پیپلز پارٹی کی بہادر رہنما سیدہ شہلا رضا کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: الفت اکرم، احمد بن جعفر
سیدہ شہلا رضا اپنی نوعمری سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کے ساتھ ہیں۔ شہلا رضا کا تعلق سادات خاندان س ہے اور اردو اسپیکنگ ہیں۔ انگریزی پر بھی عبور حاصل ہے۔ ان کے نانا اور دادا آپ میں کزن تھے اور بھارتی صوبے یوپی سے ہجرت کے کر خیر پور میرس میں رہائش اختیار کی۔ شہلا رضا کے نانا پیپلز پارٹی کے قیام میں اپنے علاقے کے پہلے صدر بنے تھے۔
shehla raza 03
شہلا رضا کو ابتدا سے ہی سیاست میں حصہ لینے کا شوق تھا۔ کراچی یونیورسٹی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا حصہ بھی رہیں۔ 1990میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو شہلا رضا کو گرفتار کرلیا گیا۔ سی آئی اے سینیٹر میں ایک ماہ تک قید رہیں۔ سی آئی اے سے ہی شہلا رضا نے فائنل ایئر کا امتحان دیا۔ کم عمری سے ہی باہمت اور حالات کا مقابلہ کیا۔
1991میں ان کی شادی غلام قادر سے ہوگئی، ان کے شوہر کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے۔ غلام قادر ایک بہترین لکھاری بھی ہیں۔ شہلا رضا کے 2 بچے تھے۔ بڑی بیٹی عکس بتول اور چھوٹا بیٹا دونوں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ اس وقت وہ ٹیکسی میں گلشن اقبال سے سہراب گوٹھ کی جانب جارہی تھی کہ راستے میں ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ اس سب کے باوجود انہوں نے ٹیکسی ڈرائیور کو معاف کردیا۔شہلا رضا 9سال سے سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر رہیں ہیں اور اپنی ذمے داری کو خوب انداز میں نبھایا۔ اس وقت شہلا رضا عمران کے مقابلے میں کراچی کے حلقہ این اے 243گلشن اقبال سے کھڑی ہورہی ہیں۔
ان کی مہم کیسی جارہی ہے اور وہ کیا نیا کرنے جارہے ہیں اس حوالے سے کراچی اپ ڈیٹس کی جانب سے کیے گئے ایک انٹرویو میں جانتے ہیں۔

سوال: آپ کے مقابلے میں مظبوط امیدوار ہیں کیا لگتا ہے جیت جائیں گی؟
شہلا رضا: کراچی کے دیگر علاقوں طرح اس حلقے میں پیپلز پارٹی نے عوامی فلاح کے وہ کام کیے ہیں جنہیں شمار کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہماری تمام تر توجہ عوام کی جانب ہے تو عوام سے توقع ہے کہ وہ بھی ایسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جو ان کی اپنی پارٹی ہے اور ان کے حلقے میں ہے۔ جہاں تک دوسری پارٹیوں کی بات ہے تو وہ نہ پہلے تھے اور نہ اب کہیں نظر آئیں گے۔ مجھے ان کا مقابلے میں کھڑا ہونا دور تک دیکھائی بھی نہیں دے رہا۔

shehla raza 03

سوال: آپ کی مہم کیسی چل رہی ہے، الزام عاید کیا گیا کہ مہم میں سرکاری مشنری استعمال ہورہی ہے؟
شہلا رضا: مہم بہت اچھی جارہی ہے۔ ہم نے ڈور ٹو ڈور اپنی کمپئن شروع کی ہوئی ہے۔ جہاں بھی گئے ہیں ہمیں عوام کا بھرپور ساتھ ملا ہے۔ جہاں تک یہ الزام ہے تو یقینا الزام ہی ہے۔ پہلی بات تو ہے کہ یہ سب سیاسی مینڈک ہیں جب مشکلات ہوتی ہے تب کوئی نظر نہیں آتا اور اب ان سب کو سب کچھ نظر آنے لگا ہے۔ ایسی بات ہرگز نہیں کہ سرکاری مشنری لگائی جارہی ہے۔ ہمیں وفاق نے فنڈز دیے کب تھے۔ پورے پیسے ملتے تو ہم اپنے صوبے پر نہ لگاتے اور بہتر کرتے۔ تو جھوٹ کے سر پاﺅں نہیں ہوتے یہ بھی ویسا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

سوال: ملک میں پانی کا مسئلہ ہے، مگر اب تو شہر میں پانی کا مسئلہ ہے اس کا کیا حل ہے ؟
شہلا رضا: پہلی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پانی کا یقینا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ ہم سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ ہمیں پانی ملتا تو ہماری زمین بنجر ہوتیں۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں زراعت کی حالت سنگین حدتک ناگفتہ بے ہے۔اس کا حل تو سیدھا سیدھا ہے کہ بھارت پاکستان کے پانی پر قبضہ کررہا ہے تو عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے۔ بھارت پر دباﺅ ڈالا جائے کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ کریں۔پانی کے حوالے سے ہم نے اہم ترین اقدامات اٹھائے تھے۔ منگلا ڈیم ہم نے قائم کیا تھا ۔ہم بڑے ڈیم کے بجائے چھوٹے ڈیم کے حامی ہیں اور سندھ میں ہم نے چھوٹے ڈیم صحیح بھی کیے اور بنائے بھی ہیں۔
جہاں تک بات ہے کراچی میں پانی کے مسئلے کی تو 1956سے 2لائنیں پانی دیتی تھیں تیسری لائن بے نظیر بھٹو کے زمانے میں ڈلوائی گئی۔ K4منصوبے کی بہت باتیں کی گئی۔ مگر وہ سب باتوں کی حدتک رہا۔ ہم نے اس منصوبے کے لیے راہیں ہموار کیں۔ ہم چاہتے تھے کہ عوام کو پانی فراہم کیا جائے۔
غیر قانونی ہائیڈرنٹس تھے ان کا خاتمہ کیا۔ کراچی میں پانی کا مسئلہ ویسانہیں ہے جیسا پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں پانی کی مقدار آبادی سے کم ہے۔ بے ہنگم آباد کاری میں ہم کہاں سے پانی فراہم کرسکتے ہیں۔ پھر کراچی کی لوکل گورنمنٹ برسوں سے کام کر رہی ہے مگر شہر کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ سب صورتحال کے باوجود ہم نے بلا امتیاز پانی کے مسائل کو حل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لیے مزید کام جاری ہے۔

سوال: کیا الیکشن میں باقی پارٹیوںکی طرح آپ بھی طفل تسلیاں دے رہیں یا واقعی میں کچھ کرینگے؟
شہلار ضا: دیکھیں میں نے پہلے بھی بتایا کہ ہم کوئی طفل تسلیاں نہیں دے رہے بلکہ وہ کریں گے جو ہم نے پہلے بھی کر کے دیکھایا ہے۔ ہم کسی کو کوئی ایسا وعدہ نہیں کررہے کہ جسے ہم پورا نہ کرسکیں۔ باقی سب لوگ نوجوانوں کی باتیں کرتے ہیں مگر کہیں بھی قیادت میں کوئی نوجوان نہیں ہے۔ الحمدللہ ہمارے پاس بلاول بھٹو زرداری نوجوان ہیں اور ایک نوجوان چیئرمین کی صورت میں ان کی پالیسیاں بھی ویسی ہیں۔ تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں بلاول بھٹوزرداری جو بات کررہے ہیں وہ یقینا پوری بھی ہوگی۔

سوال: لیاری پیپلز پارٹی کا گڑھا سمجھا جاتا تھا، مگر شاید ان کا اب پارٹی پر بھروسہ نہیں رہا، گزشتہ دنوں کے حالات دیکھ کر؟
شہلا رضا: لیاری کے واقعے پر میڈیانے غیر ذمے دارانہ اور غیر مصدقانہ رپورٹنگ کی جس کی میں مذمت کرتی ہوں۔ ایسے باور کرایا گیا کہ پورا لیاری ہی چیئر مین کے خلاف نکل آیا ہو۔ لیاری کسی ایک جگہ کا نام نہیں ہے۔ پورے علاقے کا نام لیاری ہے۔ جس جگہ احتجاج ہوا وہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے جہاں کچھ شر پسند آئے تھے یہ اسی جگہ آئے تھے جہاں پہلے بھی ہمارے رکن سندھ اسمبلی رہ چکا ہے۔ اس معاملہ یہ تھا کہ ان کے بھائی کو شہید کیا گیااور یہ سب لوگ اس شہید کے قاتلوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ یہ سب جانتے ہیں کس نے شہید کیا ہے۔ مگر اس ساری صورتحال میں سب اہم بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو ایک پر امن لیڈر ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کہیں خون خرابہ یا کچھ شرپسندی پھیلے۔ اس لیے وہ وہیں واپس آگئے۔ کچھ ہی دیر بعد بلاول واپس آئے اور پھر اس کے ساتھ کتنے لوگ تھے۔ میڈیا کا مسئلہ نہیں ہم لوگوں کے دل جیت رہے ہیں اور عوام ہمارے ساتھ ہیں۔

سوال: پیپلز پارٹی کا بنیادی نعرہ روٹی کپڑا اور مکان ہے، تعلیم و صحت اہمیت نہیں رکھتی کیا؟
شہلا رضا: ہرگز ایسا نہیں کہ تعلیم و صحت اہمیت نہیں رکھتی۔ لازمی نہیں ہوتا کہ جب کوئی بات کی جائے تو وہیں ہوتی ہے۔ وہ ایسی بنیادی چیزیں ہیں جن کے بغیر گزارہ نہیں۔ جب کہ تعلیم و صحت کے حوالے سے ہمارے اقدامات نمایاں ہیں۔ آپ لیاری سے ہی شروع کرلیں۔ جہاں گینگ وار کی بہتات تھی۔ لیاری نوگوایریا کہلاتا تھا۔ بلوچوں کے علاوہ کوئی وہاں جا نہیں سکتا تھا۔ مگر پیپلزپارٹی بدولت آج وہاں میڈیکل کالج ہے، گائنی لیزر سرجری ہو رہی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے ایک ہی کراچی یونیورسٹی تھی جو شاید ہمیں ملی تھی ہم نے لیاری کو ایک جنرل یونیورسٹی دی۔ سندھ میڈیکل اور ڈاﺅ میڈیکل کالج ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بنا ان ای ڈی یونیورسٹی بھی ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ ہے۔ جب ہم دوبار گورنمنٹ میں آئے ہیں ہم نے سندھ مدرستہ الاسلام کو سندھ جناح میڈیکل یونیورسٹی بنایا جو پاکستان کی سب سے بڑی میڈیکل یونیورسٹی ہے۔یہ سب کام ہمارے ہیں اور ہم نے تعلیم پر فوکس رکھا اور ہمارا مشن تعلیم، صحت اور عوام کے بنیادی مسائل کا حل ہے۔

سوال: الیکشن 2018ءمیں پیپلزپارٹی کی توجہ کس پر ہے؟
شہلارضا: سیدھی سی بات ہے کہ ہم نواز شریف نہیں ہیں جو ایک شہر پر ہی فوکس رکھیں۔ ہم نے پلان تشکیل دے دیے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ امن و امان سمیت ملکی ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل کیا ہیں۔ تو ایک شہر یا صوبہ نہیں بلکہ پورا پاکستان ہی ہماری توجہ کا مرکز ہے۔ ان شاءاللہ ہم وقت آنے پر یہ بھی دیکھا دیں گے۔

سوال: سب جماعتیں کراچی کی طرف متوجہ ہیں، اس کی کوئی خاص بات؟
شہلا رضا:یہ بات روز اول سے سب جانتے ہیں کہ کراچی کی اہمیت ہے۔ یہ اہمیت کراچی کی معاشی حب ہونے کی وجہ سے بھی ہے اور کراچی کے شہریوں کے باشعور ہونے کی وجہ سے بھی ہے۔ ہم نے بنیادی کام کرائے مگر آج سب کو لگتا ہے کہ وہ آئیں گے اور کراچی سے اپنا حصہ وصول کر کے چلے جائیں گے۔ یہ بات شروع دن سے ہی المیہ رہا ہے کہ کراچی کو ہمیشہ باہر والوں نے آکر لوٹا۔ ہم کراچی کو بنانا چاہتے ہیں اور باہر والے صرف کھانا اور دھوکا دینا جانتے ہیں۔ میں آپ کے اس ویب سائٹ کراچی اپڈیٹس کے توسط سے یہ بات اہل کراچی کو بتانا چاہوں گی کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ یہ لوگ کبھی بھی آپ کے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے۔ آپ کے ساتھ صرف اور صرف ہم ہیں، پیپلز پارٹی ہے کیوں کہ وہ آپ کی جماعت ہے۔تو اس بار اپنا ووٹ سوچ سمجھ کردیں۔ تاکہ آئندہ آپ کو پچھتانہ نہ پڑے۔ بہت شکریہ آپ لوگوں کا کہ موقع دیا کراچی والوں کے لیے میرا پیغام پہنچانے میں۔

سوال: آپ ڈپٹی اسپیکر اسمبلی رہیں، کیا ´ تاثرات ہیں؟
شہلا رضا: میں بہت خوش ہوں کہ آج لوگ مجھے جانتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کسی ایک زبان بولنے والوں کی پارٹی نہیں یہاں جس نے کام کیا وہ آگے آیا ۔ایک عورت ہونے کے ناطے یہ ولڈ ریکارڈہے کہ میں 7مرتبہ گورنر رہی ہوں۔ سب جانتے ہیں میری قیادت میں اسمبلی تھی یا صوبہ ، میں نے خوب سے خوب تر ہوکر اپنی ذمے داری ادا کی۔

Top