تحریک ، پڑھو اور پڑھاؤ ۔۔۔(حفیظ خٹک) 

p111شہر قائد سمیت پورے ملک میں جماعت اسلامی کا اک مستحکم کردار رہاہے ،اس جماعت کی متعدد ذیلی تنظیمیں ہیں جو کہ جماعت کے نصب العین کے حصول کیلئے رواں دواں ہیں۔ الخدمت ویلفیئر سوسائٹی بھی انہی شاخوں میں ایک ہے جس کا نمایاں کردار شہر قائد ہی نہیں پوری قوم کے سامنے ہے۔اسی جماعت اسلامی و الخدمت سمیت ان کی یوتھ ونگ کی جانب سے ان دنوں شہر قائد پڑھو اور پڑھاؤ کے نام سے اک تحریک کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔یکم اپریل سے جاری ہوہنے والی یہ تحریک شہر قائد کے تین مقامات پر روزانہ چار بجے سے رات دس بجے تک اپنے کیمپوں میں والدین ،اساتذہ اور دیگر تمام ہی شعبہ زندگی سے متعلق شہریوں میں بچوں کی نرسری سے بارہویں جماعت تک کی کتابیں تقسیم کرتے ہیں۔
ناگن چورنگی،ناظم آباد اور فیڈربل بی ایریا میں پڑھو اور پڑھاؤ تحریک کے تین کیمپ ہیں ،جن کا دروازہ چار بجے عوام کیلئے کھلتا ہے اور اس دروازے کے کھلنے کیلئے والدین وقت سے قبل ہی قطاریں بنائے کھڑے ہوتے ہیں۔وقت مقررہ پر جونہی دروازہ کھلتا ہے تو عوامی جم غفیر کیمپ میں داخل ہوتا ہے اور اندر موجود اسٹالوں پر اپنے بچوں کی جماعتوں کے اسٹال پر جاتاہے اور وہاں سے اس جماعت کی کتابیں حاصل کرتا ہے۔ایف بی ایریا میں دل کے ہسپتال (کارڈیو) کے بالکل سامنے مسجد رضوان ہے اور اس کے ساتھ ارقم پبلک اسکول واقع ہے۔ ان دونوں کے سامنے شہری حکومت کا پارک ہے جس میں پڑھو اور پڑھاؤ تحریک کا مرکزی کیمپ قائم ہے۔ دیگر کیپموں کی بنسبت اس کیمپ پر عوام کا ہجوم قابل دید ہوتا ہے۔ کیمپ میں ڈاخل ہونے کے بعد دائیں جانب سے اسٹالوں کا آغاز ہوتا ہے جو دائیں ہی جانب سے نرسری کے بعد کے جی ون،ٹو،پہلی ،دوسری اور پھر یونہی بڑھتے بائیں جانب کو بارہوئیں جماعت پر ختم ہوتا ہے۔ درمیان میں دیگر کتابوں کا الگ اسٹال بھی موجود ہے جبکہ مرکزی داخلے کے بالکل بائیں جانب اک بڑا اسٹال ہے جس میں منتظمین ہوتے ہیں اور وہیں پر مختلف شہریوں کی جانب سے لائی جانے والی کتابیں دی جاتی ہیں، ان کتابوں کو دیکھنے اور انہیں جماعتوں کے حساب سے ہی ترتیب دینے کے بعد ان کو جماعتوں کے اسٹال پر پہنچا دیا جاتاہے۔جہاں خواتین و خضرات سمیت ان کے بچے بھی پہلے سے موجود ہوتے ہیں اور وہ اپنی جماعت کی کتابوں کو دیکھتے ہیں بعدازاں وہیں سے وہ کتابیں حاصل کرنے کے بعد واپسی کاراستہ اختیار کرتے ہیں۔بے انتہا رش کے باعث عوام کے جذبات قابل تعریف ہوتے ہیں۔ جنہیں اپنی پسند اور ہدف کے مطابق کتابیں ملتی ہیں ان کے چہروں پر خوشی کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں جبکہ جنہیں نہیں مل رہے ہوتے ہیں وہ اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کس طرح اور کسی طرح p999سے ان کے بچوں کو بھی کتابیں ملک جائیں اور وہ اک بڑے تعلیمی خرچے سے بچ جائیں۔
والدین کا اس کیمپ کے حوالے سے یہ کہنا تھا کہ یہ جماعت اسلامی والوں کا بڑا اور اچھا کام ہے ۔اس کے ذریعے انہیں نہ صرف کتابیں مل جاتی ہیں بلکہ کاپیاں اور بستے ختی کے جوتے تک بھی مل جاتے ہیں جس سے مہنگائی کے اس دور میں وہ اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات کو پوراکرتے ہیں اور ان کی تعلیم میں کسی بھی طرح سے وقفہ نہیں آنے دیتے ہیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ ہم اپنے بچوں کی استعمال شدہ کتابیں یہاں لے کر آئیں ہیں اور اب چونکہ ہمارے بچے اگلی جماعتوں میں گئے ہیں تو ہم ان کیلئے اور کتابیں لینے آئیں ہیں۔ اک عمر رسیدہ خاتون کاکہنا تھا کہ وہ مشکل سے اندر داخل ہوئیں تاہم اس کے باوجود انہیں نہ صرف کتابیں مل گئیں بلکہ بستہ بھی مل گیا۔انظامیہ کے متعدد افرادکے بھی اپنے خیالات تھے ان کا کہنا تھا کہ یہ تیسرا سال ہے اور اس کیمپ کا افتتاخ امیر جماعت اسلامی کراچی خافظ نعیم الرحمن نے کیا تھا ۔ اس میں عوام کی بڑی تعداد آتی ہیں ،ایسے لوگ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جنہیں کتابیں چاہئیں ہوتی ہیں تاہم اس کے ساتھ کتابیں دینے والوں کی بھی بڑی تعداد ہوتی ہیں۔ روزانہ کیمپ کے اوقات میں آنے والے شہریوں کی تعداد بڑتھی جارہی ہے۔الخدمت کے اک ذمہ دار کا کہنا تھا کہ مسجد کی دوسری جانب الخدمت کا دفتر ہے جہاں دن کے اوقات میں کتابیں دینے والوں کھے ساتھ وہ لوگ بھی آتے ہیں جو خالی اور صاف کاپیاں دیتے ہیں اور اپنا نام بتائے بغیر یہ کام کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔
انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں اسکول کے کورسس مل جاتے ہیں اور اس کے ساتھ متفرق کے اسٹال پر تو دیگر میگزین و جرائد کا ڈھیر ہوتاہے جس میں سے بچے اور ان کے بڑے بھی اپنی پسند کے مطابق چھانٹیاں کررہے ہوتے ہیں۔کیمپ میں داخلے کا ایک ہی دروازہ بنایاگیا ہوتا ہے لیکن متعدد شہری درمیان کے قناتوں میں سے اپنے لئے راستے بناتے ہیں اور اندر جاکراپنی مرضی کے مطابق درسی کتب ڈھونڈتے اور حاصل کرتے ہیں۔کیمپ کے اس انتطام کو سنبھالنے کیلئے پچاس سے زائد کارکنان ہمہ تن سرگرم عمل رہتے ہیں۔ذمہ داران کی جانب کالاؤڈاسپیکر پررہنمائی و ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تین برس قبل یہ مہم شروع کی گئی تھی ،اس سال تین کیمپ اسی نوعیت کے لگائے ہیں۔تینوں کیمپوں شہر قائد کی عوام کا جس قدر رش اس بار ہوا ہے اس سے قبل نہیں ہواتھا۔جماعت اسلامی پورے معاشرے میں مثبت سرگیوں میں مگن رہتی ہے ،تحریک پڑھو اور پڑھاؤ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔نوجوان جماعت اس مہم میں بڑچڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔شہریوں کے گھروں پر جاکر وہ استعمال شدہ کتابیں p333حاصل کرتے ہیں اور بعدازاں انہیں مستحقین کی خدمت میں کیمپ کے اسٹال پر پیش کردیتے ہیں۔
بدانتظامی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ توقعات سے بڑھ کر عوام آتے ہیں اور وہ سبھی اپنی ضروریات کتب کیلئے آتے ہیں ،آنے والے ہرفرد کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے بچے کیلئے وہ کتابیں جلد از جلد حاصل کرلیں۔جلدبازی جس بھی کسی نوعیت کے کام میں ہوتی ہے اس عمل سے وہ پورا عمل متاثر ضرور ہوتاہے۔مقدس اوراق سمیت قرآنی آیات و احادیث کی زمینوں پر موجودگی کے حوالے سے منتظمین کا کہنا تھا کہ جہگوں سمیت ڈبے بھی اس مقصد کیلئے رکھے اور طے کئے گئے لیکن یہ عمل عوامی رش کے باعث متاثر ہوتاہے۔
پڑھو اور پڑھاؤ تحریک ،بلاشبہ اک بہترین طریقہ ہے علم کو پھیلانے کا ، علم کی روشنی کو عام کرنے کا اور مخصوص این جی اووز سمیت حکومت کا اور ان کے ساتھ ہی تمام سیاسی ،مذہبی ،سماجی اور دیگر جماعتوں کیلئے اک راستہ ہے،اک مشعل راہ ہے کہ جہاں وہ اپنے مخصوص مقاصد کیلئے سرگرم عمل ہیں وہیں پہ معاشرے میں تعلیم میدان میں آگے بڑھنے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے اس طرح کی تحریک ازخد ضروری ہے۔تعلیم ہوگی ،تعلیم بڑھیگی تو معاشرہ بحیثیت مجموعی اک پڑھا لکھا معاشرہ بنے گا اور اس کے نتیجے میں عوام مثبت فیصلے کرسکیں گے۔اس تحریک کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جملہ جو کہیں پڑھا تھا اور اسے متعدد بار سنا بھی اس کے ذریعے اس تحریر کو اختتام دونگا ۔وہ جملہ یہ ہے کہ جو پڑھے گا وہ بڑھے گا۔۔۔۔
(hafikht@gmail.com)

About حفیظ خٹک

Biographical Info

Top