رمضان میں منافع خور سرگرم (رپورٹ: سیدہ عنبر فاطمہ)

fruit walaکراچی: رمضان المبارک میں شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے مگر اس بابرکت مہینے میں منافع خور تاجروں کے نفس کا شیطان آزاد رہتا ہے۔ کیوں کہ رمضان کے مبارک اور بابرکت مہینہ کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے۔ دال ہو یا گو شت، پھل ہو یا سبزی سب اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں جس کا کوئی پر سان حال نہیں ہے۔ دال 140روپے کلو، مرغی 360 روپے کلو، دودھ 100 سے 150 روپے لٹر اور پھل بھی 100 روپے سے کم نہیں ہیں، غریب عوام کھائے تو کیا کھائے۔ اب تو حکومت نے عوام کے لیے ایک ہی راستہ چھوڑا ہے کہ بیچاری صبر کا گھونٹ پی کر سحری کرے اور خیالی پلاؤ سے روزہ افطار کرے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ تاجران بھی سوچتے ہیں کہ صرف ایک یہ ہی مہینہ ہے جس میں ہمیں اپنی جیبں بھرنی ہیں۔ اس لیے عام دنوں کے مقابلہ پاکستان میں رمضان میں تمام اشیاء صرف اور بھی مہنگی ہوجاتی ہیں۔ جب کہ دوسرے ممالک میں رمضان اوراپنے مذہبی تہواروں میں عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے ۔ ہماری بیچاری عوام بھی تو یہی سوچتی ہے کہ جو کھانا ہے صرف اسی ایک مہینہ میں کھانا ہے اس لیے کوئی بھی چیزکتنی ہی مہنگی ہو جائے عوام نے کھانی ضرور ہے اور پھر مہنگائی کا رونا بھی روتے ہیں۔ تاجر برادران کو چاہیے کہ اشیائے خور و نوش پر منافع کم سے کم رکھیں تاکہ غریب سے غریب بندہ بھی کھا سکے۔ عوام کو چاہیے کہ سب ایک ساتھ مل کر مہنگی اشیاء کا بائیکاٹ کریں۔ حکومت اور منافع خوروں کو بتائیں کہ پاکستان کی امیر اور غریب عوام ایک ہے۔

Top