کراچی میں ٹریفک حادثات کیوں؟ (خصوصی رپورٹ)

KHi Accident
کراچی میں ٹریفک حادثات میں سر کی چوٹ لگنے کے باعث زخمیوں کی تعداد میں اضافہ تشویشناک حد تک بڑھ گیا۔ ٹراما سینٹرز کی کمی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ کراچی میں ٹوٹی پھوٹی سٹرکیں اور بے ہنگم ٹریفک تو ہے ہی لیکن تیز رفتار ی سے گاڑی اور موٹر سائیکل چلانے والے بھی کسی سے کم نہیں۔
ٹریفک حادثات پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق کراچی میں ایک سال میں 31 ہزار حادثات میں سے 80 فیصد کا شکار موٹر سائیکل سوار ہوئے۔ دوسرے نمبر پر بسوں میں لٹک کر سفر کرنے والے شامل ہیں،ان میں زیادہ تر لوگوں کو سر پر شدید چوٹیں آتی ہیں۔جناح اسپتال میں ایک مخصو ص نیو رو ٹراما سینٹر ہے جہاں یومیہ 3سے 4سو سر پر چوٹ لگنے کے زخمی لائے جاتے ہیں۔
شعبہ نیو رو کے سربراہ ڈاکٹر رضا خیرات کے مطابق ٹریفک حادثے کے بعد اگلا ایک گھنٹہ انسان کی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے، بدقسمتی سے ملک میں نیورو ٹراما یونٹ نہ ہونے کے باعث اکثر لوگ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے پیش نظرجناح اسپتال کے نیو رو ٹراما وارڈ میں ہر ماہ 2سو سے زائد سر کی مختلف نوعیت کی سرجریز کی جارہی ہیں، شہر کی ضرورت کے لحاظ سے یہ وارڈ انتہائی ناکافی ہے۔ اسپتال کے نیو رو یونٹ میں انتہائی نگہداشت کاشعبہ بھی بنایا گیا ہے جبکہ فالج اورحادثے کے بعد لوگوں کو زندگی کی طرف دوبارہ لانے کے لیے بحالی مرکز اور مخصوص وارڈ بھی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ سر پر چوٹ لگنے کے باعث مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
ایک جانب پاکستان کے واحد نیو رو ٹراما سینٹر کے ماہر طب جہاں اس شعبے کو وسعت دینے کے لیے مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کررہے ہیں تو دوسری جانب حکومت سے مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں نیو رو ٹراما سینٹر بنائے جائیں تاکہ قیمتی زندگیوں کو بروقت بچایا جاسکے ۔

Top