معرکہ این اے 249، کون کس کے مقابلے میں (خصوصی رپورٹ)

339739_9741214_akhbarرپوٹ: سجاد علی
کراچی: ماضی میں 2002 ءسے پہلے ن لیگ کے امیدوار میاں اعجاز شفیع نے 2مرتبہ قومی اسمبلی کی اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم ڈکٹیٹر مشرف کے دور (2002ئ) میں نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس نشست پر ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل کرنا شروع کر دی۔ یہ کامیابیوں کا سلسلہ 2008ءاور 2013ءکے انتخابات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ 2002ءمیں ایم کیو ایم امیدوار سرکار الدین ایڈوکیٹ 30408 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور ان کے مدمقابل مولانا شیریں محمد 22764 ووٹ لے سکے تھے جبکہ 2008ءکے الیکشن میں ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل منصور 67798 اور 2013ءکے الیکشن میں 87803 لے کر کامیاب ہوئے۔ ان نتائج کا جائزہ لیا جائے تو ایم کیو ایم کے حاصل کردہ ووٹوں میں حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا۔اب اس میں ایم کیو ایم کے اصل ووٹ کتنے تھے اس کا تعین کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اب کراچی آپریشن اور نئی حلقہ بندیوں اور ایم کیو ایم کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے مختلف گروپ میں تقسیم کے سبب یہ حلقہ سب سیاسی جماعتوں کے لئے اوپن ہو گیا ہے۔

نئی حلقہ بندی
نئی حلقہ بندیوں کے بعد حلقہ این اے 249 قرار دیا جانے والا حلقے میں سابقہ حلقوں این اے 240 اور 241 کے علاقے بلدیہ ٹاﺅن، سعید آباد، اتحاد ٹاﺅن، مہاجر کیمپ، مسلم مجاہد کالونی، نئی آبادی، رشید آباد اور گلشن غازی وغیرہ شامل ہیں۔ اب اس طرح اس حلقے میں پشتون، پنجابی، سرائیکی، ہزارے وال اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے رہنے والے اکثریت میں آگئے ہیں۔ اس حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 331430 ہے جن میں مرد ووٹرز 201541 اور خواتین ووٹرز 129889 ہیں۔ان علاقوں پر مشتمل اس حلقے میں 10 یونین کونسلوں میں سے 5مسلم لیگ (ن) نے جیتی ہیں جبکہ 4 پر متحدہ اور ایک پرپی پی پی پی اور جے یو آئی (ف) ہے۔اس حلقے سے ن لیگ نے اتحاد ٹاﺅن، گلشن غازی، عابد آباد اور نئی آبادی کی یونین کونسلیں بھاری اکثریت سے جیتی ہوئی ہیں اور گزشتہ الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ن لیگ کے امیدوار امان آفریدی نے 13ہزار سے زائد ووٹ لئے تھے۔

حلقے کے سیاسی صورتحال اور امیدوار وں کی پوزیشن
اس حلقے میں مجموعی طور پر 15 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 10 کا تعلق مختلف جماعتوں سے ہے ا ور 5 آزاد ہیں۔ اس حلقے میں سب سے زیادہ قابل ذکر سابق ویزاعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق میاں محمد شہباز شریف کو حلقے میں صرف شخصی ووٹ ہی 20سے 25ہزارتک پڑ سکتا ہے جبکہ حلقہ این اے ۔ 249 کیلئے اے این پی کے امیدوار حاجی اورنگزیب بونیری مسلم لیگ (ن)کے سربراہ شہباز شریف کے حق میں دستبردار ہوئے ہیں،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 سے مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید کے حق میں دستبردار ہوئے ہیں۔ این اے 249 کی 2 صوبائی نشستوں پی ایس 115 پر خواجہ غلام شعیب اور پی ایس 116 پر صوبائی جوائنٹ سیکرٹری حاجی صالحین تنولی پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ دوسری طرف ن لیگ کے مقامی عہداروں کا کہنا ہے کہ حلقے میں ایم کیو ایم بھی بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ ن لیگ کے چیئرمین ڈسٹرک ویسٹ انور نیازی (جو کہ انجمن تاجران سعید آباد کے صدر بھی ہیں) اور لیبرونگ کے دپٹی سیکٹری جرنل صابر شاہ کا کہنا ہے کہ حلقے میں ان کی پوزیشن بہت بہتر ہے اور امید ہے کہ ایم کیو ایم بھی اپنا امیدوار صدر مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف کے حق دست بردار کر دے گی۔ پارٹی ووٹ بینک کو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور ایم کیو ایم کی حمایت سے بھی 20 سے 25 ہزار تک اضافی ووٹ مل سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم اندرونی طور پر (ن) لیگ سے رابطے میں ہے جبکہ ایم کیو ایم نے کراچی کی تمام نشستوں سے اپنے امیدواران کا اعلان کر دیا ہے، این اے 249 سے متحدہ نے اسلم شاہ کو امیدوار کھڑا کیا ہے۔ حلقے میں ایم کیو ایم اور اے این پی کے ن لیگ سے تعاون کے سبب میاں محمد شہباز شریف کی پوزیشن کافی مضبوط ہو چکی ہے اورحلقے میں ن لیگ با آسانی 80 سے 90 ہزار ووٹ لے سکتی ہے۔اس کے علاوہ ن لیگ مقامی اور قومی سطح پر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ ایم ایم اے بھی حلقے میں ن لیگ کی حمایت کا ااعلان کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں کاکہنا ہے کہ اگر شہباز شریف اس حلقے سے جیت جاتے ہیں تو قوی امکان ہے کی مسلم لیگ (ن) یہ سیٹ نہیں چھوڑے گی۔

ایم ایم اے کے امیدوار عطا ءاللہ شاہ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک شخص ہیں۔ 2002ءکے نتائج کو دیکھا جائے تو اس وقت ایم ایم اے کے امیدوار نے 22 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے اور ایم کیو ایم کے امیدوار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ دینی جماعتوں کا اتحاد ایک مرتبہ بحال ہوا ہے، جس کے مثبت نتائج مرتب ہونگے اور عطاءاللہ شاہ اس سیٹ سے اپ سیٹ بھی کرسکتے ہیں۔ گو کہ عطاءاللہ شاہ کا اپنا ووٹ بینک محدود ہے، مگر جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) کا ووٹ بینک اچھا خاصا ہے، اس لئے ایم ایم اے کو اچھا ووٹ مل سکتا ہے۔ امید یہ ہی ہے کہ آخری وقت میں ایم ایم اے اپنا امیدوار شہباز شریف کے حق میں دست بردار کر لے گی اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس حلقے میں اصل مقابلہ ایم ایم اے اور (ن) لیگ کے درمیان ہوگا۔

اس کے علاوہ اس حلقے سے تحریک انصاف کے معروف رہنماءفیصل واوڈا، پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل، پاک سرزمین پارٹی کی ڈاکٹر فوزیہ تحریک لبیک کے مفتی عابد مبارک میدان میں ہیں۔ تحریک انصاف کا ڈیفنس میں رہائش پذیر شخص کو بلدیہ ٹاﺅن سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ حیران کن ہے۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے مقابلے کیلئے کسی ایسے امیدوار کا انتخاب ناگزیر تھا، جس کے پاس بے پناہ وسائل موجود ہوں، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف نے اس نشست پر فیصل واوڈا کو ٹکٹ ان کی دولت کو دیکھ کر دیا ہے۔ کیا فیصل واوڈا حلقے کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے، اس حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں۔ تحریک لبیک کے مفتی عابد مبارک بھی ایم ایم اے اور ن لیگ کے ووٹوں پر کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو اس حلقے میں کافی دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

Top