شیشے کا استعمال، پابندی کیوں؟ (رپورٹ)

خصوصی رپورٹ: عارف رمضان جتوئی
shisha-1حکومت سندھ نے شیشے کے استعمال پر فوری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں قانون سازی شروع کردی گئی۔ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون نے محکمہ صحت سے شیشے میں استعمال تمباکو کی فروخت اورپینے سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں تاہم ذرائع نے بتایا کہ شیشے کے استعمال پر مکمل پابندی عائدکرنے کیلیے قانون سازی شروع کردی گئی جس کا نام سندھ انسداد شیشہ نوشی ایکٹ2016 رکھا گیا ہے، مجوزہ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کوایک لاکھ روپے جرمانہ اور 3سال قیدکی سزا تجویزکی گئی ہے جبکہ اس میں استعمال کیا جانے والا تمباکوکی درآمد، خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
ادھر قانونی اور ماہرین صحت آئندہ ہفتے تک حتمی تجاویز مرتب کر لیں گے جس کے بعد اسے منظوری کیلیے سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، منظوری کے بعد سندھ میں شیشے کے استعمال، فروخت پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔
شیشہ دیکھنے میں تو بہت نایاب اور مختلف دیکھائی دیتا ہے لیکن ہم سب کو اس بات کا علم ضرور ہے کہ شیشہ ایک خطرناک اور خان لیوا ہے۔ شیشے کا دھواں انسان کے پھیپڑوں کو دیمک کی طرح کھاجاتا ہے آج کل کہ نوجوانوں میں شیشہ ایک عام اور روز مرہ کا حصہ ہے نوجوان دوستوں کی محفلوں میں شیشہ ایسے استعمال کیا جاتا ہے جیسے کوئی مریض اپنا مرض دور کرنے کے لیے دوائی کا استعمال کرتا ہے۔
ماہرین طب کے کا کہنا ہے کہ ایک شیشہ 100 سگریٹ کے مدِ مقابل ہے۔ پاکستانی نوجوانوں میں شیشہ بحیثیت فیشن کے طور پر استعمال ہوتا ہے نہ کہ صرف نوجوان بلکہ آج کل کے نوجوانوں کے ساتھ خواتین نے بھی اس فیشن کو پروان چڑھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ یہ آج کل کی نسل کی سوچ کے مطابق ہائی کلاس سوسائٹی میں شیشہ ایک ٹرینڈ بن چکا ہے جس کو استعمال کرکے نوجوان لڑکے لڑکیاں خود کو اونچی سوسائٹی کا فرد سمجھتے ہیں۔ خواتین نے شیشہ کو اپنی زندگی میں ایسے شامل کرلیا ہے کہ وہ اس فیشن کے بغیر خود کو نامکمل سمجھتی ہے۔ محفلوں کی رونق جس زمانے میں لوگ ہوا کرتے تھے۔
شیشے پر پابندی عائد کے باجود بہت سے مقامات پر شیشہ سرعام بک رہا ہے اور باقائدہ شیشہ بار چل بھی رہے ہیں ۔ یہ بار خفیہ طور پر چلائے جاتے ہیں پولیس کو اس بات کا علم ہوتا ہے۔ لیکن لے دے کر کوئی ایکشن نہیں لیتی۔ آغا خان یونیورسٹی کے ماہر امراض پھپھٹرے، سینہ (پلمونری) ڈاکٹر جاوید خان کا کہنا ہے کہ شیشے کے استعمال سے پھیپھڑوں میں سوزش ہوجاتی ہے جبکہ سانس کی نالیاں بھی متاثر ہوتی ہیں ، شیشہ دمہ کے مرض کا باعث بھی بن رہا ہے، ایک گھنٹے شیشے پینا 200 سگریٹ پینے کے برابرہے۔

Top