کراچی کی حیثیت اور مسائل (عنایت کابلگرامی)

KARACHI, PAKISTAN, AUG 31: View of stagnant water accumulated in the city after heavy  downpour nearby Gujar Nullah area in Karachi on Thursday, August 31, 2017. Heavy rainfall  battered the city and flooded the streets. The rain related incidents claimed five lives in the  metropolis, while electricity supply was suspended to several areas of the city. After last night’s  raging shower of rain has been causing severe problems for citizens who are stranded on main  arteries due to traffic jam. (S.Imran Ali/PPI Images).

کراچی میں طوفانی بارش کے بعد ہونے والی تباہی پر جس میں چوبیس قیمتی جانوں کے ضیاع ہواخامہ فرسائی کرتے ہوئے ایک دوست نے کہا کہ یار بارش کے بعد کراچی کا برا حال ہے، میں نے کہا کہ بارش سے قبل کراچی کونسا پیرس کا منظر پیش کررہاتھا۔ بارش سے پہلے بھییہی صورتحال تھی کراچی میں، پہلے بھیسڑکوں پر اسی طرح کچرے کے ڈھیرتھے ، اور اسی طرح سڑکیں ٹھوٹ پھوٹ کا شکار تھی ،پانی جمع رہتا تھا اور جان لیوا حادثے وقوع پذیر ہوتے رہتے تھے۔بس فرق اتنا ہے کہ بارش نے صوبائی اور شہری حکومتوں کے انتظامی معاملات کے پول کھول دئے ، وہ حضرات تو اختیارات کی جنگ میںمصروف ہیں ان کو ان معاملات سے کیا لینا دینا۔
کراچی دنیا کا تیسرا اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے ، اس کی آبادی لگ بگ دوکروڑ ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ موجودہ مردم شماری میں اس کی آبادی کو انتہائی کم دیکھا یا گیا ۔ پاکستان میں سب سے مقبول شہر بھی کراچی ہی ہے۔کراچی کو پاکستان کا معاشی حب بھی کہا جاتا ہے ۔ کراچی کوپاکستان کا پہلا دارالخلافہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ، یہ ایک تاریخی شہر ہے ، پاکستان میں مشہور کہاوت ہے کہ” جس نے کراچی نہیں دیکھی اس نے کچھ نہیں دیکھا ، غریب کی ماں کراچی“اور دنیا کے سستے ترین شہروںمیںاس کا شمار دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔
آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بڑا شہر ہے ، لہذا اسے انتظامی طور پر 6 اضلاع میں تقسیم کیا گیاہے۔ ضلع وسطی، ضلع غربی ، ضلع شرقی ، ضلع جنوبی ، ضلع کورنگی اور ضلع ملیر ۔ کراچی کی تاریخ کئی صدی پرانی ہے۔ اس شہر کاپہلا نام دبیل تھا۔ بعداسے کولاچی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جو ایک گوٹھ کے طورپر مشہور تھا بعد ازاں اس کا نام کراچی رکھا گیا۔ 1795ءمیں کراچی قلات کی مملکت کا حصہ تھا۔ اسی سال سندھ اور قلات کے حکمرانوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں کراچی سندھ کے حکمرانوں کے تسلط میں آگئی ۔ قدرتی بندرگاہ پائے جانے کے باعث کراچی تیزی سے ترقی کے منازل طے کر رہا تھا ۔
لیکن گزشتہ آٹھ دس برسوں سے کراچی اور کراچی کے باسیوں کے ساتھ سوتیلی ماں کی طرح سلوک رواں رکھا گیاہے ، دنیا کے تیسرے بڑے شہر کے باسی انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں ، پہلے دہشتگردی نے جینا دوبر کردیا تھا ،اب لوڈ شیڈنگ ، پختہ سڑکوں کا نہ ہونا ، جگہ جگہ ابلتے گٹر ،اور گھنٹوں ٹریفک جام کے مسائل نے کراچی کے باسیوں کو ذہنی امراض میں مبتلا کر دیا ہیں ، یوں تو کراچی شہر مسائل کی آماجگاہ ہے لیکن ایک اہم مسئلہ کراچی میں ٹریفک کا بھی ہے۔ شہر میں ٹریفک جام سے کروڑوں روپے کا ایندھن اور لاکھوں لوگوںکا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، جس کے باعث نہ صرف لوگوں میں چڑچڑاپن اور بلڈ پریشر کا مرض بڑھ رہا ہے بلکہ آپس میں غیر اخلاقی رویوں کے باعث بیشتر شہری بے عزتی و بے توقیری کابھی شکار ہوتے ہیں۔
کراچی کی تاریخ اتنی طویل اور اس کے موجودہ شہریوں کو اتنے مسائل درپیش ہے کہ اسے اگر تحریر کی شکل دی جائے تو وہ ایک ضخیم کتاب کی شکل اختیار کر جائے ،اس لئے میں آج صرف سڑکوں کی صورت حال پر قلم کوجنبش دونگا ۔ کسی بھی ملک یا شہر میںا ٓپ جائے تو اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کے لئے اس کی گلیوں اور سڑکوں کو دیکھ کر ہی رائی قائم کر سکتے ہے ، اگر وہاں کی سڑکیں پختہ اور صاف ستری ہے تو آپ اس قوم اور حکومت کے لئے اچھی رائے قائم کر ینگے ، لیکن اگر وہاں کی سڑکیں ٹھوٹ پوٹ کا شکار ہو ، ہر وقت سڑکوں پر گند اور نالوں کا پانی بہتا ہو ، تو اس قوم کے لئے آپ کی رائے انتہائی منفی ہوگی ،آپ کہیںگے کہ یہ لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے تب ہی ان کی حکومت ان کی سڑکوں کا خیال نہیں رکھتی، لیکن کراچی کا معاملہ کچھ اور ہے ، یہاں کی سڑکیں جو منظر پیش کر رہی ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اس وقت پورا کراچی شہر موئن جو دڑو کا منظر پیش کر رہا ہے ، ہر طرف ٹھوٹی سڑکیں ، ابلتے گٹر، ایسا محسوس ہو تا ہے کہ کسی جیٹ طیاروں نے بمباری کی ہو ، کراچی کا کوئی ضلع ایسا نہیں کہ وہاں کی سڑکیںپختگی کے مسائل سے دوچار نہ ہو، بڑ ی بڑی شاہراہوں پر اتنے بڑے بڑے گڑھے بنے ہوئے ہے کہ ان میں اگر کوئی موٹر سائیکل سوار گر گیا تو اس کا بچنا ناممکن ہے ۔ ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ٹھوٹی پھوٹی سڑکیں ہی ہے ۔ کراچی کی کوئی بھی سڑک ایسی نہیں جو ٹھوٹ پھوٹ کی شکارنہ ہو ، سڑکوں پر اتناگندہ پانی جمع ہوتا ہے کہ اس سے گزرنے کے بعد موٹر سائیکل سوار شخص اگر نمازی ہے تو اس دن کی باقی نمازےں وہ نہیں پڑھ سکے گا کپڑے بدلے بغیر ۔
ایک طرف گرین بس پروجیکٹ کی ست روی نے سڑکوں کا ستیاناس کیا ہوا ہے تو دوسری طرف حکومت سندھ اور بلدیاتی اداروں میں رسہ کشی کی وجہ سے ترقیاتی کام ادھورے پڑے ہوئے ہیںجس بنا پر کراچی میں ٹریفک کے مسائل پیدا ہورہے ہیں ، حالیہ بارشوں نے کراچی کے باسیوں کے مسائل مزید بڑھا دیئے ، جو تھوڑی بہت پختہ سڑکیں تھی، وہ بھی غیر معیاری مٹیریل کے استعمال کی وجہ سے بارش کے بعدٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں۔بارش سے ہونے والی تباہی کی ذمہ داری ایک صوبائی وزیر نے یہ کہ کر شہری حکومت پر ڈال دی کہ ہم نے فنڈز جاری کردئے تھے اس کے باوجودنالوںکی صفائی نہیں کرائی گئی جبکہ سٹی میئر کا کہنا ہے کہ بارش زیادہ ہوگئی ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے ۔ اس اختیارات کی رسہ کشی میںعوام کے حقوق سلب ہورہے ہیں لہذاسیاستدان اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو عوامی مفادات پر ترجیح نہ دیں، اختیارات کی رسہ کشی کی وجہ سے ” تاریخی شہر کراچی مسائل کی آماجگا ہ“ بن چکاہے۔اللہ ہم کراچی والوں کے حال پر رحم فرمائے (آمین )

Top