متحدہ متحد نہ رہ سکی! (احمد بن جعفر)

ایم کیو ایم Px11-075KARACHI: Feb11 – Leader of MQM Pakistan Dr Farooq Sattar shaking hands with leader of Pak Sarzameen Party Mustafa Kamal at a seminar at University of Karachi. ONLINE PHOTOسندھ میں مہاجر (اردو بولنے والے افراد) کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعت ہے 1978ء میں کراچی یونیورسٹی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹ آرگنائیزیشن (اے پی ایم ایس او) کے نام سے قائم کی گئی جس کی بنیاد اس وقت کے طالبعلم رہنما نے رکھی۔

بعد ازاں یہیں طلبہ تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے مہاجر قومی موومنٹ بن گئی۔ اس تنظیم نے اپنے دائرے کو وسعت دے کر اسے سندھ کی سیاسی جماعت کا درجہ دے دیا۔ ابتدائی دور میں ایم کیو ایم سے مراد ”مہاجر قومی موومنٹ“ تھا۔ 1997ءمیں اس جماعت نے خود کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اپنا نام متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا اور اپنے دروازے دوسری زبانیں بولنے والوں کے لیے بھی کھول دیے۔

پرویز مشرف کے دور میں متحدہ نے ان کا کاندھا استعمال کرتے ہوئے خود کو ملک گیر جماعت کے طور متعارف کرانا چاہا۔ اس سلسلے میں پنجاب کے مختلف شہروں میں اپنے دفاتر بھی کھولے۔ ان دنوں میں وکلا ججز کی بحالی کی تحریک چلا رہے تھے۔ 11مئی 2007ءسابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی کراچی آمد کے وقت ہونے والے بڑے پیمانے پر فسادات کا الزام ایم کیو ایم پر عاید ہوا جس کے بعد متحدہ کو مشکوک دیکھا جانے لگا۔ شہر میں بھتہ وصولی، ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر سنگین جرائم کا بھی الزام لگتا رہا ہے جس کے حوالے سے بعد میں مصطفی کمال نے بھی اعتراف کیا۔

mqm

کراچی میں ایک وقت ایسا بھی رہا کہ جب شہرمیں ہر طرف خوف و ہراس ہی تھا۔اس کے پس پردہ عوامل سے سب واقف ہیں۔ ماضی میں حکومتوں نے کریک ڈاون بھی کیے جس کے بعد متحدہ مزید منظم انداز میں ابھر کر سامنے آتی رہی۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تو متحدہ ناک کا بال بن کر بیٹھ گئی تھی جس

کی وجہ سے کبھی پر آپریشن نہیں کیا جاسکا۔

اے پی ایم ایس او کے بعد مہاجرقومی موومنٹ پہلی بار 2حصوں میں تقسیم ہوئی۔ 1991ءمیں تنظیم کی قیادت سے سیاسی اختلافات کے بعد عامر خان اور آفاق احمد نے الگ دھڑا تشکیل دیدیا جس کا نام مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کا رکھا گیا۔ دونوں رہنما کئی برس تک ایم کیو ایم حقیقی نامی تنظیم کی قیادت کرتے رہے جس نے آفاق احمد کو چیئرمین اور عامر خان کو سیکرٹری جنرل منتخب کرلیا۔ اپریل 2002 میں آفاق احمد اور عامر خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی کے بھائی کے قتل کے الزام لگایا گیا۔ اپریل 2010 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
مہاجر قومی موومنٹ کی سینٹرل آرگنائزر کمیٹی کے چند رہنما پراسرار طور پر جیلوں سے باہر آ گئے انہوں نے عامر خان کو اپنا چیئرمیں بنانے کا اعلان کردیا۔ مہاجر قومی موومنٹ نے ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے متحدہ کے ساتھ ساز باز کرلی ہے تاکہ آفاق احمد کو تنہا کیا جاسکے۔ بعد ازاں اپریل 2010ءمیں عامر خان نے متحدہ سے مفاہمت کا اعلان کرتے ہوئے بھرے جلسے میں معافی مانگی اور متحدہ کا حصہ بن گئے۔

مہاجر قومی موومنٹ غیر فعال جبکہ متحدہ زور و شور سے کراچی پر حکمرانی کرتی رہی۔ کراچی، حیدر آباد، میر پور خاص، شکار پور اور سکھر کو ایم کیو ایم کے گڑھ رہے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں ایک بڑی سیاسی قوت رکھنے کے ساتھ سندھ کی صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بھی اپنا اثر رسوخ جمائے رکھا۔ متحدہ قومی موومنٹ بننے کے بعد اس جماعت نے دوسرے لسانی گروہوں اور طبقوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے منشور میں ایسے پہلوو ¿ں کو شامل کیا ہے جن کا تعلق نچلے اور درمیانے طبقے سے تھا۔ 2002ءکے انتخابات کے بعد سندھ اور مرکز ی حکومتوں میں 5سال تک حکومت کا حصہ رہی اور صدر مشرف کی پالیسیوں کے حق میں زبردست آواز اٹھاتی رہی۔ پرویز مشرف کی حمایت میں ایک نمایاں کردار رکھنے کے باوجود وہ قومی وسائل کی تقسیم، کالاباغ ڈیم اور کئی دوسرے معاملات پر صدر کی پالیسیوں کی مخالفت بھی کرتی رہی۔ 2008ءکے انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں میں ایک بار پھر ایم کیوایم اکثر سیٹیں جیتیں اور سندہ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل رہی۔

2013ءتک متحدہ کا ایک ایسا نام تھا جس کے سامنے کوئی ٹک نہیں پاتا تھا۔ الیکشن ہوئے متحدہ نے کراچی میں ایک بار پھر سیٹیں لے کر نمایاں رہی تاہم وفاق میں ن لیگ آگئی۔ ن لیگ کا وفاق متحدہ کے لیے ہمیشہ ہی برائی لایا۔ ن لیگ کی حکومت اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں کراچی میں گرینڈ آپریشن شروع ہوا اور متحدہ کے مرکز نائن زیرو پر پہلی بار چھاپاپڑا۔ متحدہ کے کئی رہنماﺅں کو اٹھایا گیا، دفاتر سیل کردیے گئے۔ گویا یہ دور اور وقت متحدہ کے زوال کا تھا، ایم کیو ایم کے بانی اس پر برہم تھے اور میڈیا پر بانی کی نشریات پر پابندی کے فیصلے پر بھی نالاں تھے۔

23مارچ 2016ءکو متحدہ کے منحرف رہنما اور سابق سٹی ناظم مصطفی کمال او انیس قائم خانی کراچی پہنچے ۔ گلے شکوے، الزامات اور کچھ حقیقتیں بیان کر کے بالآخر کراچی کی سیاست میں بھونچال پیدا کردیا اور پاک سرزمین پارٹی کا اعلان کردیا۔ پارٹی بنتے ہی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور لندن کے رہنماﺅں اور کارکنان دھڑا دھڑ پارٹی کو جوائن کرنا شروع کردیا۔ مصطفی کمال کی نئی پارٹی بنتے ہی شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا، الزامات اور مخالفت عروج پر پہنچ گئی۔ بیان بازی کا سلسلہ بھی سختی اختیار کرگیا۔

ادھر چھاپوں، دفاتر پر تالوں اور بانی متحدہ کی تقریر پر پابندی کی خلاف متحدہ قیادت پریس کلب کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئی۔ بانی متحدہ بھی کافی غصے میں اور برہم تھے۔ 23اگست کو بانی متحدہ نے اشتعال انگیز تقریر کی اور پاکستان و فورسز کیخلاف گندی زبان استعمال کی جس کے بعد فاروق ستار نے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے 24اگست کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بنا لی۔ یوں متحدہ پھر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ متحدہ لندن اور متحدہ پاکستان۔

فاروق ستار نے الگ لیڈ کرنے کا اعلان کیا اور یوں متحدہ پاکستان ایکٹو ہوگئی۔ متحدہ پاکستان نے تمام پارٹی فیصلے کراچی سے کرنا شروع کردیے اور متحدہ ایک بار پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے بعد دھیرے دھیرے چلنا شروع ہوگئی۔ بہت سے نشیب و فراز بھی آئے مگر فاروق ستار نے پارٹی کو سنبھالے رکھا۔

2018ءکے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے ایک بار پھر پارٹی سربراہ فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے اختلافات کی بھینٹ چڑھ گئی۔ کامران ٹیسوری کو سینیٹ کی سیٹ دینے پر اختلافات شدید ہوگئے۔ پارٹی سربراہ فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی عامر خان، خالد مقبول صدیقی، نسرین جلیل اور کنور نوید ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے اور یوں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پی آئی بی گروپ اور بہادر آباد گروپ بن گیا۔

6فروری 2018ءکو اختلاف شدت اختیار کر گئے اور رابطہ کمیٹی نے کامران ٹیسوری کی رکنیت معطل کردی۔ بالآخر دونوں جانب سے اپنے اپنے طور پر سینیٹ کی سیٹوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔ ملاقاتیں بھی ہوئیں اورگلے شکوے بھی جاری ہیں۔ ادھر سب سے زیادہ پریشان اور مخمصے کا شکار ہیں تو صرف اور صرف پارٹی کارکنان اور حمایتی۔ انہیں نہیں سمجھ آرہا کہ اب کیا کیا جائے۔ مصطفی کمال نے بھی تمام رہنماﺅں او رکارکنان کے لیے اپنی پارٹی کے دروازے کھول دیے ہیں۔ آنے والے وقت میں پتا چلے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے تاہم اس وقت متحدہ کی صورتحال سے یقینا کراچی کے عوام جس بے یقینی کا شکار ہیں اس سے پارٹی کے آئندے کے الیکشن پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

Top