریں۔
سروئے میں اک بات قابل تعریف دیکھنے میں آئی اور وہ بات ملک سے محبت و انسیت تھی، جو ہے اور رہے گی۔ عوام ان انتخابات کے بعد جیتنے والی حکومت کا ہر طرح سے ساتھ دینا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ ان کی یہ خواہش و امید بھی ہے کہ جس طرح جیتنے والی جماعت کے قائد نے ماضی میں عالمی کرکٹ کپ جیتنے میں کردار اداکیا اور اس کے بعد کینسر کے اسپتال بنانے میں جنونیت کا مظاہرہ کیا اور اس کے ساتھ ہی تعلیمی میدان میں نمل یونیورسٹی قائم کی، وہ سب بہت اچھا ہے اور کبھی نہ بھولنے والے اعمال و اقدامات ہیں۔ اسی رہنما کو اب ملک کی قیادت سنبھال کر ملک کیلئے بھی بہت کچھ کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے اور ان کی جدوجہد میں ان کا پورا ساتھ دینا چاہئے۔ ہماری پوری عوام جذبایت پر مبنی ہے اور اس رہنما کو جذباتی عوام کو ساتھ ملا کر ملک کو آگے، آگے اور بہت آگے لے جانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
hafikht@gmail.com))

Top