نقل کروانے والا واٹس ایپ گروپ (خصوصی رپورٹ)

WhatsAppسوشل میڈیا کے ذریعے نقل کے نئے طریقے ایجاد کرلیے گئے ہیں۔کراچی میں پہلے میٹرک کے اور اب انٹر کے امتحانات میں نقل کا سلسلہ جاری ہے، جس میں نقل کروانے والے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہیں۔ نقل کروانے والے 5ہزار روپے کے عوض واٹس ایپ کے نقل گروپ میں شامل کرتے اور ہر سوال کا جواب کمرہ امتحان میں موبائل پر حاضرہوجاتا۔
طلبہ کا ایک گروپ ایسا پکڑا گيا ہے جسے کمرہ امتحان میں وٹس ایپ پر باہر سے حل شدہ پرچہ بھیجا جارہا تھا، ایک طالبعلم پکڑا گیا تو بھید کھلتا چلا گیا۔ سوشل میڈیا پر نقل کے گروپ میں شامل ہونےکے لئے طالب علموں سے ہزاروں روپے وصول کیے جارہے ہیں۔
نقل مافیا نے وٹس ایپ پر پورا گروپ بنا رکھا تھا اور اپنے کلائنٹ طلبہ کو وٹس ایپ پر سوالات کے جواب بھیجے جارہے تھے ، طلبہ یہ سوال کمرہ امتحان میں اپنے پاس موجود موبائل میں وصول کرکے بالکل اس طرح امتحانی کاپی پر لکھتے رہے کہ جیسے یہ امتحان نہیں ، گھر پر بیٹھ کر کو ئی اسکول کاکام ہورہا ہے ۔
اگرچہ اس گروپ میں پکڑے گئے طلبہ کی تعداد مجموعی طلبہ کے مقابلے میں آٹے میں نمک جیسی ہے ، لیکن اس رجحان نے بہت سے سوالات اٹھا دیئے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق قائد آباد کے اسکول میں طلبا سے موبائل ملے ہیں جن میں 3مختلف گروپ پہ پرچہ حل کیا جارہا تھا۔ ہر طالب علم کے پاس موبائل فون موجود Cheating-in-examsتھا اور وہ کھلا ہوا تھا۔بظاہر تو اس حوالے سے بہت سخت قوانین ہیں جس کے تحت کمرۂ امتحان میںموبائل فون لے جانا منع ہے۔جو افراد نقل کروا رہے تھے،ان پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کچھ بچوں نے بتایا کہ ان کے ٹیچرز نے 5 ہزار روپے لے کر ان کو اس گروپ میں شامل کر وایا ہے۔ دوسری جانب نقل مافیا کی ایک اور نئی پیشکش ’پڑھائی ہماری، ڈگری تمہاری ‘ جاری کی گئی ہے جس کے تحت ایڈمٹ کارڈ پر تصویر تبدیل کرنے اورطالب علم کی جگہ دوسرے فرد کے پیپر دینے کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے۔

کیا آئندہ ایسے اقدامات کیے جائیں گے جس سے اس قسم کی نقل کو روکا جاسکے۔ طلبہ کی نقل سے ان کی تعلیم کا نقصان کروانے والے بنیادی طور پر خود اساتذہ اور امتحانی سینٹر کے نگران ہیں۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہاں تک موبائل لے جانے کی اجازت کیسے ممکن ہوئی۔ واٹس ایپ یا دیگر گروپ پکڑنے سے نقل رک جائے گی شاید کبھی نہیں جب کہ نگرانی کا مرحلہ سخت نہ ہو. ضرورت اس بات کی ہے ایسے افراد کو فوری طور پر نکالا جائے جو سینٹرز کے اندر بیٹھ کر باقاعدہ نقل کالین دین کرتے ہیں۔

Top