بننا کراچی کا! (امر جلیل)

Trams-running-on-Karachi-Streets-in-1952میں قطعی طور پر ارادہ نہیں رکھتا کہ آپ کو ثابت کرکے دکھا دوں کہ ہمارے ہاں مکمل اظہار رائے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بدزبانی، بداخلاقی اظہار آزادی کے زمرہ میں نہیں آتے۔ ہرگز نہیں، کئی ایک ایسے مسائل ہیں جن پر علمی اور مثبت بحث ہوسکتی ہے مگر مملکت اور معاشرے پر قابض مطلق العنان اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔ اس لئے میں اپنے کسی بادشاہ سلامت کا نام نہیں لوں گا جنہوں نے چار پانچ سو برس تک بغیر شرکت غیرے ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہندوئوں نے تب کس طرح ہم پر ظلم ڈھائے تھے؟ ہم نے ہندوئوں اور ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ ہندوئوں نے کبھی بھی ہم مسلمانوں پر حکومت نہیں کی تھی۔ ہندوستان پر ہم مسلمانوں کی حکومت تھی جب انگریز نے حیلے بہانوں سے ہندوستان میں قدم رکھا تھا۔ وہ ہم ہندستانیوں سے زیادہ ذہین، پڑھے لکھے، بین الاقوامی بیوپار اور راہ رسم رکھنے میں ماہر تھے۔ انتظامی امور میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انگریز نے ہم مسلمانوں سے ہندوستان کی حکومت چھینی تھی۔ ہندوئوں سے نہیں۔ اگر ہمارے حکمراں عیاشیوں اور تعمیراتی مہم جوئی سے وقت نکال کر بڑی تعداد میں مسلمان ہونے والوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دیتے، ان کو ہنر و حرفت سے آراستہ کرتے تو انگریز کے دور حکومت میں مسلمان خود کو اس قدر بے بس محسوس نہ کرتے۔ ہندو دھرم کے اعلٰیٰ طبقے سے تعلق رکھنے والے برہمن مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ہندو دھرم کے دوسرے اعلیٰ طبقے ویش سے تعلق رکھنے والے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ہندو دھرم کے تیسرے طبقے کھتری یا کھشتری سے تعلق رکھنے والے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ان اعلیٰ تین طبقوں سے واسطہ رکھنے والے ہندو اپنے چوتھے طبقے شودھر یا اچھوت کو کمتر اور حقیر سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کے چار پانچ سو برس کے دور حکومت میں شودھر یا اچھوت بہت بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے تھے۔ انگریز کے دور حکومت میں شودھر یا اچھوت جو خود کو اب دلت کہتے ہیں، بہت بڑی تعداد میں عیسائی ہوئے تھے۔ عجیب ماجرا ہے کہ ہندو دھرم کے تین اعلیٰ طبقوں کی مجموعی تعداد سے شودھر تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ لازمی تھا کہ ہمارے مسلماں حکمراں نو مسلمانوں پر خاص توجہ دیتے۔ ان کو پڑھاتے، لکھاتے، تعلیم و تربیت دیتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ہمارے حاکموں کے مشغلے کچھ اور تھے۔
رقص و سرور، طائوس و رباب، مے خوری، سیرو تفریح، اور شکار ہمارے حکمرانوں کے پسندیدہ مشغلے تھے۔ ہمارے کچھ حکمراں ایسے بھی تھے جن کو غلامرکھنے کا شوق تھا بلکہ مرض لاحق۔ ان کے نام اور ان کی شرمناک حکایتیں مستند تاریخوں میں لکھی ہوئی ہیں، مگر میں فقیر ان کے نام نہیں لکھ سکتا۔ لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں سکتا۔ آپ خود سمجھدار ہیں۔ میری مجبوری بلکہ میری بے بسی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ غلام زیادہ تر ترکستان یعنی ترکی سے لائے جاتے تھے۔ زرق برق ریشمی لباس میں ملبوس بنے ٹھنے رہتے تھے۔ ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ جب ان کے مونچھ داڑھی آتی تھی اور وہ لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھتے تھے تب ان کو صوبوں کے اعلیٰ عملداروں کے حوالے کردیا جاتا تھا۔ ان غلاموں میں سے کئی غلاموں نے اپنے آقا، اپنے بادشاہ کو قتل کیا اور حکومت پر قابض ہوگئے۔ یہ تاریخی حقیقتیں ہیں۔ آپ پاکستان کے سب سے زیادہ معتبر تاریخ داں ڈاکٹر مبارک علی سے تصدیق کرسکتے ہیں۔ ایسے حکمرانوں سے آپ کیا توقع کرسکتے ہیں؟ یہی حال ہندو راجا اور مہاراجائوں کا تھا۔ ان کے پاس دور رس نگاہیں نہیں تھیں۔ میں تاریخ کا بہت چھوٹا، معمولی اور ادنیٰ طالب علم ہوں۔ میرا یقین ہے کہ انگریز نے اگر دو ڈھائی سو سال ہندوستان پر حکومت نہیں کی ہوتی تو ہندوستان بلکہ برصغیر کا شمار پسماندہ ممالک میں ہورہا ہوتا۔ یہاں نہ ہوتے اسکول، نہ ہوتے کالج، نہ ہوتیں یونیورسٹیاں۔ نہ ہوتے روڈ، نہ ہوتے راستے۔ نہ ہوتے کلینک، نہ ہوتے اسپتال ، نہ ہوتے پل، نہ ہوتے ڈیم،نہ بچھتیں ریل کی پٹریاں، نہ چلتے اسٹیمر یعنی پانی کے جہاز۔ پورے ہندوستان پر ان کی نظر تھی۔ ایک طرف انگریز نے کولکٹا کے قریب گنگا ندی پر اپنے دور کا پلر کے بغیر دنیا کا سب سے بڑا پل ہوڑا برج بنایا جو کہ آج دنیا کا چھٹے نمبر کا سب سے بڑا برج یعنی پل ہے۔ دوسری طرف روہڑی اور سکھر کے درمیان دریائے سندھ پر لینڈس ڈائون برج بنایا جو کہ ہوڑا برج کی طرح بغیر پلر کے ہے۔ اٹک کا برج بنایا جس کے نیچے سے دریائے کابل اور دریائے سندھ گزرتے ہیں۔ ہر دوار ہندوئوں کا مقدس شہر ہے۔ شہر کے بیچوں بیج گنگا ندی گزرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ یاتری تیرتھ یاترا کیلئے ہر دوار آتے ہیں۔ انگریز نےیاتریوں کیلئے بغیر پلر کے پل بنایا جہاں سے روزآنہ ایک لاکھ آدمی گزرتے ہیں۔ چھوٹی سی بستی ممبئی کو انگریز نے بمبئی بنایا اور بین الاقوامی شہرت دے دی۔ اسی طرح انگریز نے برصغیر کو بڑے بندرگاہ بناکر دئیے۔ ان بندرگاہوں میں ایک بندر گاہ کا نام ہے کیماڑی۔
جب کراچی مچھیروں کی چھوٹی سی بستی کولاچی تھی تب کیماڑی کی بندرگاہ نہیں تھی۔ طرح طرح کے حکمراں آئے۔ ارغون، ترخان، مغل، سومرے، کلہوڑے وغیرہ وغیرہ مگر کسی کو کیماڑی بندرگاہ بنانے کا خیال نہیں آیا۔ انگریز نے اٹھارہ سو تریتالیس میں سندھ فتح کرنے سے بہت پہلے جب انہوں نے مکمل طور پر ہندوستان پر قبضہ کرلیا تھا تب انہوں نے سندھ کی اہمیت محسوس کرلی تھی خاص طور پر کولاچی کی۔ انگریز نے فیصلہ کرلیا تھا کہ سندھ فتح کرنے کے بعد کولاچی کے قریب بندرگاہ بنائیں گے۔ سندھ فتح کرنے کے بعد انگریز نے کولاچی تک پینے کا پانی پہنچانے کیلئے موجودہ کراچی سے چالیس میل دور دم لوٹی گائوں کے قریب پانچ ٹیوب ویل لگوائے اور کیماڑی تک میٹھے پانی کی پائپ لائنیں لے گئے۔ کنسٹرکشن کے سامان کے ساتھ ساتھ انجینئر آئے، سپروائزر آئے، مزدور آئے، دفتر کھلے۔ دفتروں میں کام کرنے والوں کیلئے مکان بنے۔ مکان بنے تو کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں کھلیں۔
انگریز افسروں کی تعداد بڑھی تو کلب بنے۔ ریستوراں بنے۔ اور اسی طرح کولاچی لمحہ بہ لمحہ کراچی بنتا گیا۔ کراچی کو بمبئی کی طرح بین الاقوامی شہر بنانے کیلئے سندھ کو بمبئی صوبے (پریذیڈنسی) میں ضم کیا گیا۔ اس دوران سندھ نے بہت ترقی کی۔ تالپو، میروں سے ڈرے اور سہمے ہوئے ہندوئوں نے دل کھول کر سندھ کو آباد کیا۔ پارسی، اینگلو انڈین، اور ہندوئوں نے کراچی کو سنوارا۔ کراچی کو دیدہ زیب بنا دیا۔ بمبئی اور کلکتہ کی طرح کراچی میں ٹرام چلائی گئی۔ کراچی کا حسن اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں، ماضی میں جھانکنا چاہتے ہیں تو پھر آزادی کے بعد آزادی سے کراچی کا تیاپانچا ہوجانے کے بعد جو اکا دکا عمارتیں بچ گئی ہیں، ان عمارتوں کو دیکھئے۔ میونسپل کارپوریشن، ڈی جے سائنس کالج، جہانگیر کوٹھاری، پریڈ کلفٹن، سندھ ہائیکورٹ، سندھ اسمبلی بلڈنگ، کوٹھاری مینشن کیماڑی، میٹھا رام ہاسٹل، مہاٹا پیلس، ہندو جمخانہ وغیرہ۔ انگریز کے بنائے ہوئے شہر کراچی کو اگر آپ پھر سے کولاچی بنانا چاہتے ہیں تو بسم اللہ۔ ویسے بھی ہمیں لنڈے کے کپڑے پہننے کی عادت پڑ گئی ہے۔ دوسروں کی ذات پات کو اپنے نام سے منسلک کرنے کو ہم برا نہیں سمجھتے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)

Top