اخلاقی قدریں اور سیاستدان (راشدعلی)

ethical-valuesشیخ سعدی کا مشہور قول ہے ”انسان کی خوبیاں اورخامیاں ڈھکی چھپی رہتی ہیں جب تک وہ خاموش رہتا ہے“۔ اہل دانش بخوبی جانتے ہیں کہ انسانی شخصیت کی پہچان میں بنیادی کردار زبان کا ہے اس کی اہمیت اورافادیت مسلمہ ہے جس سے انکار ممکن نہیں مگر ہمارے معاشرے میں بے لگام زبان کا رجحان دن با دن بڑھتا جارہاہے۔ سیاسی عمائدین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں، کردار کشی سے لے کر گالم گلوچ تک اہل سیاست نے سب کچھ جائز اورحلال سمجھ لیا ہے جبکہ اسلام اور پیغمبر اسلام نے اچھے اخلاق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک تھے “۔ مزید فرماتے ہیں کہ ”میں رسول اللہ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی موٹا اور باریک ریشم نہیں چھوا اور رسول اللہ کے جسم اطہر سے پھوٹنے والی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ کوئی خوشبو کبھی نہیں سونگھی اور میں نے رسول اللہ کی 10 سال خدمت کی آپ نے مجھے کبھی اُف تک نہیں کہا اور جو کام میں نے کیا اس کی بابت یہ نہیں کہا کہ یہ کیوں کیا اور جو کام میں نے نہیں کیا اس کی بابت یہ نہیں کہا کہ اس طرح کام کیوں نہ کیا“۔ (صحیح بخاری)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ سے سوال کیا گیا کہ کون سے عمل انسانوں کازیادہ جنت میںجانے کا سبب بنے گا؟ آپ نے فرمایا ”اللہ کا ڈر اورحسن اخلاق “اور پوچھا گیا کون سے سی چیزیں انسانوں کے زیادہ جہنم میں جانے کاسبب ہوں گی؟ آپ نے فرمایا ”منہ اور شرم گاہ“۔ (ترمذی ) ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓسے بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ”مومن یقینا اپنے حسن اخلاق سے وہ درجہ پالیتا ہے جوایک روزے داراورشب بیدارشخص کے حصے میں آئے گا“۔ اسی ضمن میں یہ روایت ایمان کو مزید جلا بخشنے والی ہے حضرت ابوامامہ باہلی ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ”میں اس شخص کے لئے جنت کے اطراف میں ایک گھرکاضامن ہوں جس نے حق پرہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑدیا ”اپنے حق سے دست بردار ہوگیا“ اور اس شخص کے لئے جنت کے درمیان میں ایک گھرکاضامن ہوں جس نے مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہیں بولا اور اس شخص کے لئے جنت کے بلند ترین حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہوا۔ (ابوداﺅد) یعنی جھگڑا ختم کرنے کے لئے اپنے حق سے دستبردار ہوجانا، بہت بڑاعمل ہے اسی طرح مذاق میں بھی جھوٹ بولنے سے گریز کرنے کا مطلب ہے کہ یہ شخص شریعت اور رسول اللہ کے احکام کو بہت اہمیت دیتا ہے، اس لئے ایسے موقعوں پربھی جھوٹ نہیں بولتا جن موقعوں پر جھوٹ بولنے کو لوگ زیادہ برانہیں سمجھتے بلکہ بہت سے لوگ تو شاید اس کے جواز کے بھی قائل ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کو عام حالات میں جھوٹ سے اجتناب بہت پسند ہے تاہم ان سب میں حسن اخلاق کی فضلیت زیادہ ہے کیونکہ مذکورہ کام بھی حسن اخلاق کے بغیرممکن نہیں یوں گویا حسن اخلاق کو سب پر برتری حاصل ہے۔

حضرت جابرؓسے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا ”قیامت کے روز مجھے سب سے زیادہ محبوب اورہم نشینی کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو تم میں اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہوگا اور تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مجھ سے سب سے زیادہ دور قیامت کے روز وہ ہوں گے جوبہت باتونی تصنع سے باتیں کرنے والے اور تکبر سے باچھیں کھول کھول کر گفتگو کرنے والے ہوں گے“۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کیا یارسول اللہ باتونی اور تصنع سے باتیں کرنے والے کو تو ہم جان گئے لیکن یہ متفیھقون کون ہیں؟ آپنے فرمایا تکبر کرنے والے۔ (ترمذی) مندرجہ بالا روایات سے ثابت ہوگیا ہے کہ اخلاق کا انسانی زندگی میں بہت اہم کردار ہے یہ انبیاءکی میراث اور صدیقین کا افضل عمل ہے متقی لوگوں کی کوشش کا نتیجہ اور عبادت گزار لوگوں کی ریاضت ہے جبکہ بری عادات زہر قاتل اور مہلک ہے یہی عادات یہ وہ خباثتیں ہیں جو ربالعالمین کے قربت سے دور کرتی ہیں ۔ بد اخلاق آدمی کو شیطانوں کے گروہ میں داخل کرتی ہے یہی دروازے ہیں جو اللہ تعالی کی جلائی ہوئی آگ کی طرف کھلتے ہیں جو دلوں پر چڑھتی ہے برے اخلاق دلوں کی بیماریاں ہیں جن سے ابی زندگی خرم ہو جاتی ہے اس مرض کا ان سے کیا مقابلہ جو صرف حیات جسمانی کو زائل کرتی ہیں۔ نبی کریم نے فرمایا ”برے اخلاق سے آدمی جہنم کے نچلے گڑھے میں پہنچ جاتا ہے“ ۔ حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمة اللہ سے متعلق ایک واقعہ منسوب ہے کہ آپ کے ساتھ سفر میں ایک بد اخلاق آدمی شریک ہوگیا، آپ اس کی خاطر مدارات کرتے اور ناز پرداری فرماتے جب وہ جدا ہوا تو آپ رونے لگے رونے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا میں اس پر بطور شفقت روتا ہوں کہ میں تو اس سے الگ ہو گیا اس کی بد اخلاقی اس سے الگ نہ ہوئی۔

ایک طرف بطور مسلم اور انسان ہمیں جھوت، بد اخلاقی اور بدزبانی سے کس قدر منع کیا گیا مگر وہیں ہماری ملکی سیاسی صورتحال کھینچا تانی، الزام تراشیاں، بدزبانی اور ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے والے کام ختم ہی نہیں ہورہے۔ ان اعمال نے ہمارے سیاسی ڈھانچے کی حالت کو بد سے بدتر کردیا ہے اور کوئی اسے سدھارنے کی کوشش نہیں کررہا ہے۔ کتابیں تحریر ہورہی ہیں عزتیں اچھالنے کے لیے لمبی لمبی تقریریں کل حاصل گالیاں اوربہتان بازی ،باتیں روشن پاکستان ،خوشحال پاکستان بنانے کی بھلا کردار کشی کرنے والے کیسے روشن پاکستان بناسکتے ہیں ۔ انسانی تاریخ ایک سبق ہے سیکھنے والوں کے لیے کوئی ایک لیڈر بتائیے جو بدزبان ہو ،ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں ہر فیلڈ میں بدزبان لوگوں پسند ہیں ۔

سیاست میں تو خال خال ہی بہتر لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں اکثر سستی شہرت کے لیے بدزبانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہوچکا ہے۔ امانت، دیانت، صدق، عدل، ایفاے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کمزور پڑتی جارہی ہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے لوگ قومی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ہمارے قومی مزاج میں داخل ہوچکے ہیںیہ وہ صورت حال ہے جس پر ہر شخص کف افسوس ملتا ہوا نظر آتا ہے یادکھنا چاہیے جس معاشرے میں ظلم پنپتا ہو حقوق غصب ہوتے ہیں شریفوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہوں جہاں یتیموں کی کفالت کو شہرت کا ذریعہ سمجھ لیاگیا ہو جہاں نادار کی داد رسی کے لیے ریاکار سلفیاں لیتے ہوں ایسے کم فہم اور کج اخلاقوں کے ذریعے تباہی تو آسکتی ہے انقلاب اور یاپھر کسی قسم کی تبدیلی کبھی ممکن نہیں۔ سیاستدانوں کو سوچنا چاہیے کہ آپ ایک انسان، مسلمان پہلے ہیں اور اس کے بعد سیاستدان ہیں۔

Top