عید قرباں کی تیاریاں، خوبصورت جانور کراچی پہنچ گئے

خصوصی رپورٹ: ذیشان ندیم
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”کہو میری نماز قربانی مرنا اور جینا سب اللہ رب العٰلمین کے لیے ہے‘‘۔ مخصوص جانوروں کو مخصو ص دنوں میں اللہ کی رضااور ثواب کی نیت سے ذبح کرناقربانی ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو‘‘۔

eid ul adha 03عید الاضحی کے موقع پر دنیا بھرکے مسلمان جانوروں کی قربانی کرکے سنت ابراہیمی علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔ کراچی میں قربانی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ذوالحجہ کا چاند ابھی نظر آنا باقی ہوتا ہے کہ کراچی کی منڈیوں میں بیرون شہر سے ایک سے بڑھ کر ایک جانور کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ جانور ایشیا کی سب سے بڑی منڈی سمیت پورے شہر کی چھوٹی بڑی تمام منڈیوں میں دیکھائی دیتے ہیں۔

eid ul adha 10قربانی کی لیے آنے والے جانوروں کی خوراک، تیاری و دیگر معاملات کیسے طے پاتے ہیں یہ جاننے کے لیے ہم نے شہر کی مختلف مویشی منڈیوں کا رخ کیا۔ کراچی میں کئی مویشی منڈیاں ہیں جن میں سہراب گوٹھ ، یوسف گوٹھ ، ملیر، لیاری اور لالو کھیت کی منڈیاں قابل ذکر ہیں۔ سہراب گوٹھ منڈی ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی سمجھی جاتی ہے اس منڈی میں ہزاروں کی تعداد میں عید قرباں کے موقع پر اندرون اور بیرون ملک سے کئی ہزار مویشیوں کو قربانی کی غرض سے لیا جاتا ہے۔ جہاں ان کی فروخت کی جاتی ہے ان مویشیوں میں بیل، گائے، بکرا، بکری، دنبے، بھیڑ، اونٹ شامل ہوتے ہیں۔ سہراب گوٹھ میں موجود بیوپاری جو سالہ سال سے ایسی کاروبار سے وابستہ ہیں۔

eid ul adha 02منڈی میں موجود بھیڑ اور بکریوں کی نسل کے حوالے سے عبدالحق سے گفتگو کی تو ان کا کہنا تھاکہ ہم باپ دادا کے زمانے سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ پنجاب سے ہر سال کئی سو بکریاں، بکرے، گائے اور بیل اس منڈی میں لاتے ہیں۔ نسلوں کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو بکرے کی پاکستان میں تقریباً 30 سے زائد اقسام ہیں جن میں کاموری، پنڈی، پیتل، ناچی، کوہستانی، بربری، بیڑی ،دائر دین وغیرہ شامل ہیں۔ علاقائی اعتبار سے پنجاب اور سندھ کے بکرے جن میں خاص کر کاموری اور گلابی نسل کافی صحت مند ہوتی ہے۔ کاموری بکرا تقریباً 1.5 من سے زائد کا بھی ہو سکتا ہے۔
منڈی میں موجود اسلام الدین نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ ہم عید قرباں کے لیے تقریباً 2 سال پہلے سے ہی تیاری کرتے ہیں۔

Bakra Mandiہر سال کے مویشیوں کو تیار کرنے کے لیے دو سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ بکروں کی افزائش سے لے کر قربانی تک تیار ہونے تک کافی محنت لگتی ہے روزانہ کی بنیاد پر ایک بکرے کا خرچہ تقریباً 70 روپے یومیہ ہوتا ہے اسی طرح اگر بکروں میں اعلیٰ قسم کے بکرے جن میں کاموری کا شمار ہوتا ہے کو تیار کیا جائے تو اس کا خرچہ ڈبل ہو جاتا ہے۔ فارموں میںجو بکرے تیار کیے جاتے ہیں ان کی خوراک دوسرے بکروں سے مختلف ہوتی ہے۔ ان بکروں کوعید پر خصوصی نمائش کے لیے تیار کیا جاتا ہے ۔ ایسے بکروں کو خوراک میں دودھ، دیسی گھی، بادام، اچار مغز وغیرہ دیا جاتا ہے اسی وجہ سے ان بکروں کی صحت 2.5 من سے تجاوز کر جاتی ہے اور قیمت بھی لاکھوں روپے میں ہوتی ہے ۔ پنجاب اور سندھ بھر میں ایسے کئی فارم موجود ہیں جو اعلیٰ نسل کے بکرے تیار کرتی ہے۔آج بھی کئی فارموں میں 280کلو تک کے بھاری جسامت والے بکرے موجود ہیں ان کی قیمت 5لاکھ سے زائد ہوتی ہے۔

eid ul adha 5انہوں نے بتایا کہ دنبوں کی ملک بھر میں 25 اقسام پائی جا تی ہیں ،بھیڑوں، دنبوں کی زیادہ تعداد بلوچستان میں ہے۔ بھیڑوں اور دنبوں کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق 4کروڑ ہے۔ نسل کے اعتبار سے تھلی ،لوہی ،کجلی، دامانی، بچی، کھڈالی، سپلی، کوکا، کھچی، سالٹ، رینج، بلوچی، ببرک، ہرنائی ، وزیری ، ہشت نگری، مچنی ، تراہی زیادہ مشہور ہیں ۔ بھیڑ 6 ماہ کے عرصے میں قربانی کے قابل ہوجاتے ہیں۔ قربانی کے لےے منڈیوں میں لائے جانے والے بھیڑ وزن کے اعتبار سے 40کلو کا ہوتا ہے۔ بھیڑوں کو بھی خصوصی توجہ اور خوراک دےے کر 2.5 من تک بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ان کو دی جانے والی خصوصی خوراک میں دودھ، دہی ،دیسی ،گھی ،چنا ،دال اور بادام شامل ہیں ۔ ہر قسم کے پھل بھی کہلائے جاتے ہیں اور بیماریوں سے بچانے اور صحت مند رکھنے کے لےے ان کی پابندی سے ویکسین کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

eid ul adha 8یوسف گوٹھ کی منڈ ی میں موجود بیوپاری نبی بخش جس کا تعلق پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے ،ان کا کہنا تھا کہ اس عید پر 100سے زائد بیل اور گائے لایا ہے۔ جن کا ساہیوال، راجن پور، سبی، لاڑکانہ، سکھر اور تھر سمیت دیگر علاقوں سے تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساہیوال کی نسل کے بیل پر اگر خصوصی توجہ دی جائے تو ان کا وزن 25من سے زائد ہوجاتا۔ اس میں بہترین خوراک بروقت ویکسینیشن کروانا لازم ہیں۔

eid ul adha 01جانوروں میں پائی جانے والی عام بیماریوں میں منہ خورا، کھر بخار شامل ہیں۔کسی جانور کو منہ خوراکی بیماری ہوجاتی ہے تو جانور خوراک کرنا بند کر دیتا ہے ۔ اس کے آسان گھریلو علاج ہی ہے کہ جانور کو گرم روٹی کھلائی جائی ، انڈے اور سرسوں کے تیل کو مکس کر کے بوتل کے ذریعے ان کے منہ میں ڈالا جائے اور سب سے بہترین طریقہ علاج بروقت ویکسین دینا ہے ۔اسی طرح کھر کی بیماری جانوروں کے کھروں میں زخم ہو کانے کو کہا جاتا ہے۔ اسی صورت میں ان کے کھروں میں مٹی کا تیل ڈالنے سے مزید زخم میں اضافہ نہیں ہوتا اور زخم ٹھیک ہوجاتا ہے۔ ساہیوال کے جانور مورثی طور پر بھی لمبے چوڑے قد کے مالک ہوتے ہیں گھر میں پلنے والا ساہیوال نسل کے بیل گائے کا وزن 12من تک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سبی کے جانور دراز قد رکھتے ہیں اور ان کی کھال کافی چمک دار ہوتی ہے خوبصورتی میںسبی کے جانور اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

eid ul adha 6قیمتوں کے بارے میںجا نے کے لےے خریداروں سے بات کی گئی تو خریداروں کا کہنا تھا اس وقت قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔ 3 من کا جانور 70ہزار روپے تک کا بک رہا ہے۔ بکروں کی قیمتیں بھی انتہائی زیادہ ہیں۔ دوسری طرف بیوپاریوں کا کہنا تھا کہ گزرے سال کے مقابلے میں اس سال کی قیمتیں برابر ہیں۔ ایک جانور کو منڈی تک لانے میں 6 ہزار تک خرچ ہو جاتا ہے ،جس میں ڈی ایم سی ٹیکس ٹرانسپورٹ اور باڑے کا کرایہ بھی شامل ہے۔اس لحاظ سے جانور کی موجودہ قیمت زیادہ نہیں ہے۔

eid ul adha 7عید قرباں کے سلسلے میں جہاں شہری جانوروں کی خریداری کے لیے پرجوش وہیں انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جانور کی خریداری کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔ دیکھاوے اور ریاکاری سے آپ کا دنیا میں نام تو اونچا ہوجائے گا مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ اس لیے یہ قربانی صرف اور صرف اللہ کی رضا کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے معیانہ روی سے کریں اور اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیں۔

Top