ستمبر کا روشن ستارہ، عزیز بھٹی شہید‎ (ارم فاطمہ)

9Major Raja Aziz Bhattiخون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

جن دلاوروں نے اس مملکت خداداد کی آبرو اور حرمت کو قائم و دائم رکھنے کے لئے اپنے اس گلشن کو نکھارنے کے لیے اپنی لہو رنگ قربانی سے اپنے وطن کے دفاع اوراستحکام کے لئےلہو کی آخری بوند اور آخری سانس تک معرکہ جاری رکھا ان گیارہ چمکتے ستاروں میں ایک نام میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کا بھی ہے۔

کسے معلوم تھا 1948ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے والا یہ نوجوان جو پیشہ وارانہ تربیت میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے پر اعزازی شمشیر حاصل کرے گا، 12ستمبر 1965ء کو اپنی لازوال شہادت سے ایسی تاریخ رقم کر جائے گا جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

پنجاب رجمنٹ کے 25 افسروں سمیت میجر عزیز بھٹی کی کمان میں صرف 148جوان تھے۔ان شیر دل جوانوں نے بھارت کی ٹڈی دل فوج کو ایک سو اڑتالیس گھنٹے تک روکےرکھا اور ڈٹ کر مقابلہ کیا اوربہادری کا ایسا کارنامہ سرانجام دیا جس پر قوم کو آج بھی فخر ہے۔

آپ کی پلاٹون بی آر بی نہر کے کنارے مورچہ زن تھی۔11 ستمبر کو آپ نہرکے اوپر کھڑے مستعدی سے حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔ دشمن کی گولہ باری سے جوان نذر محمد شہید ہوگیا۔ حوالدار غلام محمد آپ کے پاس آئے اور کہا ’’ پٹری پر آپ بالکل دشمن کی زد میں ہیں۔آپ پٹری سے نیچے آجائیں ‘‘آپ کہنے لگے ’’ میں جانتا ہوں خطرہ بہت ہے مگر اس سے اونچی کوئی جگہ نہیں جہاں سے میں دشمن کی نقل و حرکت دیکھ سکوں۔اس وقت وطن عزیز کا تحفظ مقدم ہے اگر میری جان کام آجائے تو اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوگی ‘‘پٹری پر پھرتے ہوئے برکی سے شمال کی سمت کھجور ایریا میں ایک پلاٹون کی نفری نہر کی جانب بڑھتے دکھائی دی وائرلیس سے پیغام بھیجا اورفائر کرایا کچھ مارے گئے اور باقی بھاگ گئے۔

برکی نہر کی طرف ٹینک بڑھتے نظر آئے میجر عزیز نے ڈگری دے کر فائر کرایا اور دشمن کے ٹینک تباہ کر دیے۔
انہوں نے اپنے تدبر عسکری حکمت عملی اور بے پناہ شجاعت سے دشمن کی یلغار کو روکے رکھا بلکہ اسے زبردست جانی نقصان پہنچایا۔ اس کا بے شمار سامان حرب تباہ کیا۔مٹھی بھر جان نثاروں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے ان کی کمان میں اس محاذ پر صرف 11 جوان شہید ہوئے۔مگر دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور وہ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکا۔

12 ستمبر کی صبح شہادت طلوع ہوئی خدا کا یہ غازی پر اسرار بندہ اپنی شہادت کی منزل کی طرف گامزن ہوا ۔ اس راہ شہادت میں وہ اپنے فرائض سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔میجر عزیز بھٹی نے نماز فجر ادا کی۔تیار ہوئے۔ ایک جوان چائے لے کر آیا چائے سے فارغ ہوکر وردی لانے کو کہا تو پتا چلا وردی ابھی تیار نہیں۔جوان کسی اور کی وردی لے آیا تو کہنے لگے ’’ جوان وردی اور کفن اپنا ہی اچھا لگتا ہے۔‘‘

صبح کے ساڑھے نو بج رہے تھے۔ گولہ باری بدستور جاری تھی۔ دوربین سے مشاہدہ کر رہے تھے کہ ایک گولہ ان کے سینے کو چیرتا ہوا دائیں پھیپڑے کے پار ہو چکا تھا۔ وہ منہ کے بل گرے۔حوالدار فیض علی اور سپاہی امان اللہ دوڑ کر ان تک پہنچے تو فرض شناس  شجاعت کا پیکر قربانی و ایثار اور عسکری تاریخ کا عظیم ہیرو اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکا تھا۔

اپنی دیانت فرائض منصبی کے ادا کرنے میں ان کا انہماک اور قوت ارادی اور اعتماد ایسی خصوصیات تھیں جو انہیں نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔کیمپوں اور مشقوں کے درمیان ہمیشہ زیادہ کام کرنا خندقیں کھودنا اور کھانا بنانے کے لئے اپنی خدمات پیش کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے اپ کو عام جوانوں سے برتر نہیں سمجھا۔ اس کے علاوہ مشین گنیں اور وائرلیس سیٹ اٹھا کر چلنے میں کبھی تردد نہیں کیا۔

جرات وبہادری شجاعت و دلیری خدا کی طرف سے عطا کی ہوئیں صفات تھیں مگراپنی ان اوصاف کے ساتھ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے دلوں میں جو مقام بنایا اس نے ان کی یاد کو آج بھی زندہ کیا ہوا ہے۔ جب بھی جنگ ستمبر کا ذکر ہوگا بی آر بی کے اس شیر دل میجر عزیز بھٹی کی دلیرانہ شہادت کا ذکر ضرور ہوگا۔

آج ان کی شہادت اور کارناموں اور وطن کی طرف بے لوث محبت اور قربانی کے جذبوں کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ہماری آج کے نوجوان ان کے کردار اور صفات کی روشنی میں اپنے آپ کو وطن کی محبت اور اس کی حفاظت کے جذبے سے خود کو سرشار کرسکیں کیونکہ قوموں کا وجود اور استحکام قربانی سے  ہی ممکن ہے۔

Top