پاکستانی سلامتی کے لیے تشویش ناک معاہدہ ( حافظ عاکف سعید)

1پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر خطرات سے دوچار ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع ایسٹن کارٹر جو حا ل ہی میں بھارت کے دورے پر تھے اور اس دوران امریکہ اور بھارت کے درمیان لاجسٹک معاہدہ ہوا ہے۔ کبھی ہم نے بھی امریکہ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جب وہ وار آن ٹیرر کے حوالے سے افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا کہ ہم اس سلسلے میں لاجسٹک تعاون کریں گے۔ اب امریکہ اور بھارت کے دوران معاہدہ کس کے خلاف ہے؟ اس معاہدے کے مطابق دونوں ایک دوسرے کے فضائی اڈے استعمال کر سکیں گے جیسے ہم نے امریکہ کو اپنے اڈے فراہم کیے تھے۔ امریکہ کو کس کے لیے یہ ضرورت پڑ رہی ہے؟ امریکہ کو تو ضرورت نہیں کہ وہ اپنے اڈے بھارت کو فراہم کرے۔ اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ٹانگ اڑائے؟ اس وقت مسئلہ تو ہمارا ہے۔
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔
آسمان امریکہ میں ہمارے حوالے سے مشورے ہو رہے ہیں۔ اور ہم نے اسی امریکہ کو قبلہ و کعبہ بنایا ہوا ہے۔ یہ ایک خاص معاہدہ ہوا ہے اور بھارت کو 40 عدد ڈرونز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کا اولین ہدف پاکستان اور ثانیاً چین ہو سکتا ہے۔ یہ معاہدہ ہمارے لیے بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں داخلی انتشار ہے اور اس کے خوفناک ہونے کے اندیشے موجودہیں۔ ایک طرف حکومت ہے جو پانامہ لیکس کے حوالے سے کوئی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروانے کے لیے تیار نہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ چاہیے تو یہی کہ اس کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے اور اس کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ حکومت کے لیے اس میں موت ہے۔ لہٰذا وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔ دوسری طرف عمران خان جلسے، جلوس اور دھرنوں پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اس کا حق تو انہیں حاصل ہے۔ پاکستان کی صورت حال پر نظر ڈالیں تو اندرونی خلفشار اور بیرونی خطرات کے نتیجے میں پاکستان کی پوزیشن تشویش ناک ہے۔ خاکم بدہن ایسا لگتا ہے کہ اللہ کی جانب سے مہلت ختم ہونے والی ہے، واللہ اعلم۔ ایک طرف تو ہمارا یہ معاملہ ہے۔ دوسری جانب عالم اسلام کے حوالے سے دیکھا جائے تو اسرائیل نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھتے ہوئے ویسٹ بینک پر دیوار کی دوبارہ تعمیر شروع کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں۔
بڑے پیمانے پر یہودیوں کی آبادکاری کی جا رہی ہے۔ یہ ساری کاروائیاںتیزی کے ساتھ جاری ہیں اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا نام نہادعلمبردارامریکہ اس کی پشت پر کھڑا ہوا ہے۔ فلسطینی بچوں کو حراست میں لے کر غلاموں کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ان کی یہ کوشش ہے کہ فلسطینیوں کی آئندہ نسل کو ختم کردیا جائے۔ ان بچوں کی برین واشنگ بھی کی جارہی ہے۔ ان کی ابلیسی منصوبہ بندی بہت زبردست ہے۔ اللہ کی تدبیر کے مقابلے میں تو شیطان کمزور ہے لیکن اس کے چیلے اس وقت بہت مضبوط ہیں۔ وہ سارے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ امت مسلمہ میں عجیب صورت حال سامنے آ رہی ہے کہ ترکی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ جس کا عالم اسلام امید بھری نگاہ سے دیکھتا تھا اور سمجھتا تھا کہ شاید ترکی کے معاملات بہتر ہو رہے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ امت پر حالات سخت سے سخت تراورکنٹرول سے باہر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ البتہ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ اللہ کے کنٹرول سے باہر نہیں ہیں۔ پاکستان سمیت پورے عالم اسلام پر جو حالات ہیں اس کا سبب دین سے غداری کی انتہاہے۔ عالم اسلام کے 57 ممالک میں کہیں اللہ کا دین قائم نہیں ہے۔ میں پہلے بھی کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ مسلمانان پاکستان کا دوہرا جرم ہے۔
70 سال ہونے کو آئے لیکن یہاں دین کو نافذ نہیں کیا گیا بلکہ اس کے برعکس انگریزوں کے قانون پر من و عن عمل کیا جا رہا ہے۔ اللہ کے دین کے قیام کے لیے جو بھی کوششیں ہوئی ہیں، ان سب کو ناکام کر دیا گیا۔ ایک تو یہی بہت بڑا جرم ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ پڑوسی ملک افغانستان میں شریعت نافذ ہوچکی تھی، اس کو ختم کرنے میں ہم نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ البتہ عالم اسلام میں اللہ کے وفادار بھی ہیں۔ اللہ اپنے وفاداروں کی مدد کرتا چلا آیا ہے، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ ان شاءاللہ وہ وقت آئے گا جب کرئہ ارضی پر اللہ کا دین قائم ہوکر رہے گا۔ لیکن اس وقت ہم اللہ کے عذابات کی زد میں ہیں۔ اگر آج ہم اللہ اور اس کے دین کے وفادار بن جائیں تو اللہ کی رحمت و نصرت ہمارے شامل حال ہوگی۔ ان شاءاللہ۔ اس نے قرآن کریم میں یہ اعلان کر رکھا ہے کہ اللہ لازماً ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ یہ ہمارا امتحان ہے کہ ہم کرئہ ارضی پر اللہ کا دین قائم کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر ہم ایسا کر دیں تو اللہ کے مددگار ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں اگر اللہ ہماری پشت پر آگیا تو دنیا کی بڑی سے بڑی قوت کی اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ راستے ہمارے سامنے موجود ہیں۔ یہ راستہ بڑا آسان ہیں۔ البتہ ہمارا امتحان ہے کہ ہم زبان سے اللہ کو مانتے ہیںلیکن اللہ کی بھی مانتے ہیں یا نہیں۔ اللہ ہمیں اس امتحان میں کامیابی عطا فرمائے،آمین یا رب
العالمین۔
Top