کراچی کا پانی یا بیماریاں (رپورٹ: نذیر ناصر)

water line breakکراچی کو حکومت سندھ کی جانب سے دیے جانے والے پانی میں ہردوسرے روز ایک نیا انکشاف ہوتا ہے تاہم اس بار جو انکشاف ہوا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔سندھ میں پینے کے پانی کے معیار سے متعلق فراہمی نکاسی آب کمیشن کی ٹاسک فورس کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ  ایک رپورٹ جمع کرائی گئی جس میں سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔سندھ میں نکاسی آب اور پینے کے پانی کے منصوبوں کی صورتحال کو بہتر بنانے سے متعلق عدالتی کمیشن کی کارروائی کے دوران انکشاف ہو اہے کہ شہریوں کو پینے کے لیے فراہم کردہ پانی میں انسانی فضلہ تک شامل ہو تا ہے۔  رپورٹ میں انکشاف ہو ا کہ سندھ کے مختلف 14اضلا ع میں 83 فی صد پانی کے نمونے انسانی جانوں کے خطرناک حد مضر پائے گئے جبکہ کراچی کے 90 فی صد پانی کے نمونے پینے کے لیے نقصان دہ ہونے کے علاوہ شہر میں پانی کے نمونوں میں 33 فی صد نمونوں میں انسانی فضلہ پایا گیا ہے ۔ اسی طر ح ٹھٹھہ میں 75 فی صد،لاڑکانہ میں 88فی صداور60 فیصد پانی کے نمونوں میں انسانی فضلے کے اجزاءپائے گئے، حیدر آباد میں 42 فی صد نمونوں میں، جامشورو میں 36، ٹنڈو محمد خان میں 30 فی صد، ٹنڈو الہ یار میں 23، بدین 33 اور میر پور خاص کے نمونوں میں انسانی فضلے کے اجزاءپائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے کم انسانی فضلہ تھرپارکر کے پانی میں پائے گئے ،سندھ کے 14 اضلاع کے 71 اسپتالوں سے پانی کے نمونے بھی ٹیسٹ کیے گئے جس کے مطابق اسپتالوں میں فراہم کردہ 88 فی صد پانی کے نمونے مضر صحت جبکہ 33 فی صد نمونوں میں سیوریج کا پانی شامل ہونے کا انکشا ف ہوا ہے جو کہ سندھ میں پینے کے لیے استعمال ہونے والا پانی انسانوں کے لیے بے حد خطرناک قرار دے دیا گیا۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (ڈبلو ایس بی )90فیصد شہر کو پانی فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے ،کے ڈبلو ایس بی ایکٹ 1998 کے تحت کے ڈبلو ایس بی کو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن سے علیحدہ کر دیا گیا، اگرچہ کے ڈبلو ایس بی کو خودمختار ادارہ سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے، اس وقت شہر میں ایک طرف پانی کے شدیدبحران کا سامناہے تو دوسری جانب دستیاب پانی سے شہریوں میں مختلف قسم کے امراض پھیل رہے ہیں  محکمہ صحت کی انسداد نگلیریا کمیٹی نے شہر کے 246 علاقوں بشمول شہر کے گنجان آباد علاقوں گلشن اقبال، نیوکراچی، ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا، حسین آباد، سرجانی، کورنگی اور دیگر علاقوں سے نمونے حاصل کیے گئے۔

پانی کے تجزیے سے انكشاف ہوا ہے کہ 157 علاقوں میں شہریوں کو ملنے والے پانی میں کلورین کی مخصوص مقدار شامل ہی نہیں جبکہگندگی اور نکاسی آب کے نظام کی بدترین صورت حال کے باعث مختلف وبائی امراض پھیل رہے ہیںجن میں چکن گنیا،ڈینگی ،ملیریا ،ڈائریا وغیرہ شامل ہیں، حالیہ دنوں میں دوافراد نگلیریا کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔انسداد نگلیریا کمیٹی کےترجمان ڈاکٹر ظفر مہدی کے مطابق گرمیوں کے مہینوں میں نگلیریا زیادہ پھیلتا ہے۔ اس موسم میں جرثومہ کی افزائش ہوتی ہے۔ 50فیصد سے زیادہ شہریوں کو بغیر کلورین ملا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کی روک تھام کا واحد طریقہ پانی میں کلورین کی آمیزش ہے۔ اور کلورین کی مقدار پانی میں شامل کرنے کی ذمہ داری واٹر بورڈ کی ہے۔

واٹر بورڈ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈ پانی میں کلورین کی مخصوص مقدار کو شامل کرتا ہے۔ تاہم ہو سکتا ہے زیادہ گرمی پڑنے، پرانی اور خستہ پائپ لائنوں کی وجہ سے کلورین کا اثر گھروں تک پہنچتے پہنچتے ختم ہو جاتاہو۔ماہرین کا کہناہے کہ نگلیریا صرف پینے کے پانی کے ذریعے ہی جسم میں داخل نہیں ہوتا بلکہ گھروں میں نہانے یا سوئمنگ پول ،جھیل ،تالاب یا دریا میں نہاتے ہوئے بھی ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے اور جسم میں داخل ہوتے ہی یہ دماغ کا رخ کرتا ہے اور دماغ کو کھا کر انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ماہرین کا شہریوں کو مشورہ ہے کہ وہ گھر میں پانی کے ٹینکوں کو ہفتے میں دو مرتبہ صاف کریں اور کلورین کی گولیاں کا استعمال کریں۔

دوسری جانب اس معاملے پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کراچی و حیدرآباد میں فلٹر پلانٹس کے لیے رقم مختص کی گئی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے فوری اقدامات کیے جائیں گے جب کہ دونوں شہروں میں فلٹر پلانٹس کی اپ گریڈیشن بھی رواں سال کی جائے گی۔

Top