کراچی کے عوام سے پر امید محمد حسین محنتی کا خصوصی انٹرویو

muhammad Husain Mehnatiانٹرویو: سیدہ عنبر فاطمہ، سیدہ حمیرہ فاطمہ
ایم ایم اے کے کراچی سے امید وار اور جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما محمد حسین محنتی 1946ءمیں بھارت کی ریاست کاٹھیاواڑمیں پیدا ہوئے ۔ تمام مذہبی اور سیاسی حلقوں میں وہ بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وہ 2002ءکے عام انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ محمد حسین محنتی جماعت اسلامی کراچی کے بھی امیر رہ چکے ہیں۔ الیکشن 2018ءمیں حلقہ NA-247 سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ وہ کراچی کے عوام سے کیا امید رکھتے ہیں اور کراچی کے مسائل کو کیسے حل کریں گے، ان سے جانتے ہیں ایک خصوصی انٹرویو میں۔ کراچی اپ ڈیٹس کی ٹیم کی جانب سے کیا گیا انٹرویو قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

muhammad Husain Mehnati1سوال: انتخابی مہم کیسی اور عوامی رد عمل کیسا ہے؟
محمد حسین محنتی: ہم نے اپنی مہم عید کے بعد شروع کی ہے، مختلف علاقوں میں گے ، ڈورٹوڈور ملاقاتیں اور اجلاس کیے۔ گھروں اور دفاتر میں بھی ہم نے ملاقاتیں کیں۔ الحمد للہ مہم بہت اچھی چل رہی ہے۔ عوام کا ریسپونس بہت اچھاہے۔ دیگر پارٹیوں نے عوام کو بہت مایوس کیا ہے، تو اس لے عوام کی توجہ ہم لوگوں کی طرف ہے۔ طویل عرصہ وہ لوگ حکومت میں ہیں اور منتخب بھی ہوتے رہے ہیں ان علاقوں سے پر عوام کے مسائل کو حل نہ کر سکے اس لے عوام کو ہم سے کافی امےدے ہے اور انشاءاللہ ایم ایم اے کامیابی حاصل کرے گی اور عوام کی امیدوں پر پورااترے گی۔

سوال: ایم کیو ایم کہتی ہے انہیں مہم سے روکا جارہا ہے ، کیا یہ درست بات ہے یا پھر شکست کا خوف ہے؟
محمد حسین محنتی: اگر کوئی ایسی بات ہورہی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ مہم کی آزادی میں تمام پارٹیوں کو پورا حق ملنا چاہیے البتہ جس طرح قبضہ مافیہ نے ماضی میں کیا ہے اس طرح کی کسی کو بھی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

سوال: ایم ایم اے کا اتحاد پہلے کیوں ختم ہواتھااور اب دوبارہ کیوںہوا؟
محمد حسین محنتی:دیکھیں ایم ایم اے 2002میں بنی، الحمداللہ اس سے اچھے نتائج نکلے، دینی جماعتوں کو پارلمینٹ میں 20%نمائندگی ملی تھی۔ 70سیٹیں ہم نے پارلمینٹ میں حاصل کی تھیں،بہرحال بہت ساری جماعتوں کا مل بیٹھنا جو ہے،اس میں کچھ دشواریاں بھی آتی ہیں۔اس الیکشن کے دوران JUIس جو ہے ہم سے الگ ہوگی تھی اور حکومت کے ساتھ انہوں نے مل جل کر کام کرناشروع کردیاتھا اس لے پھر وہ آوٹ ہوگئے تھے ہمارے سے ،2008میں ہم نے بائیکاٹ کیا تھا،2013میں ہم نے الیکشن لڑکے دیکھا انہوں نے بھی الگ سے الیکشن لڑکے دیکھاتو ہم سب کو ریلیزہواکہ الگ الیکشن لڑنے میں ہمارے فوائد نہیں۔جس طرح سے مل جل کے 2002میں ملے تھے اس دفعہ بھی توقع ہے اس لے یہ اتحاد بحال کیاہے مل جل کر جدوجہد کررہیں ہیں۔ انشاءاللہ امید ہے کہ اچھے نتائج آئیں گے۔خاص طور پر کراچی شہر میں جہاں ایم کیو ایم کی بڑی طوطی بولتی تھی۔ 2002میں انہوں نے بہت ساری وہی ٹیکنک اختیارکی تھی اس کے باوجود بھی ہمیں کراچی میں 20میں سے 5نشیٹیں ملی تھیں اور 5,4نشیٹیںانہوںنے حکومت کے ساتھ مل کر ہماری جیتی ہوئی سٹیں ہمارے خلاف اصلاح دے کر ہمارے خالف حاصل کرلی تھی۔ انشائاللہ اس مرتبہ عوام نے اس کو بھی دیکھ لیاہے، دوسرے لوگوں دیکھ لیاتوقعات بہت اچھی ہیں کہ انشاءاللہ ایم ایم اے ایک بہت بڑی پارٹی بن کر انوسٹ کرے گی۔

سوال: 2018 کے الیکشن میں آپ ایم کیو ایم کی کیا پوزیشن دیکھتے ہیں؟
محمد حسین محنتی:ایم کیو ایم نے بہرحال اپنے کینڈیڈ تو put upکر دے ہیں، لیکن شاید ان کے پاس ورکرز کی تعدادکم ہیں ان کے ورکرز پی یس پی میں چلے گے ہیں اس لے وہ پوری طرح سے میدان میں نظر نہیں آتے ہیں۔ حالانکہ کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہیے،پہلے بھی وہ لڑتے رہے ہیں،فاروق ستار صاحب ان کی قیادت کررہے ہیں اس کے باوجود بھی ان کی پوزیشن حلقوں میں کم نظر آتی ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کو اس بات کا علم بھی ہوگا کیونکہ 30سال کراچی میں حکمرانی کے باوجود کراچی کو کچھ نہیں دیابلکہ کراچی سے اس کا جو بڑاتشکر تھاایک ابھرتے ہوئے شہرکا،ایک روزگار والے شہر کا،تعلیم کے مرکز کا وہ ان کی وجہ سے ختم ہواہے اوراب ان کو خوف ہے کہ اب لوگ آزادنہ ماحول میں ووٹ دلنے جائے گے تو ان کو وہ پوزیشن نہیں ملے گی۔

سوال: آپ کو لگتا ہے اس بار الیکشن کیسے ہوگئے،دھاندلی ہوگی یا نہیں ؟
محمد حسین محنتی: بہرحال الیکشن تو ایک معرکہ ہے، جدوجہد کرنی چاہیے لیکن ہمیںبڑاافسوس ہے کہ ہماری انڑگورنمنٹ ،الیکشن کمیشن اور جو گزشتہ عرصہ دھاندلی کو روکنے کے لے قانون سازی کی وہ اس بار بھی ہونی چاہیے ،کراچی میں کچھ پارٹیاں ہے جن کو دھاندلی کا مزہ لگاہوا ہے وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ پولنگ اسٹیشن پر قبصہ کریں اورٹھپے لگاکر اپنے آپ کو فاتح قرار دینے کی کوشش کریں۔

سوال: جماعت اسلامی نے پچھلی بار بائیکاٹک کیاتھاتو کیا نقصان ہوا اور کیا فائدہ ہوا؟
محمد حسین محنتی:اس وقت حالات میں ٹینشن تھی، ہمارے فیصلے سازی میں عجلت ہوئی، ہمیں بعد میں ریلازہوا،اور آج بھی ہمیں لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ بائیکاٹ تو نہیںکر جائیں گے۔ اس سے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ جس کی ہم ان سے معذرت چاہتے ہیں اور ان کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم بائیکاٹ نہیں کریں گے آخروقت تک ساتھ کھڑے ہیں گے، اس مرتبہ تو شایددوسرے لوگ بائیکاٹ کریں گے۔ ہماری پوزیشن الحمداللہ بہت بہترہے۔

سوال: جو علاقے آپ کے حلقہ میں آتے ہیں ان میں پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم کااثرواسورخ رہا ہے تو آپ کے خیال میں اس بار عوام کچھ تبدیلی لائے گی یا۔۔۔۔؟
محمد حسین محنتی:اس وقت ہم نے ڈیفنس میںخاصا وقت گزاراہے، مارکیٹوں اور گھروں میں بھی گے ہے اور لوگوں سے ذاتی طور پر بھی بات کی ہے، توایک تاثرمحسوس ہورہاہے کہ ان کا گزشتہ انتخابات میں جو فیصلہ تھا وہ غلط تھا کیونکہ ان نمائندوں نے علاقوں اور بستیوں کا رخ تک نہیں کیا اور ان کے مسائل جوں کے توں کھڑے ہیں، لوگ بہت پریشان ہے۔ ہماری توقعات اچھی ہے۔2002میں ایم ایم اے کی شکل جو الیکشن لڑاتھااس وقت عبداستارافغانی صاحب کراچی میں میئررہے ہیں اور ایم ایم اے نے وہ سیٹ حاصل کی تھی اور ہم پھر دوبارہ ایم ایم اے کے پلٹ فارم سے لوٹ رہے ہیں اور انشاءاللہ امید ہے کہ حالات میں تبدیلی آئے گی ،لوگوں میں سوچ و فکر اور شعور پیدا ہوا ہے اور توقع ہے کہ وہ ایم ایم اے کا ساتھ دئیں گے۔

سوال: پچھلی دفعہ پی ٹی آئی سے اتحاد کیا تھا تو اس دفعہ کیوں نہیں کیا اور پچھلی دفعہ کیوں کیا تھا؟
محمد حسین محنتی:اس بار اس لے کیاتھا کہ ایم کیو ایم جو ہے وہ اس وقت بڑے زورآور تھی اوران کو بہت سپورٹ تھی اس لے ہم نے فیصلہ کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرکے مل کر الیکشن لڑئیں گے۔اس مرتبہ بھی ہماری خواہش تھی کہ ہم ایم ایم اے کے سوائے کیسی اور کے ساتھ بھی اتحاد کریں ، لیکن تمام پارٹیوں کو بڑا زوم ہے کہ وہ جیت رہے ہیں۔

سوال: آپ کو کیا لگتا ہے کہ کون سی پارٹی ٹف ٹائم دے سکتی ہے؟
محمد حسین محنتی:اس وقت حکومت اور میڈیا عمران خان کے ساتھ زیادہ چل رہا،الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹس لیناچائیے اور فئیر الیکشن کے لے جتنے بھی اقدام ہو کرنے چاہیے، لیکن ہمارا عزم وحوصلہ زیادہ بڑاہے۔پی ٹی آئی نے کونسا کراچی میں اپنے حلقوں میں ڈیلیور کیا ہے اور نہ ہی کے پی کے میں انہوں نے کچھ کیا ہے۔اس لے انشاءاللہ ہم کو موقع مے گا اور ہم پارلمینٹ میں بڑی کامیابی حاصل کریں گے اور کراچی شہر مظلوم شہر کی خدمت کریںگے۔

سوال: ووٹروں اور کراچی اپ ڈیٹس کے قارئین کے لے کیا پیغام دیں گے؟
محمد حسین محنتی:میں بس یہ بات کہناچاہتاہوں کہ انتخابات جو ہیںوہ قوموں کی زندگیوں میںبڑافیصلہ کن ہوتے ہیں اور قوم کی قسمت کو بدلنے کے لے بڑاذریعہ ہوتا ہے۔70سال سے لوگ ملک میں دھکاکھارہے ہیں۔ ہماری حکومتوں نے بنیادی ضروریات پانی، بجلی جس کے بغیر انسانی زندگی میں بڑی روکاوٹیں، بڑے مسائل پیداہوتے ہیںوہ تک ہم نے عوام کو فرائم نہیںکیا ہے۔اس لے میں کہوںگاکہ سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالیں اور جن پارٹیوں نے ڈیلور نہیںکیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے ان کو ووٹ ڈالنا جو ہے اپنے مسائل میں اضافہ کرنے کے متعارف ہوگا۔ دوسری بات ووٹروں سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے سامنے دس چیزیں پڑی ہوں، ان میں سے آپ بہتر کو منتخب کریں۔ ووٹروں کو چاہئیے کہ وہ پارٹیوں کا انتخاب کرتے ہوئے، امیدواروں کاجائزہ لیں، ان کو تولیں، ان کے ماضی کو دیکھیں، ان کے حال کو تمام چیزوں کی چانچ پڑتال کریں، اس کے بعد اچھا چناﺅ کریں، اچھا انتخاب کریں۔ مجھے امید ہے، ہماری عوام میں شعور بیدار ہورہا ہے۔ ہم لوگوں نے دیکھا کہ جن لوگوں نے کارکردگی نہیں دیکھائی ان کو خاصی دشواری کا سامنہ ہو رہاہے حلقوں میں جانے میں، امید ہے کہ عوام نعرہ بازی پر، شو شا پر، تعصبات کی بنیاد پر ووٹ نہیں دے گی۔ انشاءاللہ پارٹیوں کے کردار، ان کے امید واروں کے عزم و حوصلہ، ان کی کارکردگی پر ووٹ دے گی۔ اس لے میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سوچ سمجھ کر ووٹ دے، متحدہ مجلس عمل ایک اسلامی اتحاد ہے، ایک حب الوطنی کا اتحاد ہے اور ملک کے اندر ایک بڑی تبدیلی لانے کے لئے، انقلاب لانے کے لئے، عوام کو چاہیے کہ وہ متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دے اور ہم بھی عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر متحدہ مجلس عمل کو موقع ملا تو انشاءاللہ ملک میں بہتر کارکردگی دیکھیں گے، روزگار لائیں گے، تعلیم لائیں گے، خوشحالی لائیں گے، ترقی لائیں گے، صوبے کو بہتر بنائیں گے، کراچی شہر، جو ہم سب کا بڑا پیارا چہر ہے، اس کی خدمت کا عزم و حوصلہ رکھتے ہیں اور کراچی شہر کو ایک پاکیزہ، اچھا، فلاحی اور محبتوں والا شہر بنائیں گے۔

 

Top