کراچی فوجی اہلکاروں پر دوسرا حملہ تحقیقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ (محمد نعیم)

1
ستمبر 2013ء سے قبل کراچی قتل و غارت گری، بدامنی ، جلاو گھیراو، ہڑتالوں اور احتجاج ،بھتا خوری ، ٹارگٹ کلنگ ،قبضہ مافیا،مذہبی سیاسی و لسانی عصبیت کی بدترین مثال بن چکا تھا۔ روزانہ درجنوں افراد کا قتل ایک معمول بن چکا تھا۔ گھر سے نکلنے والا کوئی فرد اس غیریقینی کی صورتحال سے دوچار رہتا کہ وہ آج گھر واپس بھی آ سکے گا یا کسی گولی کی شکار ہو جائے گا۔ شہرمیں پھیلی ہوئی دہشت گردی اور سیاسی ڈاکہ زنی اس قدر عروج پر تھی کہ لوگ خاموشی کے ساتھ بھتا بھی دے دیتے اور تاوان بھی ، مگر اپنی جان کے خطرے کے باعث نہ پولیس کو اطلاع کرتے نہ کہیں اور اس ظلم کی شکایت کرتے۔ صورتحال ایسی تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس شہر کی پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے مکمل مفلوج ہو چکے ہیں اور عوام بھیڑ بکریوں یا برائلرمرغیوں کی طرح دہشت گردوں کی رحم وکرم پر ہیں۔
پھر 5 ستمبر 2013ء کو وفاقی حکومت نے کروڑوں کی آبادی والے اس شہر پر کچھ ترس کھایا، نوازشریف حکومت نے شہر میں نیا عسکری آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی۔یہ حکومت کا مستحسن ودلیرانہ فیصلہ تھا۔ اس آپریشن کا نشانہ جرائم پیشہ افراد کو بننا تھا… چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی، مذہبی اور معاشرتی تنظیم یا جماعت سے ہو۔ آپریشن انجام دینے کی ذمے داری سندھ رینجرز کو سونپی گئی جس کے تب سربراہ میجر جنرل رضوان اختر تھے۔ مجرموں تک رسائی کی خاطر رینجرز کو تفتیش اور گرفتار کرنے کا حق دیا گیا۔ کراچی پولیس اور وفاقی و صوبائی انٹیلی جنس ادارے رینجرز کے معاون قرار پائے۔ پھر اس آپریشن کے ثمرات بھی عوام کو ملنا شروع ہوئے۔ شہر میں امن قائم ہوا۔ جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی۔ ٹارگٹ کلر گرفتار ہونے لگ گئے اور ٹارگٹ کلنگ تقریبا ختم ہو کر رہ گئی۔ اغواء برائے تاوان اور بھتا خوروں سے نجات پا کر لوگ ایک بار پھر اپنے کاروبار کی جانب متوجہ ہو گئے۔ بازار ، پارک ، تفریحی مقامات سب جگہوں پر لوگ بے خوف و خطر جانے لگ گئے ۔
b
اس آپریشن میں سندھ کی مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم ارکان اور رہنماءبھی دہشت گردوںاور قانون شکنوں کی صورت میں منظر عام پر آئے ۔بھارتی ایجنٹوں سے رابطے رکھنے، پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے اور قومی اداروں کو لوٹنے والے بہت سے اہم چہرے بے نقاب ہوئے۔ کراچی میں خوف و دہشت کی علامت بنے بڑے بڑے گینگ اور ان کی سرغنہ گرفتار ہوئے۔ اس سب کے ردعمل میں دہشت گردی کی آہنی زنجیروں میں جکڑے ہوئے کراچی کو پرامن بنانے والوں کو اپنی جانوں کا نذانہ بھی پیش کرنا پڑا، کراچی آپریشن کا تیسرا سال جاری ہے۔ اس دوران تقریبا دو درجن سے زائد رینجرز کے اہلکار اور دو چالیس کے قریب پولیس اہلکار جرائم پیشہ عناصر کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ منگل کی سہ پہر کو بھی ایک ایسے ہی مجرمانہ حملے میں پاکستان آرمی کی ایک گاڑی پر فائرنگ سے دو فوجی شہید ہو گئے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے صدر میں تقریبا 8 ماہ کے دوران یہ دوسری ایسی واردات تھی کہ جس میں پاکستان آرمی کو برائے راست نشانہ بنایا گیا تھا۔ دونوں شہید فوجی اہلکاروں کی شناخت لانس نائیک عبدالرزاق اور حوالدار خادم حسین کے نام سے ہوئی۔ حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انھوں نے شہر کے بیچوں بیچ گزرنے والی مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر پارکنگ پلازا کے نزدیک فوجی گاڑی پر فائرنگ کی۔اس کے بعد وہ جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی حکام کی جانب سے وہی روایتی پھرتیوں کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق مہر سمیت رینجرز اور فوج کے اہم عہدے داروںنے جائے وقوعہکا معائنہ بھی کیا۔ پولیس حکام نے فوجیوں پر 9 ایم ایم پستول سے فائرنگ کی تصدیق بھی کر دی۔
2
وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاسی رہنماوں کی جانب سے فوجیوں پر حملے کی مذمتی بیانات بھی آگئے اور انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے ہر ممکن کارروائی کی ہدایت کی بھی جاری کر دی گئیں۔ساتھ ہی واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم بھی دے دیاگیا۔ جبکہ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ حملہ آور نہایت مہارت کے ساتھ شہر کے مصروف ترین علاقے میں اپنا کام کرکے باآسانی فرار ہونے میں کامیابی کے ساتھ ساتھ اپنے ہمراہ فائرکی گئی گولیوں کے خول بھی لے گئے۔
دوسری جانب شہر کراچی جہاں ٹارگٹ کلنک ، اغواء برائے تاوان اور دیگر جرائم پر نگاہ رکھنے کے لیے جگہ جگہ سی سی ٹی کیمرے لگائے گئے تھے وہ بھی اپنی افادیت تقریبا کھوچکے ہیں۔ منگل کو فوجی نوجوانوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سر ویلنس کیمروں کی مانیٹرنگ کے لئے قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ گئے ہیں بلکہ نجی ٹی وی چینلز کی رپورٹ کے مطابق صدر کے پارکنگ پلازہ میں لگے کیمرے فوجی اہلکاروں کی شہادت کے واقعے سے قبل بند اور بعد میں کھولے گئے۔ 2 اہلکاروں کی شہادت کے بعد سیکورٹی اداروں کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ پارکنگ پلازہ کے کیمرے 3 بجکر 12 منٹ پر بند کردئیے گئے جو 4 بجکر 16 منٹ پر دوبار کھولے گئے ہیں۔
d
ان کیمروں کو 24 گھنٹے مانیٹرکرنے کے لیے اسٹاف موجود ہے، ان کے باقاعدہ ریکارڈنگ کا سسٹم موجود ہے ، مگر حکومت کی سستی اور عدم توجہ کے باعث یہ کیمرے نہ تو ٹھیک طور پر کام کر رہے ہیں نہ ہی خراب ہو جانے والے سر ویلنس کیمروں کو فوری طور پر درست کیا جاتا ہے۔ نہ ہی ابھی تک ان اہم علاقوں اور اہم شاہراہوں پرجہاں سر ویلنس کیمرے موجود نہیں اور ان لو لگانے کے لیے حکومت اعلان کر چکی ہے۔ لگائے گئے ہیں۔ حکومت اور سیکورٹی اداروں کو ان سرویلنس کیمروں کی یاد تب آتی ہے جب کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے۔ لیکن تب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں یا تو کیمرے لگے ہوئے ہی نہیں یا نصب کیمرے خراب تھے یا ان کی ریکارڈنگ بند پڑی ہوئی تھی۔
صدر میں آرمی پبلک اسکول سمیت اہم تعلیمی ادارے ، افواج پاکستان کے اہم دفاتر اور دیگر سیکورٹی و حساس اداروں کے دفاتر بھی موجود ہیں۔ صدر اور اس سے ملحق شاہراوں سے روزانہ نقل و حرکت فوج سے وابستہ افراد کا معمول ہے۔ اتنے حساس علاقے میں موجود سر ویلنس کیمرے بھی اگر ناکارہ ہیں تو یہ بہت تشویش ناک بات ہے۔مہران بیس ، کراچی ایئرپورٹ ،آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے اور کراچی میں فوجی گاڑی پر ایک ہی علاقے میں دو حملوں کے بعد اس طرح کی غفلت کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔
امجد صابری کی ٹارگٹ کلنگ اور بعض دیگر واقعات میں دہشت گردوں نے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا ہے جہاں وہ ان کیمروں کی رینج میں نہ آسکیں۔ اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیں کہ دہشت گردوں کو ان کیمروں کی کارکردگی سے کون آگاہ کرتا ہے۔ حملے کے لیے اتنی باریکی سے ریکی کرنے والوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے نظر کیوں نہیں رکھ پارہے؟ پولیس کی روایتی سستی اور جان چھڑنے کا عمل اس واقعے کے بعد ایک بار پھر سامنے آگیاہے۔ صدر تھانہ اور تھانہ برگیڈ کے درمیان حدود کا تنازعہ دو دن میں بھی حل نہیں ہو سکا۔ کراچی میں فوجی اہلکاروں کی شہادت پر پولیس کا تھانوں کی حدود کا تنازعہ اس طرح چل رہا ہے تو عام لوگوں کو پولیس والے تھانے کی حدود کے چکر میں کتنا پریشان کرتے ہوں گے اس کا اندازہ ہمیں اسی واقعہ سے کر لینا چاہیے۔
یادرہے کہ دسمبر 2015ء میں ایم اے جناح روڈ پر واقع تبت سینٹر کے قریب دو نقاب پوش مسلح افراد نے پاکستان آرمی کی ملٹری پولیس کی گاڑی پر اسی انداز میں 9 ایم ایم پستول سے فائرنگ کی تھی۔اس واقعے میں بھی دو فوجی شہید ہوگئے تھے اور حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو نے میں کامیاب ہو گئے تھے۔دونوں واقعات اور حملے کے اندازمیں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔
3
ملٹری پولیس پر حملے میں بھی جائے واردات سے کوئی خول نہیں ملا تھا۔ 8 ماہ گزر جانے کے باجود اس حملے کی بھی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔ حالانکہ ملٹری پولیس فائرنگ کیس کے حوالے سے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی بنا گئی تھی جس میں میں ڈی آئی جی سی آئی اے، ایس ایس پی ساؤتھ، ایس ایس پی ویسٹ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ، ایس ایس پی سی ٹی ڈی، ایس ایس پی ایس آئی یو اور ڈی ایس پی پریڈی جیسے اہم عہدے دار شامل تھے ۔ مگر ابھی تک یہ کمیٹی اس حملے میں ملوث دہشت گردوں کی شناخت اور گرفتار ی کا ٹاسک مکمل نہیں کرپائی تھی کہ اسی نوعیت کا ایک اور دلخراش واقعہ پیش آگیا۔ جس انداز میں کراچی میں آپریشن جاری ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے جڑے دہشت گردوں کے علاوہ پاکستان میں مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والی کالعدم اور تکفیری ٹولوں کے خلاف سیکورٹی ادارے کام کر رہے ہیں اور اس کے اچھے ثمرات برآمد ہو رہے ہیں۔ ان ثمرات کو تادیر موثر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سینکڑوں مجرم گرفتار ہوئے ، بڑی تعداد میں اسلحہ پکڑا گیا۔
سیاسی اثر و رسوخ اور دباو کا شکار ہوئے بغیر گرفتار ہو نے والے ان مجرموں کو فوری طور پر عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ کیوں کہ کراچی آپریشن کے تحت ٹارگٹ کلر اور بھتاخوروں سمیت جرائم پیشہ افراد پکڑے تو بڑی تعداد میں گئے ہیں مگر تاحال ان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے کوئی عبرت ناک سزائیں نہیں دی گئیں۔ اگر کل کسی سیاسی مصلحت کے تحت کراچی آپریشن کو ئی اور رخ اختیار کر لیتا ہے اور جیلوں میں موجود ان دہشت گردوں کے ساتھ رعایت کر دی جاتی ہے ، تو یہ لوگ رہا ہو کر ایک بار پھر عفریت کی شکل اختیار کر لیں گے جن پر دوبارہ قابوپانا ناممکن ہو جائے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی مفادات کو قومی مقاصد کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا جائے اور تمام قسم کے دباو کو بالائے طاق رکھ کر کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے
naeemtabssum@gmail.com

Top