آزادی کا جشن، پرنٹنگ پریس پر رش دیدنی (خصوصی رپورٹ)

14 اگست کی تیاریوں کے لئے کئی دن قبل ہی رنگ برنگی جھنڈیوں سے بازار سج گئے ہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد بازاروں کا رخ کر رہی ہے  پوری قوم اس قومی تہوار پر خوب تیاری کر رہی ہے۔ وطن عزیز سے محبت کرنے والوں کا جوش وخروش بھی عروج پر ہے اور کیوں نہ ہو، ہر شخص کو اپنے وطن سے محبت ہے۔

august 00514اگست کوجشن آزادی شایان شان طریقے سے منانے کے لیے شہریوں کی جانب سے تیاریاں کی جا رہی ہیں اس سلسلہ میں شہر کے تمام بازاروں، مارکیٹوں اور شاہراہوں پر اسٹالز سجائے گئے۔ عارضی اسٹالوں پر سبز ہلالی پرچموں،جھنڈیوں اور مختلف اقسام کے بیجز کی فروخت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ شہری اپنے پسند کے پرچم اور بیجز کی خریداری میں مصروف ہیں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے اسٹالز پر خصوصی اشیا لگائی گئی ہیں، جن میں چوڑیاں، سبز ہلالی رنگ کے ملبوساٹ ، ٹوپیاں شامل ہیں۔

august 003یہ اسٹال کاغذی بازار، اردو بازار، پاکستان چوک، حیدری، لیاقت آباد،  گلستان جوہر، طارق روڈ، بہادر آباد سمیت شہر کے تجارتی مراکز اور ہر سڑک پر جشن آزادی کے حوالے سے خصوصی طور پر لگائے گئے ہیں۔  کاغذی بازار میں ان دنوں شدید رش دیکھنے میں آرہا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ لوگ جشن آزادی جوش خروش سے منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال کی نسبت اس سال خریداروں کا رش زیادہ ہے۔ ہر دن کے گزرنے کے ساتھ مسلسل رش بڑھ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے آرڈر بھی اس طرح بڑھایا جارہا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں دستیاب قومی پرچم اس سال 100سے 1500روپے ،جھنڈیاں فی پیکٹ 60 روپے اور بیجز 15سے 100روپے میں فروخت ہورہے ہیں۔

august 004کراچی اپڈیٹس کے نمائندے نے جب  کاغذی بازار کا رخ کیا تو وہاں پر بڑی تعداد میں نوجوان اور بچوں سمیت بڑے بھی یوم آزادی کی تیاریوں کے لیے جھنڈے ، بیجز ، ملبوسات جن میں ہیٹ، ٹی شرٹ، چوڑیاں شامل ہیں خریدتے دکھائی دیے۔ ان اشیا کی فروخت کے لیے خصوصی اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ ان اسٹالوں پر چھوٹے بڑے قومی پرچموں علاوہ ہینڈ بینڈز، چوڑیاں، کڑے، غبارے، ماتھے کی پٹیاں اور بچوں کے یوم آزادی کے پرنٹڈ اور جھنڈے والی سبز رنگ کی ٹی شرٹس اور سوٹ  فروخت ہو رہے ہیں۔ بچوں کی ٹی شرٹس کے اسٹال پر خریداری کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ بچوں کو عید کے کپڑوں کے بعد اب 14اگست کے کپڑے دلوانے کا رواج بھی پڑ گیا ہے۔ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بچے ضد کرتے ہیں کہ ہمیں بھی 14 اگست والے ہرے رنگ کے کپڑے، جھنڈے اور بیجز بھی چاہئیں۔

august 001اس سلسلے میں کراچی اپڈیٹس کی ٹیم نے جب پاکستان چوک پر موجود پرنٹنگ پریس کی بڑی اور اہم ترین مارکیٹ کا  رخ کیا تو وہاں پر بھی  رش دیدنی تھا، بنڈلز کے بنڈلز وہاں سے بھر بھر کے شہر میں موجود اسٹالز پر منتقل کیے جارہے تھے۔  اشفاق پرنٹنگ پریس پر موجود اکرام اللہ نے نمائندہ کراچی اپڈیٹس کو بتایا کہ گزشتہ سال کی با نسبت اس سال کا رش دو گنا زیادہ ہے، جس پر وہ خود بھی حیران تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آرہا ایسا کیا ہوا ہے کہ پاکستان میں اس سال نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ وہ بتانے لگے کہ انہوں نے آرڈر کو دیکھتے ہوئے مزید ہیلپر رکھ لیے ہیں تاکہ  آرڈرز کو مکمل کیا جاسکے۔ اکرام اللہ نے گزشتہ سال اور اس سال کے فرق کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس انہوں نے 30 لاکھ کے قریب چھوٹی بڑی جھنڈیاں بنائیں مگر اس سال 40 لاکھ تک ہوچکی ہیں مزید بھی آرڈر آرہے ہیں۔

ایک اور پرنٹنگ پریس پر موجود کاشف علی نے بتایا کہ وہ پہلے بیجز اور سبزہلالی پرچم سے مزین ملبوسات پر کام کر رہا تھا ، جہاں پر اب تک 250 کے قریب آرڈر آچکے ہیں، جبکہ گزشتہ برس کی بانسبت امسال مجوعی طور پر 20 لاکھ کی جھنڈیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

august 002کراچی اپڈیٹس سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا  تھا کہ  14 اگست کی خصوصی تیاری کی جارہی ہے۔ گھر وں کو سجارہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی گاڑیوں اور اپنے آپ کو بھی سجانا بہت ضروری ہے۔ خریداری کرتی ہوئی جامعہ کراچی کی طالبہ عنبر جمشید نے بتایا کہ یوم آزادی بھر پور طریقے سے منارہے ہیں۔ 14 اگست ایک تہوار نہیں بلکہ ہمارے ملی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ یوم آزادی پر شور شرابا مچانے کے بجائے اس مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جس مقصد کے لیےہم نے اس ملک کو حاصل کیا۔

آزادی کے موقع پر ہر شہری اپنے اپنے انداز میں وطن سے محبت کا اظہار کررہا ہے۔ کوئی  گھروں کو برقی قمقموں سے سجا رہا ہے تو کوئی پاکستانی پرچم کے رنگ ملبوسات پہن کراپنے دل کو تسکین پہنچارہا ہے۔ تاہم اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ  یہ دن ہمیں ان شہدا کی قربانیوں کامقصد بتاتا ہے کہ جنہوں نے اپنی جان تک وار  دی تاکہ ہم سکون اور آرام سے ایک اچھے مسلمان بن کر رہیں۔

Top