کراچی میں تیل کی تلاش اور امریکی ماہرین (محمد اسلام)

3(طنز و مزاح)
بتایا گیا ہے کہ امریکی ماہرین نے نصف شب کو کراچی کی اہم شاہراہوں پر سائنسی تجربات کیے اور ان تجربات کا مقصد کراچی میں تیل اور گیس کی تلاش ہے۔ جبکہ بعض حلقوں نے اس ضمن میں اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ یوں تو گزشتہ کئی برسوں سے کراچی کے عوام کا تیل نکالا جا رہا ہے۔ ہمارے خیال میں اگر یہ سب تیل جمع کر لیا جائے تو پھر تیل کی تلاش کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن بعض سیانوں کا دعویٰ ہے کہ کراچی کے عوام کا تیل نکالنے کے بعد اسے کراچی میں نہیں رکھا جاتا بلکہ وہ بیرون کراچی منتقل ہو جاتا ہے۔ اب اس معاملے میں کراچی کے عوام بھی پختہ کار ہو گئے ہیں ہر کس و ناکس کھڑا ہو کر ان کا تیل نکال دیتا ہے لیکن وہ اب احتجاج نہیں کرتے۔ ایک زمانہ تھا جب کراچی احتجاج کے حوالے سے شہرت رکھتا تھا۔ اب اس شہر میں بیزاری، بیگانگی، بے حسی اور لاتعلقی کا راج ہے۔ کراچی کے عوام اب صابر اور شاکر بن گئے ہیں۔ انہوں نے صرف زندگی کو رواں دواں رکھنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ حکمرانوں، بیوروکریٹس، مختلف ادارے اور بعض بیرونی عناصر اہل کراچی کا تیل نکالتے رہے ہیں۔ لیکن اب وہ اس عمل کے عادی ہو گئے ہیں۔ فی الوقت امریکی ماہرین نے کراچی کی اہم شاہراہوں کا انتخاب کیا ہے جو تقریباً شہر سے باہر کی طرف نکلتی ہیں۔
1
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیل نکلنے کا امکان کیا صرف شاہراہوں پر سب سے زیادہ ہے اور وہ بھی ان شاہراوں پر جو شہر سے باہر کی طرف جاتی ہیں۔ تیل اہم شاہراوں سے ہٹ کر بھی تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن بوجوہ ایسا نہیں کیا گیا۔ رات کی تاریکی میں ہونے والے سائنسی تجربات کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اگر تیل نکالنا ہی مقصود ہے تو اسے اس قدر خفیہ کیوں رکھا گیا پھر یہ کہ اس سلسلے میں امریکی ماہرین کی خدمات ہی کیوں حاصل کی گئیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امریکی تیل نکالنے کے ماہر ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں انہوں نے بڑی بے دردی کے ساتھ تیل نکالا ہے اور ان کی یہ کاروائی اب بھی جاری ہے۔ ویسے ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ کون سے ملک کے ماہرین کراچی کا تیل نکالتے ہیں لیکن اس پر ضرور اعتراض ہے کہ اس نیک کام کو خفیہ کیوں رکھا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر ہیں لیکن ہم ان کو دریافت کرنے اور ان سے استفادہ کرنے کی بھرپور صلاحیت نہیں رکھتے، یعنی ہمارا حال یہ کہ
نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی
2
اس لیے ہم غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں غیر ملکی ماہرین ہمارا تیل نکالیں گے یا گیس یہ ان کی صلاحیتیوں پر منحصر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ٹیکنالوجی اور سائنسی صلاحیتوں کو معاشی انقلاب کے لیے استعمال کریں۔ شاہراہوں پر جو سائنسی تجربات کیے گئے ان کی تفصیل اخبارات میں شائع نہیں ہوئیں البتہ اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ تجربات کے سلسلے میں نمبرز اور نشانات لگائے گئے ہیں۔ بعض نے بتایا کہ وہ پہلے یہ سمجھے کہ شاید کسی ورلڈ کپ کے میچوں کا تازہ ترین اسکور بتانے کا جدید انتظام کیا ہے کوئی 15 کو 15 رنز سمجھا اور کوئی 2 کو 2 وکٹ سمجھا۔ کسی نے 2 کے بعد 15 کو 15/2 کھلاڑی آئوٹ تصور کیا۔ لیکن تحقیقی کے بعد ان کی یہ غلط فہمی دور ہو گئی۔ بعض سٹے بازوں نے بتایا کہ ان نمبرز کو دیکھنے کے لیے متعدد سٹے بازوں نے ان شاہراروں کا جائزہ لیا اور بعض سٹے باز ان نمبرز کو بنیاد بنا کر اپنے نمبرز بتاتے رہے ہیں۔
سنا ہے کہ سائنسی تجربات میں بجلی بھی استعمال کی گئی ہے ایک نادان دوست کا خیال ہے کہ ان دنوں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ انہیں سائنسی تجربات کا سبب ہے اور یہ کہ اس بجلی کے حصول کے لیے کنڈا ڈالا گیا تھا ہم نے اس نادان دوست سے کہا کہ امریکی سائنسی تجربات کے لیے کنڈا کیوں استعمال کریں گے وہ تو ہمہ وقت میٹر ڈائون رہتا ہے بلکہ بعض لوگوں کا کہنا تو یہ ہے کہ میڑ اب رکشہ یا سواری کا مسئلہ ہی نہیں رہا کیوں کہ دونوں زبانی طور پر کرایہ طے کرتے ہیں اکثر اس زبانی جنگ میں رکشہ ڈرائیور سواری کا شکار کر لیتا ہے۔ اگر کبھی کبھی سواری رکشہ ڈرائیور کا شکار کر لے تو رکشہ ڈرائیور پھیل جاتا ہے کہ نہیں اتنے نہیں اتنے پیسے لوں گا۔ آپ یہ توقع کر سکتے ہیں کہ اگر امریکی ماہرین کراچی میں تیل نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو رکشہ ٹیکسی کا کرائی بھی کم ہو جائے گا۔ لہٰذا دعا کیجیے تیل نکل آئے اب یہ امریکیوں کے ہاتھوں ہی مقدر میں لکھا ہے تو یوں ہی صحیح۔

Top