حجاب عورت کا زیور (ملک نذیر اعوان)

world hijab day004قرآن کریم میں عورتوں کے پردے اور حیا ءکے حوالے سے ارشاد ہوا ”اے مومنوں کی عورتوں جب اپنے گھر سے نکلنے لگو تو اپنی چادر کا ایک پلہ اپنے منہ پے ڈال لیا کرو“۔ اسلام میں شروع سے پردے اور حیاءکو اہمیت حاصل رہی ہے اور رحمت دو عالم ﷺ کا بھی یہی فرمان ہے کہ ”حیاءایک مکمل بھلائی ہے اور حیاءایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے‘ ‘ ایک اور موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”عورت کے حق میں سب سے بہتر ین عمل حیاءہے۔

شہزادی کونین حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ”عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ عورت کی کسی غیر محرم پر نگا ہ نہ پڑے اور ایسا حیاءکرے جو حیاءکرنے کا حق ہے“۔جنت خاتوں فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے گھروالوں کو یہاں تک وصیت کی تھی کہ جب میرا وصال ہوجائے تو میرا جسد خاکی گھر سے مغرب کے بعد اٹھا ئیں تا کہ اس پر کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے۔ یہ بھی حیاءکی ایک بہترین مثال ہے شرم و حیاءعورت کا ایک زیور ہے۔

موجودہ حالات کی طرف دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے مجھے ایک دوست کی شادی کی تقریب میں راولپنڈی کے ایک بہت بڑے ہوٹل میں مدعو کیا گیا۔ فنکشن کا ماحول دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی یورپی ملک میں آگیا ہوں۔ جوان لڑکے اور لڑکیاں اس طرح آپس میں گفتگو میں محو تھے کہ یہ صدیوں بعد ایک دوسرے سے ملے ہیں اور تقریب کے آخر میں جو فوٹو گرافی کا منظر تھا۔ یہ تو اورحیران کن تھا۔ اسلام اس کی قطعا اجازت نہیں دیتا۔

اس صورتحال کو دیکھ کر احساس ہوا کہ کیا ابھی تک ہمیں لاشعور میں جی رہے ہیں۔ آخر ہمیں کب شعور آئے گا۔ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر ٹیلی ویژن اور موبائل نے ہماری نوجوان نسل کی تباہی اور بربادی کی ہے۔ اگرصحیح طریقے سے ان دونوں کا استعمال کریں تو پھر اس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ آج کل کے موجودہ دور میں ہر گھر میں کیبل کی سہولت موجود ہے اور جس سے نوجوان نسل دن بدن بگڑ رہی ہے۔

اسلام میں گانا بجانا، ڈرامے اور فلمیں دیکھنا ممنوع ترین عمل ہے۔ احادیث نبوی ﷺ میں بھی عورتوں کی بے پردگی اورپردہ داری کے حوالے سے بار بارذکر آیا ہے عورت کو کتنی چادر کی ضرورت ہے اور عورت کے لیے کونسا لباس جائز ہے۔ حضور پرنور آقا دوجہاں ﷺ کا فرمان مبارک ہے ۔ ”عورت جب بالغ ہو جائے تو ایسا لباس زیب تن کرے کہ جس میں جسم کا کوئی اعضاءنظرنہ آئے “ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ”عورت کسی غیر محرم کے ساتھ نرم لیجے میں گفتگو بھی نہ کرے “۔ یہاں تک آپﷺ نے ایک مقام پر یہ بھی فرمایا ”ایک وقت ایسا آئے گا آخری زمانے میں کہ یوں محسوس ہوگا کہ جیسے عورتیں برہنہ ہوں“۔

ہماری مشکلات ایک بڑی وجہ قرآن اور احادیث سے دوری بھی ہے۔ ہم مسلمان اور اسلام کے تابع ہونے کے دعوے بھی کرتے ہیں مگر اسلامی اقدار کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ ایک طرف محبت رسول ﷺ کا دم بھرتے نہیں تھکتے تو دوسری جانب ہمیں آقائے دو جہاں سرور کائنات ﷺ کے ارشادات پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں کیا یہ دوہرا معیار نہیں ہے۔ ایک خاتون کئی خاندانوں کو جنم دیتی ہے اور اگر وہ خاتون پاک باز اور باپردہ ہوگی تو یقین ہمیں ایک مہذب اور اسلامی معاشرہ میسر آئے گا۔ پردہ ہماری رکاوٹ نہیں بلکہ ہماری صفت ہے۔ اس میں عار محسوس کرنے کے بجائے اسے اپنانا ہی عورت ہونا ہے۔ پردہ کرنے والی خاتون جائل یا دیہاتی نہیں ہوتی۔

مرد و عورت میں اگر جسمانی تمیز کے علاوہ کوئی کردار ہے تو وہ پردے اور شرم و حیاءکا ہے۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوے اس کا خلاصہ یہیں ہے کہ معاشرے کے اندر رہتے ہوئے ہر فرد اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرے اور سادگی کو اپنائے ۔خاص کر اپنے گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں جس سے گھر کا ہر فرد اسلامی اصولوں پر مبنی اور شرم وحیاءکا پیکر ہو۔

Top