عورت کے ساتھ نا انصافی، آخر کب تک ؟(پرھ اعجاز )

2تاریخ کے پس منظر سے لے کر دورِ حاضر تک کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ہم یہ بات بآسانی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں خواتین آج بھی اپنی زندگی کے تمام تر بنیادی حقوق سے محروم ہیں، دیکھا جائے تو عورت ذات اپنی ذندگی کے تمام معاملات سے لے کر اپنے حقوق کے حصول کے لیے آج بھی ایک طویل سفر میں ہے جہاں کسی منزل تک پہنچنے کے لیے اُسے ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر رکھنا پڑ رہا ہے اور اِس سفر میں حائل بے تحاشا مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ مگر یہ حال صرف ہمارے ملک کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے بڑے سے بڑے ترقی یافتہ ممالک کا بھی یہی حال ہے جہاں عورت ذات اپنے حقوق سے محروم اَن گنت مسائل کا شکار بنی ہوئی ہے اور آج تک چاہ کر بھی اپنے حقوق کی جنگ میں جیت نہیں سکی لیکن یہ بھی ایک عورت کی عظمت ہے کہ وہ آج بھی اپنی لڑائی بہادری سے لڑتے ہوئے ہر مشکل کا سامنا کر رہی ہے۔ اس لیے میرے نزدیک عورت کی ذات ایک عبرت کے ساتھ سوالیہ نشان بھی ہے جو اپنی ذات کے لیے خود مقابلہ کر رہی ہے۔ دورِ جہالت سے لے کر آج تک عورت اذیتوں کا شکار رہی ہے، بے انتہا مسائل اور سماج کی ناانصافیوں نے عورت ذات کی شخصیت کو ہی اُلجھا دیا ہے۔ اگر ہم دل سے ایک عورت کی تکلیفوں کو محسوس کریں تو شائد ہمیں یہ احساس ہو کہ ایک لفظ (عورت) میں ہی مسائل کی دنیا نظر آتی ہے ، جس سے آج کا ہر انسان نظر چُرانے کے مشن میں مشغول ہے تا کہ عورت ذات اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز اُٹھائے بھی تو اُسے نظرانداز کر دیا جائے تا کہ اُسے اپنے حقوق کے حصول کی جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑے۔
غربت، بیماری، روزگار وغیرہ کے مسائل سے ہٹ کر بھی اگر ہم غور کریں تو عورت کی ذندگی کے ساتھ جُڑی نا انصافیوں کی کئی داستانیں موجود ہیں، اور کئی ایسے بھیانک حادثات اکثر و بیشتر رونما ہوتے آئے ہیں جو انسان کی روح تک کو ہلا دےتے ہیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ بدلتے وقت، وقت کی تیز رفتاری اور ملک کی ترقی کے باوجود بھی آج تک عورت کے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آئے جس کے سبب عورت کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ عورت کو مسائل اور مایوسیوں کی ایک تجربہ گاہ کی مانند استعمال کیا جا رہا ہے جس کے باعث عورت اپنی لڑائی میں آج تک آگے نہیں نکل سکی۔ ناانصافی کی انتہا تو دیکھیں کہ کسی ملک میں عورت کو ڈرا ئیونگ کرنے سے روکا جارہا ہے تو ایک طرف میڈونا جیسی گلوکارہ کو عالمی حیثیت دے کر دنیا میں روشناس کرایا جا رہا ہے۔ ویسے بھی ہر دور کے مسائل کی نشاندہی ایک عورت ہی کر سکتی ہے، ذندگی کی اُلجھنیں اور مسائل کی بھی سطح کے ہوں ایک عورت ہی اُن پر آواز اُٹھا سکتی ہے اور برابری کی بنیاد پر دنیا کو بہشت بنا سکتی ہے۔
3
دنیا میں آج بھی ایسی کئی نامور شخصیات ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں، جن میں مدر ٹریسا، اینجلینا جولی، لیڈی ڈیانا، ملالہ ےوسف زئی اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ جیسی معروف اور اہم ہستیاں سرِفہرصت ہیں، جن کا نام لینے سے ہی دل میں ایک حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان میں عورت ہر آئے روز نئی مشکلات کا سامنا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، بالخصوص عورتوں کی تعلیم کا مسئلہ ، ملازمت ہو یا شادی کے معاملات ایک اُلجھی ہوئی ڈور کی مانند ہیں، خاص طور پر عورت کی وراثت میں حصے داری سے بھی آج ایک اہم مسئلہ ہے۔ اِس وقت پاکستانی سماج میں عورت کے بڑھتے ہوئے مسائل میں تعلیم اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے سے روکنے والی سوچ رکھنے والے لوگ، کُند ذہن و سوچ کے مالک جو عورت پر تیزاب گرانے سے لے کر ذبردستی کی شادی، پیسے اور جائداد کے عوض شادی، غیرت کے نام پر فرسودہ رسوم و رواج کے باعث عورت کی بَلی دیتے ہیں،کاروکاری جیسے معاملات میںجھوٹے الزامات کی بناءپر عورت کو قربان کردیتے ہیں۔ یہ لوگ کسی جانور سے کم نہیں جو محض عورت کو اپنے مفا دات کے لیے استعمال کرنا جانتے ہیں۔ بہت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ آج کے دور میں جہاںہمارا ملک بھی کہیں نا کہیں کسی نہ کسی شعبے میں ترقی کر رہا ہے، جہاں لڑکیاں پڑھ لکھ کر بھی اپنے حقوق کے لیے نہیں لڑ سکتیں، جہاں آج بھی عورت کر آواز کو دبایا جاتا ہے۔کیا یہی ہے ایک عورت کی ذندگی؟ جب تک اِس نا کارہ سوچ کا خاتمہ نہیں ہوگا،خواتین کے حقوق کے لیے منظور ہونے والے اسمبلی بِل، اُن کے حقوق کے لیے قائم ہونے والی کمیٹیاں، یہاں تک کہ سیاسی اور فلاحی تنظیمیں اور خواتین کے تمام مسائل کے لیے روک تھام کے لیے عملی اقدامات کرنا صرف ایک خواب ہی رہ جائے گا ہر آئے دن ہمیں میڈیا رپورٹس کے ذریعے عورتوں پر ظلم و تشدد کی داستانیں سننے کو ملتی ہیں، جن میں عورتوں پر تیزاب چھڑکنے کے بڑھتے ہوئے واقعات سے لے کر جہیز جیسی معمولی بات پر عورت کی ذندگی تباہ کردینے والی تکلیف دہ خبریں اخباروں کی حصہ بنتی ہیں۔
اِن تمام مسائل کی روک تھام کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ قانون کی مکمل رسائی سے لے کر عورتوں کی برابری کی بنیاد پر ملک کے معاملات اور ذاتی ذمے داریوں کو شعور کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اِن موجودہ حالات میں ملک کی خواتین ترقی کے ہر عمل میں خود کو محفوظ سمجھ کر اپنا کردار بخوبی نبھا سکیں گی۔ ہمارا ملک اِس وقت خطرناک مسائل کا سامنا کر رہا ہے، خاص طور پر دہشت گردی اور جہالت جیسے حالات ہی مثبت سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ تمام حالات ہماری آنکھوں کے آگے ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں لیکن ہم قلم اُٹھانے کے سِوا کچھ نہیں کرسکتے۔ وقت اور سماج نے آج تک عورت کو ہر زاویے سے مظلومیت کا نشانہ بنا رکھا ہے اِس لیے عورت کے ساتھ درپیش مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا جا رہا اور اِن کو روایات کا نام دے کر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے اور ایسی بے بسی میں عورت رونے کے سِوا کچھ نہیں کر سکتی۔ اگر ایسا ہی حال رہا تو عورت کب تک یہ ناانصافیاں برداشت کرے گی؟ آخر کب تک؟ آج میری تحریر کا مقصد اپنے خیالات کو محض قلم بند کرنا نہیں ہے بلکہ ایک عورت ہونے کے ناطے دنیا کی ہر عورت کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانا ہے، لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے، میری یہ تحریر لوگوں کے لیے یاد دہانی ہے جو لوگ پڑھ لکھ کر بھی، اِن سب باتوں سے واقف ہونے کے باوجود بھی عورت کو کمتر سمجھتے ہیں، ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، تو میری یہ گزارش ہے کہ ہوش سے کام لیں اور اپنی بیٹیوں کی ذندگیوں سے نہ کھلیں، اُن کو اِن تمام واقعات کی نذر ہونے سے بچا لیں اور سنجیدگی سے اِن مسائل کی روک تھام کے لیے پہلا مثبت قدم بڑھائیں۔ یاد رکھیے، کہ آنے والی نسل کو آپ ہی ایک مثبت سوچ دے سکتے ہیں۔
pirahaijaz@yahoo.com
Top